← Raah-e-Amal Maazi,Haal aur Mustaqbil ka JayezaRaah-e-Amal Maazi,Haal aur Mustaqbil ka Jayeza
Da,wat aur amal
Urdu · 7 min
دعوت اور عمل: کوئی داعی اس وقت اللہ کی نظر میں داعی ہے جبکہ وہ داعی ہونے کے ساتھ عامل بھی ہو۔ آدمی جب کسی دوسرے شخص کو نیکی کی تلقین کرے تو سنجیدگی کا تقاضا ہے کہ وہ خود بھی اس پر کاربن ہو۔ حضرت شعیب نے اپنی قوم سے فرمایا کہ میں نہیں چاہتا کہ میں خود وہی کام کروں جس سے میں تم کو روک رہا ہوں۔ ہود، سورہ نمبر 11، آیت 88۔
مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ عمل دعوت کی شرط ہے۔ دعوت و تبلیغ کا کام ہر حال میں جاری رکھا جائے گا، خواہ داعی عامل ہو یا نہ ہو۔ مفسر ابن کثیر نے سورۃ البقرہ آیت 44 کے تحت لکھا ہے: فَكُلٌّ مِنَ الْأَمْرِ بِالْمَعْرُوفِ وَفِعْلِهِ وَاجِبٌ لَا يَسْخُطُ أَحَدُهُمَا بِتَرْكِ الْآخِرِ عَلَى أَصَحِّ قَوْلَي الْعُلَمَاءِ مِنَ السَّلَفِ وَالْخَلَفِ. وَذَهَبَ بَعْضُهُمْ إِلَى أَنَّ مُرْتَكِبَ الْمَعَاصِي لَا يَنْهَى غَيْرُهُ عَنْهَا وَهَذَا ضَعِيفٌ وَأَضْعَفُ مِنْهُ تَمَسُّكُهُمْ بِهَذِهِ الْآيَةِ فَإِنَّهُ لَا حُجَّةَ لَهُمْ فِيهَا.
وَالصَّحِيحُ أَنَّ الْعَالِمَ يَأْمُرُ بِالْمَعْرُوفِ وَإِنْ لَمْ يَفْعَلْهُ وَيَنْهَى عَنِ الْمُنْكَرِ وَإِنِ ارتَكَبَهُ. قَالَ مالك عن ربيعة: سمعتُ سعيد بن جبير يقول: "لو كان المرء لا يأمر بالمعروف ولا ينهى عن المنكر حتى لا يكون فيه شيء، ما أمر أحد بمعروف ولا نهى عن منكر." قال مالك: "وصَدَقَ مَنْ ذَا الَّذِي لَيْسَ فِيهِ شَيْءٌ." تفسیر ابن کثیر، جلد 1، صفحہ 85۔ یعنی: پس معروف کی تلقین کرنا اور اس پر عمل کرنا، دونوں ہی واجب ہیں۔ ان میں سے کوئی ایک دوسرے کے ترک سے ساقط نہیں ہوتا۔
علمائے سلف اور علمائے خلف کا صحیح ترین قول یہی ہے۔ ان میں سے بعض اس طرف گئے ہیں کہ جو شخص گناہوں کا مرتکب ہو، وہ دوسرے کو انہی گناہوں سے نہ روکے۔ مگر یہ قول ضعیف ہے، اور اس سے بھی زیادہ ضعیف بات یہ ہے کہ اس کو سورۃ البقرہ کی آیت: أَتَأْمُرُونَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَتَنْسَوْنَ أَنْفُسَكُمْ سورہ نمبر 2، آیت 44 سے نکالا جائے، کیونکہ اس میں ان کے لیے کوئی دلیل نہیں۔ صحیح بات یہ ہے کہ عالمِ معروف کی تلقین کرے گا، اگرچہ وہ اس پر عمل نہ کرتا ہو، اور وہ منکر سے روکے گا، اگرچہ وہ خود اس کا مرتکب ہو۔
مالک نے ربیعہ سے نقل کیا ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے سعید ابن جبیر کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ اگر ایسا ہوتا کہ آدمی صرف اس وقت معروف کی تلقین کرے اور منکر سے روکے، جبکہ اس کے اندر کوئی چیز پائی نہ جا رہی ہو، تو کسی شخص نے بھی معروف کی تلقین نہ کی ہوتی اور نہ وہ منکر سے روکتا۔ امام مالک نے کہا: "اور سچ کہا کہ کون شخص ہے جس کے اندر کوئی چیز نہیں؟ " اس معاملے میں علمائے اسلام کا اتفاق اس لیے ہے کہ یہ ایک اصول کا مسئلہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دعوت کے لیے عمل کی شرط، دعوت کو ہمیشہ کے لیے ناقابل عمل بنا دیتی ہے۔
کیونکہ ایک سچا عامل اور صالح انسان، اللہ سے ڈرنے والا انسان ہوتا ہے۔ ایسا آدمی آخرت کے احساس سے کانپتا رہتا ہے۔ اس کا احساسِ احتساب اتنا بڑھ جاتا ہے کہ وہ اپنے بظاہر عمل کو بھی بے عمل سمجھنے لگتا ہے۔ ایسی حالت میں کون ہوگا جو اپنے صالح اور باعمل ہونے کا یقین کرے، اور اس کے بعد وہ دعوت اسلامی کا آغاز کرے؟
اصل یہ ہے کہ دعوت، احساسِ ذمہ داری کے تحت ظاہر ہونے والا عمل ہے، نہ کہ احساسِ صالحیت کے تحت۔ بدو بھی جب اپنے دین کو چھوڑ کر اسلام کو اختیار کرتا ہے تو وہ اسلام کی اپنی صداقت کی بنا پر ایسا اقدام کرتا ہے، نہ کہ مسلمانوں کو باعمل ہونے کو دیکھ کر۔ اگر داعی کے باعمل ہونے کو دیکھ کر لوگ حق کو قبول کرتے تو تمام انبیاء کے گرد انسانوں کی بھیڑ دکھائی دیتی۔ مگر معلوم ہے کہ آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا کسی بھی پیغمبر کے گرد انسانوں کی کوئی بڑی جماعت اکٹھا نہیں ہوئی۔
صحیح بات یہ ہے کہ دعوت ہر حال میں دینا ہے، اور ہر شخص کو دینا ہے۔ اس کے لیے مذکورہ قسم کی کوئی شرط نہیں لگائی جا سکتی۔ البیہقی اور ابن عساکر نے حضرت جابر ابن عبداللہ سے روایت کیا ہے کہ حضرت حذیفہ نے ہم سے کہا کہ ہم اس علم دین کے حامل بنائے گئے تھے، اس کو ہم تمہیں دے رہے ہیں، اگرچہ ہم خود اس پر عمل نہ کر سکے۔ إِنَّا حَمَلْنَا هَذَا الْعِلْمَ وَإِنَّا نُؤَدِّيهِ إِلَيْكُمْ وَإِن كُنَّا لَا نَعْمَلُ بِهِ.
المدخل إلى السنن الكبرى للبیہقی، اثر نمبر 839۔ کتاب: راہِ عمل، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 189۔