Maulana Wahiduddin Khan
9 min left
0:00

← Raah-e-Amal Maazi,Haal aur Mustaqbil ka Jayeza
Raah-e-Amal Maazi,Haal aur Mustaqbil ka Jayeza

Karne ka kaam

Urdu · 9 min

کرنے کا کام۔ اسلام چونکہ آخری دین ہے، اس لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے وجود کے اعتبار سے قیامت تک باقی رہے؛ اسی لیے دین کا تحفظ بھی ایک ضروری اور مطلوب کام ہے۔ موجودہ زمانے کی بعض تحریکوں نے اس اعتبار سے یقیناً مفید خدمات انجام دی ہیں: وہ اسلام کے فکری اور عملی نقشے کی محافظ ثابت ہوئی ہیں۔ بعض ادارے قرآن اور حدیث اور اسلامی مسائل کے علم کو زندہ رکھے ہوئے ہیں، بعض جماعتیں اسلامی عبادات کے ڈھانچے کو ایک نسل سے دوسری نسل تک پہنچانے کا کام کر رہی ہیں، کچھ اور ادارے قرآن و حدیث کا متن صحت و صفائی کے ساتھ چھاپ کر ہر جگہ پھیلا رہے ہیں۔

یہ تمام کام بجائے خود مفید ہیں، مگر بہرحال وہ تحفظِ دین کے کام ہیں، نہ کہ دعوتِ دین کے۔ جہاں تک اسلام کو دعوتی قوت کی حیثیت سے زندہ کرنے کا سوال ہے، وہ موجودہ زمانے میں ابھی تک واقعہ نہ بن سکا۔ حتیٰ کہ بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ لوگوں کو شاید اس کا شعور بھی نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اکثر ایسے کاموں کو اسلامی دعوت کا عنوان دے دیتے ہیں جن کا اسلامی دعوت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔

پندرہویں صدی ہجری میں کسی حقیقی اسلامی کام کے آغاز کی واحد صورت یہ ہے کہ ہم اس صورتحال کو ختم کریں جس نے ساری دنیا میں اسلامی تحریک کو سیاسی تحریک کے ہم معنی بنا رکھا ہے۔ مسلمان ہر ملک میں وقت کے حکمرانوں کے خلاف شور و شر برپا کرنے میں مشغول ہیں۔ کہیں ان کی یہ تحریک غیر مسلم اقتدار کے خلاف برپا ہے، اور کہیں مسلم اقتدار کے خلاف۔ کہیں وہ مسلح جدوجہد کے روپ میں ہے، اور کہیں زبانی اور قلمی احتجاج کے روپ میں۔

کہیں وہ ایک اسلامی سیاسی فلسفے کے زیرِ سایہ کام کر رہی ہے، اور کہیں فلسفہ اور نظریے کے بغیر متحرک ہے۔ کہیں اس نے ملی عنوان اختیار کر رکھا ہے، اور کہیں نظامی عنوان۔ تاہم، سارے فرق و اختلاف کے باوجود نتیجہ سب کا ایک ہے: جدید امکانات کو دعوتِ توحید اور انظارِ آخرت کے لیے استعمال نہ کرنا، اور اپنی قوتوں کو بے فائدہ طور پر مفروضہ حریفوں کے خلاف مہازارائی میں ضائع کرتے رہنا۔ اس اعتبار سے دیکھیے تو مسلمانوں نے موجودہ زمانے میں بالکل الٹی کارکردگی کا ثبوت دیا ہے، جس نے— اس اعتبار سے دیکھیے تو مسلمانوں نے موجودہ زمانے میں بالکل الٹی کارکردگی کا ثبوت دیا ہے— خدا نے دعوتِ حق کی راہ سے سیاسی رکاوٹ کو دور کر کے انہیں موقع دیا تھا کہ وہ آزادانہ حالات میں خدا کے تمام بندوں تک خدا کا پیغام پہنچا دیں۔

وہ خدا کے بندوں کو خدا کی اس اسکیم سے باخبر کر دیں جس کے تحت اس نے انسان کو پیدا کیا ہے، اور جس کے مطابق وہ ایک ایک شخص کا حساب لینے والا ہے۔ مگر انہوں نے دوبارہ نئے نئے عنوان سے اپنے خلاف سیاسی رکاوٹیں کھڑی کر لیں۔ خود ساختہ سیاسی جہاد میں ہر ایک مشغول ہے، مگر دعوتی جہاد میں اپنا حصہ ادا کرنے کی فرصت کسی کو نہیں۔ قرآن میں ہے کہ اللہ اس کی مدد کرتا ہے جو اللہ کی مدد کرے۔

الحج، سورہ نمبر 22، آیت 40۔ ہر دور میں خدا اپنے دین کے حق میں کچھ امکانات کھولتا ہے۔ اس وقت ضرورت ہوتی ہے کہ کچھ لوگ ہوں جو خدا کے اشارے کو سمجھیں اور خدا کے منصوبے میں اپنے آپ کو شامل کر دیں۔ صحابہ کرام وہ خوش نصیب لوگ ہیں جنہوں نے اپنے زمانے میں خدائی منصوبے کو سمجھا اور اپنے آپ کو پوری طرح اس کے حوالے کر دیا۔

اس کا نتیجہ وہ عظیم انقلاب تھا جس نے انسانی تاریخ کے رخ کو موڑ دیا۔ بارش کا آنا خدا کے ایک منصوبے کا خاموش اعلان ہے۔ یہ کہ آدمی اپنا بیج زمین میں ڈالے تاکہ خدا اپنے کائناتی انتظام کو اس کے موافق کر کے اس کے بیج کو ایک پوری فصل کی صورت میں اس کی طرف لوٹائے۔ کسان اس خدائی اشارے کو فوراً سمجھ لیتا ہے اور اپنے آپ کو اس خدائی منصوبے میں پوری طرح شامل کر دیتا ہے۔

اس کا نتیجہ ایک لہلہاتی ہوئی فصل کی صورت میں اس کو واپس ملتا ہے۔ اسی طرح موجودہ زمانے میں ہزار سالہ عمل کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کے حق میں کچھ نئے مواقع کھولے تھے۔ یہ مواقع کہ اقتدار کا حریف بنے بغیر توحید اور آخرت کی دعوت کو عام کیا جائے۔ جو کام پہلے معجزاتی سطح پر انجام دینا پڑتا تھا، اس کو عام طبیعاتی استدلال کی سطح پر انجام دیا جائے۔

جو کام پہلے تعصب کے ماحول میں کرنا پڑتا تھا، اس کو مذہبی رواداری کے ماحول میں کیا جائے۔ جو کام پہلے حیوانی رفتار سے کیا جاتا تھا، اس کو مشینی رفتار کے ساتھ انجام دیا جائے۔ یہ موجودہ زمانے میں خدا کا منصوبہ تھا۔ خدا نے سارے بہترین امکانات کھول دیے تھے، اور اب صرف اس کی ضرورت تھی کہ خدا کے کچھ بندے ان کو استعمال کر کے ان امکانات کو واقعہ بننے کا موقع دیں۔

مگر مسلم قیادت خدا کے اس منصوبے میں شامل ہونے کے لیے تیار نہ ہوئی۔ اس نے نئے نئے عنوانات کے تحت وہی سیاسی جھگڑے دوبارہ چھیڑ دیے جن کو خدا نے ہزار سالہ عمل کے نتیجے میں ختم کیا تھا۔ انہوں نے اسلامی دعوت کو سیاسی اور قومی دعوت بنا کر دوبارہ اسلام کو اقتدار کا حریف بنا دیا، اور کہا کہ یہی عین خدا کا پسندیدہ دین ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مدعو قوموں کے ساتھ ہر جگہ بالکل بے فائدہ قسم کی مقابلہ آرائی شروع ہو گئی، اور سارے نئے امکانات غیر استعمال شدہ حالت میں پڑے رہ گئے۔

کام کی 100 سال سے بھی زیادہ لمبی مدت مسلمانوں نے کھو دی، یہاں تک کہ شیطان نے بیدار ہو کر قدیم شرک کی جگہ جدید شرک یعنی کمیونزم کی صورت میں کھڑا کر دیا۔ اب کمیونزم کے زیرِ تسلط علاقوں میں وقتی طور پر کام کرنے کی وہی مشکلات پیدا ہو گئی ہیں جو اس سے پہلے شرک کے زیرِ تسلط علاقوں میں پائی جاتی تھیں۔ تاہم غیر کمیونسٹ دنیا میں اب بھی کام کے مواقع کھلے ہوئے ہیں، اور یہاں پندرہویں صدی ہجری میں اس صالح جدوجہد کا آغاز کیا جا سکتا ہے جو چودھویں صدی ہجری میں نہ کیا جا سکا۔ نوٹ: یہ مقالہ اسلامی سیمینار یعنی بھوپال میں 18 جنوری 1981 کو پڑھا گیا۔

کتاب: "راہِ عمل" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 186۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.