Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Raah-e-Amal Maazi,Haal aur Mustaqbil ka Jayeza
Raah-e-Amal Maazi,Haal aur Mustaqbil ka Jayeza

Maujuda zamane ki islami tahriken

Urdu · 3 min

موجودہ زمانے کی اسلامی تحریکیں: چودھویں صدی ہجری میں ساری مسلم دنیا میں بے شمار اسلامی تحریکیں اٹھیں، مگر ضمنی فرق کے باوجود یہ تمام تحریکیں ردِعمل کی تحریکیں تھیں، نہ کہ حقیقی معنوں میں مثبت تحریکیں۔ جدید مسلم قیادت مغرب کے نام سے جس چیز سے واقف ہوئی، وہ صرف یہ تھا کہ یہ ایک حملہ آور قوم ہے جو ہمارے لیے سیاسی چیلنج بن کر اٹھی ہے۔ وہ اس بات سے بے خبر رہے کہ مغرب دراصل کچھ جدید قوتوں کی دریافت کا نام ہے، اور یہ قوتیں اسلام کے لیے عین مفید ہیں، بلکہ بالواسطہ طور پر خود اسلامی انقلاب کی پیدا کردہ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ مسلم تحریکیں نئے امکانات سے فائدہ نہ اٹھا سکیں؛ وہ جدید قوموں کے مقابلے میں صرف ایک منفی رول ادا کر کے رہ گئیں۔

اس صورتحال کا مزید نقصان یہ ہوا کہ دوسری قوموں سے ہمارا صحیح اسلامی رشتہ قائم نہ ہو سکا۔ مسلمان کے لیے دوسری قومیں مدعو کی حیثیت رکھتی ہیں، مگر مذکورہ منفی نفسیات کا یہ نتیجہ ہوا کہ ہم نے ان قوموں کو مدعو نہ سمجھا، ان کو صرف حریف کی نظر سے دیکھا۔ اسلامی تحریکیں پیغامِ آخرت کی تحریکیں نہ رہیں، بلکہ پیغامِ سیاست کی تحریکیں بن گئیں۔ ان تحریکوں نے انداز کے فرق کے ساتھ جدید دنیا کو جس اسلام سے واقف کرایا، وہ محض ایک قسم کا قومی اسلام تھا، نہ کہ خدا کا وہ دین جو انسانوں کو آخرت کی ابدی کامیابی کا راستہ دکھانے کے لیے آیا ہے۔

داعی اور مدعو کا تعلق، حریف اور مد مقابل کا تعلق بن کر رہ گیا۔ یہ مسلم تحریکیں اپنی جس معذوری کی وجہ سے مغرب بحیثیت استعمار اور مغرب بحیثیت جدید قوت کو الگ الگ کر کے نہ دیکھ سکیں، اسی معذوری کا یہ نتیجہ بھی ہوا کہ انہوں نے جدید قوموں کے خلاف اپنی مہم میں نہ تو نئی قوتیں فراہم کیں اور نہ نئے حالات کی رعایت کی۔ حدرجہ نادانی کے ساتھ سو سال سے بھی زیادہ عرصے تک جان و مال کی قربانیاں دی جاتی رہیں، جبکہ ان قربانیوں کے لیے قطعی طور پر مقدر تھا کہ اسباب کی اس دنیا میں وہ بالکل رائیگاں ہو کر رہ جائیں۔ اس طویل غیر حقیقت پسندانہ سیاست کی اب یہ نفسیاتی قیمت مسلمانوں کو دینی پڑی پڑ رہی ہے کہ پوری کی پوری مسلم دنیا ایک قسم کے فرضی جنونِ عظمت، یعنی پیرانویا، کا شکار ہو کر رہ گئی ہے، اور اب کوئی حقیقت پسندانہ بات اسے اپیل ہی نہیں کرتی۔

کتاب "راہِ عمل" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 181۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.