Maulana Wahiduddin Khan
5 min left
0:00

← Raah-e-Amal Maazi,Haal aur Mustaqbil ka Jayeza
Raah-e-Amal Maazi,Haal aur Mustaqbil ka Jayeza

Muslim dunya me siyasi radd-e-amal

Urdu · 5 min

مسلم دنیا میں سیاسی ردِعمل: چودھویں صدی ہجری کا آغاز اس وقت ہوا جبکہ انیسویں صدی عیسوی کا خاتمہ ہو رہا تھا۔ اس اعتبار سے چودھویں صدی ہجری اسلامی تاریخ کی اہم ترین صدی تھی، کیونکہ یہ اس وقت آئی جبکہ اسلامی انقلاب کے بعد شروع ہونے والا عمل اپنی آخری تکمیل کے مرحلے تک پہنچ گیا تھا۔ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے جس عالمی ہدایت کا دروازہ کھولا تھا، اس کو بروئے کار لانے کے حالات اور ضروری وسائل اپنی کامل صورت میں مہیا ہو کر ہمارے سامنے آ چکے تھے۔ مگر تاریخ کا غالباً یہ سب سے بڑا المیہ ہے کہ یہ دروازہ عین اس وقت خود مسلمانوں کے ہاتھوں بند ہو گیا، جس کو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے ہزار سالہ عمل کے نتیجے میں کھولا تھا۔

جدید انقلاب نے یورپ کو جو طاقتیں دی تھیں، ان کو اس نے اسی طرح اپنے قومی عزائم کی تکمیل کے لیے استعمال کیا، جس طرح کوئی بھی قوم ان حالات میں کرتی ہے۔ مغربی قوموں کی دسترس جیسے ہی جدید طاقتوں پر ہوئی، ان کے یہاں وہ چیز وجود میں آئی جس کو مغربی استعمار کہا جاتا ہے۔ انہوں نے اپنے جغرافیہ سے نکل کر خشکی اور تری میں اپنے جھنڈے گاڑے، قوموں کے درمیان اپنی تہذیب پھیلائی۔ جن لوگوں نے ان کے راستے میں رکاوٹ ڈالی، ان کو اپنے ظلم کا نشانہ بنایا۔

مغربی قوموں کے ان عزائم کا براہِ راست شکار ہونے والے زیادہ تر مسلمان تھے، کیونکہ اس وقت یورپ کے باہر اکثر آباد دنیا مسلمانوں ہی کے زیرِ اقتدار تھی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ چیز جس کو ہم نے اسلامی انقلاب کا "سیکولر نتیجہ" کہا ہے، اس کا تعارف مسلمانوں سے اپنے پہلے ہی مرحلے میں اس حیثیت سے ہوا گویا کہ وہ ایک دشمن طاقت ہے جو مسلمانوں کو ان کی تمام عظمتوں سے محروم کر کے ان کو ایک مغلوب اور پسماندہ قوم بنا دینا چاہتی ہے۔ مغربی انقلاب کا افادی پہلو ان کی نگاہوں سے اوجھل ہو گیا۔ وہ اس کو اپنے سیاسی-اقتصادی حریف کی حیثیت سے دیکھنے لگے۔

چودھویں صدی ہجری اسلام کی پوری تاریخ میں پہلی صدی تھی جبکہ یہ امکان پیدا ہوا تھا کہ اسلام کی دعوتِ توحید کو یُسر یعنی آسانی کے حالات میں انجام دیا جائے، جبکہ اس سے پہلے صرف عُسر یعنی سختی کے حالات ہی میں اس کو انجام دینا ممکن ہوتا تھا۔ اسی طرح یہ واقعہ بھی پہلی بار ہوا کہ خود انسان کے اپنے مسلمات کے مطابق اسلام کا دیگر ادیان کے مقابلے میں واحد معتبر دین ہونا ثابت کیا جائے، اور اس کو اعلیٰ ترین علمی شواہد سے اس طرح مدلل کر دیا جائے کہ کسی کے لیے انکار کی جرات باقی نہ رہے۔ نیز اس صدی میں پہلی بار تیز رفتار سواریاں اور تبلیغ کے جدید ذرائع انسان کے قبضے میں آئے، جن سے کام لے کر اسلام کے پیغام کو بین الاقوامی سطح پر پھیلایا جا سکتا تھا۔ مگر جو قومیں ان خدائی برکتوں کو ہماری طرف لا رہی تھیں، وہ اتفاقی حالات کے نتیجے میں ہماری سیاسی حریف بن گئیں۔

نتیجہ یہ ہوا کہ ساری مسلم دنیا مغرب کے بارے میں مخالفانہ نفسیات کا شکار ہو گئی۔ مغرب کی طرف سے آنے والے انقلاب کا افادی پہلو اس کی نظروں سے اوجھل ہو گیا، حالانکہ خدا نے مسلمانوں کے لیے ایسا امکان کھولا تھا کہ وہ خود مغرب کے پیدا کردہ حالات کو اپنے دعوتی مقاصد میں استعمال کر کے مغرب کو نظریاتی طور پر فتح کر سکتے تھے۔ اگر مسلمانوں نے بروقت اس دانشمندی کا ثبوت دیا ہوتا تو چودھویں صدی ہجری میں وہ واقعہ دوبارہ نئے انداز سے پیش آتا، جو آٹھویں صدی ہجری میں تاتاری فاتحین کے خادمانِ اسلام بن جانے کی صورت میں پیش آ چکا ہے۔ کتاب "راہِ عمل" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 180۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.