Maulana Wahiduddin Khan
6 min left
0:00

← Raah-e-Amal Maazi,Haal aur Mustaqbil ka Jayeza
Raah-e-Amal Maazi,Haal aur Mustaqbil ka Jayeza

Jadid inquilaab ki islami ahmiyat

Urdu · 6 min

جدید انقلاب کی اسلامی اہمیت: جدید مغربی انقلاب اپنی عمومی حیثیت میں خود اسلام کا پیدا کردہ تھا، اس کے نتائج اسلامی نقطۂ نظر سے بے حد اہم تھے۔ اس انقلاب نے دنیاوی اعتبار سے اس دعا کی تکمیل کر دی تھی جس کو خدا نے ان الفاظ میں ہمیں تلقین کیا تھا: "اے ہمارے رب، ہم پر وہ بوجھ نہ ڈال جو تو نے پچھلے لوگوں پر ڈالا"۔ البقرہ، سورہ نمبر 2، آیت 862۔ اس انقلاب کے نتیجے میں زندگی کے نظام میں ہمارے موافق جو تبدیلیاں ہوئیں وہ خاص طور پر یہ تھیں: نمبر 1، قدیم زمانے کے بادشاہ لوگوں میں یہ عقیدہ بٹھا کر حکومت کرتے تھے کہ وہ سورج دیوتا یا چاند دیوتا کی اولاد ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ قدیم زمانے میں توحید کی دعوت فوراً سیاسی اقتدار کی حریف بن جاتی تھی، اور مشرک بادشاہوں کے ظلم کا نشانہ بنتی تھی۔ شرک کی تردید کو وہ اپنے حقِ حکمرانی کی تردید کے ہم معنی سمجھتے تھے۔ اسلامی انقلاب کی تکمیل کے طور پر یورپ میں جو جمہوری انقلاب آیا ہے، اس نے اس نزاکت کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا۔ چونکہ آج کا حکمران عوامی رائے سے حکمرانی کا حق حاصل کرتا ہے، نہ کہ خدا کے ساتھ اپنا مفروضۂ الوہی رشتہ جوڑ کر۔

اس تبدیلی نے تاریخ میں پہلی بار یہ امکان کھول دیا کہ توحید کی تبلیغ اس اندیشے کے بغیر کی جائے کہ پہلے ہی مرحلے میں غیر ضروری طور پر اس کا ٹکراؤ سیاسی ادارے سے ہو جائے، اور وہ اس کو کچل کر رکھ دے، جیسا کہ اسلام سے پہلے ساری تاریخ میں ہوتا رہا ہے۔ نمبر 2، قدیم زمانے میں مظاہرِ فطرت یعنی سورج، چاند، دریا وغیرہ کو مقدس سمجھا جاتا تھا۔ توحید کی بنیاد پر ہونے والے اسلامی انقلاب اور اس کے زیرِ اثر پیدا ہونے والے مغرب کے سائنسی انقلاب کے بعد یہ ہوا کہ فطرت کے واقعات خدائی مظاہر کے بجائے عام مادی مظاہر سمجھے جانے لگے۔ جو چیز پہلے پوجنے کی چیز سمجھی جاتی تھی، وہ اب تحقیق و تجسس کی چیز بن گئی۔

اس کے نتیجے میں جدید سائنسی اور تکنیکی انقلاب پیدا ہوا، جس نے بے شمار نئی طاقتیں انسان کے قبضے میں دے دیں۔ اس انقلاب کے ذریعے تیز رفتار سواریاں وجود میں آئیں، اور جدید ذرائع ابلاغ—پریس، ریڈیو وغیرہ—تک انسان کی دسترس ہوئی۔ اس طرح تاریخ میں پہلی بار یہ ممکن ہو گیا کہ کسی عقیدے کی تبلیغ عالمی اور بین الاقوامی سطح پر کی جا سکے۔ خدا کے دین کی دعوت مقامی دعوت کے مرحلے سے گزر کر عالمی دعوت کے مرحلے میں داخل ہو گئی۔

نمبر 3، اس انقلاب کے ذریعے کائنات کے وہ چھپے ہوئے حقائق سامنے آئے جو توحید اور اس سے متعلق نظریات کے حق میں اعلیٰ علمی دلائل فراہم کر رہے ہیں۔ جنہوں نے قرآن کے کائناتی اشاروں کو کھول کر ہر ایک کے لیے انہیں قابلِ فہم بنا دیا ہے۔ اس طرح تاریخ میں پہلی بار وہ دور آیا جب کہ کائناتی نشانیاں معجزے کا بدل بن جائیں، دینی حقیقتوں کو مشاہداتی دلائل کی سطح پر ثابت کیا جا سکے۔ نمبر 4، پھر اسی انقلاب کے ذریعے تاریخ میں پہلی بار معاملات پر غور و فکر کا سائنسی، بالفاظِ دیگر واقعاتی نقطۂ نظر پیدا ہوا۔

کائنات کا علم صرف اسی وقت حاصل ہو سکتا تھا جب کہ انتہائی حقیقت پسندانہ انداز میں اس پر غور کیا جائے۔ اس لیے اس کے اثر سے علمی دنیا میں یہی عام ذہن بن گیا۔ اب واقعات کو واقعات کی رو سے دیکھا جانے لگا، نہ کہ خوش عقیدگی یا توہمات کے اعتبار سے۔ اب یہ فضا پیدا ہوئی کہ مذاہب کی خالص علمی اور تاریخی تحقیق کی جائے۔

اسی اندازِ مطالعے کا یہ نتیجہ تھا کہ موجودہ زمانے میں علمی سطح پر یہ تسلیم کر لیا گیا کہ اسلام کے سوا جتنے مذاہب ہیں، سب کے سب غیر تاریخی اور اس بنا پر ناقابلِ اعتبار ہیں۔ مذاہب کے درمیان جس مذہب کو تاریخی اعتباریت کا درجہ حاصل ہے، وہ صرف اسلام ہے۔ ملاحظہ ہو: دی بائبل، دی قرآن اینڈ سائنس۔ کتاب: راہِ عمل، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 176۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.