Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Raah-e-Amal Maazi,Haal aur Mustaqbil ka Jayeza
Raah-e-Amal Maazi,Haal aur Mustaqbil ka Jayeza

Maghrib ka ghalba muslim dunya par

Urdu · 3 min

مغرب کا غلبہ مسلم دنیا پر: مسلم دنیا نے صلیبی جنگوں 1095 تا 1271 میں مسیحی یورپ پر فتح پائی تھی، مگر اس فتح کے بعد ہی برعکس عمل بھی شروع ہو گیا۔ مسیحی یورپ نے محسوس کیا کہ اس کی شکست کا سبب علمی اور فکری میدان میں مسلم دنیا سے اس کا پیچھا ہونا تھا، چنانچہ صلیبی جنگوں کے بعد یورپ نے تیزی سے مسلمانوں کے علوم اور عربی زبان کو سیکھنا شروع کر دیا۔ بعد کی صدیوں میں، جب مسلم دنیا کے اہلِ علم یورپ کے ملکوں میں منتقل ہوئے، تو وہاں یہ عمل اور تیزی سے جاری ہو گیا۔ بالآخر مغرب کی ترقی اس نوبت کو پہنچی کہ وہ علم و عمل کے تمام شعبوں میں مسلم قوموں سے آگے بڑھ گیا۔

اب اس نے مسلم ممالک میں داخل ہونا شروع کیا، اور انیسویں صدی تک یہ حال ہوا کہ تقریباً تمام مسلم دنیا پر مغربی قوموں کا تسلط قائم ہو گیا۔ یہی سیاسی حادثہ اس بات کا سبب بن گیا کہ مذکورہ قیمتی امکانات اسلامی دعوت کے حق میں استعمال نہ ہو سکیں۔ صلیبی جنگوں میں ہاری ہوئی قوموں کو دوبارہ مسلم علاقوں میں گھستے ہوئے دیکھ کر لوگ بپھر اٹھے۔ ساری مسلم دنیا میں مغرب کے خلاف سیاسی زور آزمائی شروع ہو گئی، حتیٰ کہ بہت سے لوگ سیاسی مقابلہ آرائی ہی کو عین اسلام ثابت کرنے لگے، تاکہ لوگ جب اجنبی حکمرانوں سے لڑ کر فارغ ہوں تو خود اپنے ملکی حکمرانوں کے خلاف مقدس سیاسی جہاد چھیڑ دیں۔

اس فضا میں کسی کو یہ سوچنے کا موقع ہی نہ ملا کہ جدید دنیا نے کچھ نئے امکانات کھولے ہیں، اور وہ اسلام کے حق میں کامیابی کے ساتھ استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ جدید مواقع انتظار کرتے رہے کہ ہم ان کو استعمال کر کے اسلام کی دعوت کو سارے عالم میں پھیلا دیں، اور نتیجتاً خدا کی نصرت کے مستحق ہوں۔ مگر ہماری سیاسی نفسیات نے ہم کو ادھر توجہ دینے کی فرصت ہی نہ دی۔ کتاب "راہِ عمل" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 178۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.