Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Raah-e-Amal Maazi,Haal aur Mustaqbil ka Jayeza
Raah-e-Amal Maazi,Haal aur Mustaqbil ka Jayeza

Islami inqelab

Urdu · 4 min

اسلامی انقلاب دنیا میں سیاسی اور تمدنی انقلاب، اسلامی دعوت کا براہِ راست نشانہ نہیں، تاہم وہ اس کا بالواسطہ نتیجہ ہے۔ کسی معاشرے میں جب قابلِ لحاظ تعداد ایسے افراد کی جمع ہو جائے جو اللہ کے لیے جینا اور اللہ کے لیے مرنا چاہتے ہوں، تو قدرتی طور پر وقت کی سیاست اور تمدن پر انہی کا غلبہ ہو جاتا ہے۔ اسلامی سیاست یا اسلامی نظام نام ہے ایسے لوگوں کے ہاتھ میں اقتدار آنے کا، جو اللہ کے آگے اپنے کو بے نفس کر چکے ہوں، جنہوں نے اپنی "میں" کو خدا کے عظیم تر "میں" میں گم کر دیا ہو۔ جن کے جذبات و احساسات آخرت سے اتنا زیادہ متعلق ہو جائیں کہ دنیا میں ان کا کوئی حوصلہ باقی نہ رہے۔

جو دوسرے کے دل کے درد کو اپنے سینے میں محسوس کرتے ہوں، ایسے ہی افراد اسلامی نظام قائم کرتے ہیں، اور ایسے افراد اسی وقت بنتے ہیں جبکہ ہر قسم کے دنیاوی مقصد سے بلند ہو کر خالص آخرت کے لیے تحریک چلائی جائے۔ اس کے برعکس اگر نعروں اور جلسوں کے زور پر کوئی انقلاب برپا کیا جائے تو وہ انقلاب نہیں، ایک ہڑبونگ ہوگا جہاں اسلام کے نعرے تو بہت ہوں گے مگر اسلام کے عمل کا کہیں وجود نہ ہوگا۔ ایسے لوگ حق کے تقاضوں کا نام لیں گے مگر عملاً اپنے گروہ کے تقاضوں کے سوا کوئی چیز ان کے سامنے نہ ہوگی۔ وہ انقلاب اسلامی کے ہنگامے برپا کریں گے، حقیقتاً ان کا مدعا یہ ہوگا کہ دوسروں کو تخت سے ہٹا کر خود اس پر قابض ہو جائیں۔

وہ انسانیت اور اخلاق کے نام پر جلسوں اور تقریروں کی دھوم مچائیں گے، مگر اس کا مقصود صرف یہ ہوگا کہ ایک خوبصورت عنوان پر اپنی قیادت کی شان قائم کریں: اسلامی انقلاب کی واحد لازمی شرط بے میں انسانوں کی فراہمی ہے، اور موجودہ طرز کی تحریکوں سے سب سے کم جو چیز پیدا ہوتی ہے وہ یہی ہے۔ بلکہ سیاسی اور قومی انداز کی یہ تحریکیں تو "میں" کی غذا ہیں، نہ کہ "میں" کی نفسیات کو ختم کرنے والی، خارجی انقلاب کو نشانہ بنانے والی تحریک افراد کے اندر کردار نہیں پیدا کر سکتی۔ کردار ہمیشہ ذاتی محرک سے پیدا ہوتا ہے، نہ کہ خارجی محرک سے۔ کوئی آدمی دوسرے کے لیے نہیں کماتا، اسی طرح کوئی آدمی بیرونی محرک کے لیے باکردار بھی نہیں بنتا۔

جو لوگ نظام کے نام پر افراد سے باکردار بننے کی اپیلیں کرتے ہیں، وہ صرف اپنی سطحیت کا ثبوت دیتے ہیں اور دوسرے کے بارے میں کمتر اندازے کا۔ کتاب "راہِ عمل" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 171۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.