Maulana Wahiduddin Khan
10 min left
0:00

← Raah-e-Amal Maazi,Haal aur Mustaqbil ka Jayeza
Raah-e-Amal Maazi,Haal aur Mustaqbil ka Jayeza

Paighambar ka kaam

Urdu · 10 min

پیغمبر کا کام، اسلام کا مشن ایک ہی مشن ہے، اور وہ ہے توحید کا پیغام لوگوں تک پہنچانا۔ ایک ایک شخص کو مواحد بنانے کی کوشش کرنا، یہی قدیم ترین زمانے سے تمام نبیوں کا مشن تھا۔ مگر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے تمام زمانوں میں توحید کی دعوت جان کی قربانی کی قیمت پر دینی ہوتی تھی۔ توحید کا پیغام لے کر اٹھنے والے آگ کے الاؤ میں ڈال دیے جاتے، اور آروں سے چیر دیے جاتے۔

اس کی وجہ کیا تھی؟ اس کی وجہ یہ تھی کہ قدیم زمانے میں شرک کو فکری غلبے کا مقام حاصل تھا، حتیٰ کہ سیاست کی بنیاد بھی شرک پر قائم تھی۔ قدیم زمانے کے بادشاہ لوگوں کو یہ باور کرا کے ان کے اوپر حکومت کرتے تھے کہ وہ دیوتاؤں کی اولاد ہیں۔ ان کے اندر خدا حلول کرایا ہے۔

اس لیے جب توحید کا داعی یہ آواز بلند کرتا کہ خدا صرف ایک ہے، کوئی اس کا شریک نہیں، تو قدیم زمانے کے بادشاہوں کو یہ آواز براہ راست ان کے حقِ حکمرانی کو چیلنج کرنے والی نظر آتی تھی۔ اس میں انہیں اپنی مشرکانہ سیاست کی تردید دکھائی دیتی تھی۔ چنانچہ وہ اپنے سیاسی مفاد کی بنا پر توحید کے داعیوں کے دشمن بن جاتے، اور بے رحمی کے ساتھ ان کو کچل دیتے۔ اللہ تعالیٰ نے فیصلہ کیا کہ اس صورتحال کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا جائے۔

قرآن میں پیغمبر آخر الزماں اور آپ کے ساتھیوں کو سکھایا گیا کہ تم اس طرح دعا کرو: ربنا ولا تحمل علينا اصرا کما حملتہ علی الذين من قبلنا سورہ نمبر 2 آیت 286۔ خدایا، ہمارے اوپر وہ بوجھ نہ ڈال جو تو نے ہم سے پہلے کے لوگوں پر ڈالا تھا۔ یہ دعا کے انداز میں اس خدائی فیصلے کا اظہار تھا کہ خدا انسانی تاریخ میں ایک نیا انقلاب لانے والا ہے، جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ اقتدار کا رشتہ شرک سے ٹوٹ جائے گا۔ اب حکومت ایک خالص سیاسی معاملہ ہوگا، نہ کہ اتحادی معاملہ۔

یہی وہ خدائی منصوبہ تھا جس کی تکمیل کے لیے قرآن میں حکم دیا گیا: وقاتلوهم حتى لا تكون فتنة ويكون الدين كله لله سورہ نمبر 8 آیت 39۔ یعنی مشرکوں سے لڑو یہاں تک کہ فتنے کی حالت باقی نہ رہے، اور دین سب اللہ کا ہو جائے۔ فتنے کے معنی آزمائش کے ہیں۔ فتن فلانا عن رأیہ کے معنی ہیں رائے سے پھیر دینا۔

قرآن میں آیا ہے: موسیٰ کو اس کی قوم میں چند نوجوانوں کے سوا کسی نے نہ مانا۔ فرعون اور اپنی قوم کے بڑے لوگوں کے ڈر سے، جن کو اندیشہ تھا کہ فرعون ان کو ستائے گا۔ سورہ نمبر 10 آیت 83۔ اس آیت میں ان یفتنہم کا لفظ ہے، جو ستانے اور عذاب دینے کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔

گویا فتنے کے معنی تقریباً وہی ہیں جس کو انگریزی زبان میں persecution کہتے ہیں، یعنی کوئی رائے یا عقیدہ رکھنے کی بنا پر کسی کو ستانا۔ اب سوال یہ ہے کہ وہ کون سا فتنہ تھا جس کو ختم کرنے کا حکم دیا گیا؟ وہ شرک کا فتنہ تھا۔ چنانچہ مفسرین نے ان آیات میں فتنے کی تفسیر شرک سے کی ہے۔

تاہم یہاں فتنے سے مراد مطلق شرک نہیں، بلکہ شرکِ جارح ہے۔ کیونکہ شرک جب جارح ہو، تبھی وہ روکنے والا بنتا ہے۔ حتیٰ لا تکون فتنت کا مطلب ہے: حتى لا يفتن رجل عن دينه یعنی شرکِ جارح سے لڑ کر اسے ختم کر دو، تاکہ دین شرک بے زور اور مغلوب ہو کر رہ جائے، اور غالب دین کی حیثیت سے صرف دینِ توحید دنیا میں باقی رہے۔ شرک اپنی ابتدائی صورت میں محض ایک عقیدہ ہے، مگر قدیم زمانے میں اس نے فتنے کا مقام حاصل کر لیا تھا۔

اس کی وجہ یہ تھی کہ قدیم زمانے میں انسانی فکر پر شرک کا غلبہ تھا۔ زندگی کے ہر معاملے کو شرک کے نقطہ نظر سے دیکھا جاتا تھا، حتیٰ کہ سیاست و حکومت کی بنیاد بھی شرک کے اوپر قائم تھی۔ لوگ سورج اور چاند جیسی چیزوں کو دیوتا سمجھتے تھے، اور شاہی خاندان اپنے آپ کو ان دیوتاؤں کی اولاد بتا کر لوگوں کے اوپر حکومت کرتا تھا۔ اس بنا پر جب توحید کا داعی یہ کہتا کہ خدا صرف ایک ہے، باقی تمام چیزیں اس کی مخلوق اور محکوم ہیں، تو قدیم بادشاہوں کو یہ نظریہ ان کے حقِ حکمرانی کی تردید کرتا ہوا نظر آتا تھا۔

وہ اس کو اپنا حریف سمجھ کر اس کو مٹانے کے درپے ہو جاتے۔ عرب میں اور اطراف عرب میں توحید کی بنیاد پر جو اسلامی انقلاب آیا، اس نے شرک کو فکری غلبے کے مقام سے ہٹا دیا۔ اب شرک کی حیثیت ایک ذاتی عقیدے کی ہو گئی، نہ کہ ایک ایسے عوامی نظریے کی جس کے اوپر سماجی زندگی کا پورا نظام قائم ہو۔ نتیجتاً شرک کا راستہ، نتیجتاً شرک کا رشتہ اقتدار سے ٹوٹ گیا۔

کیونکہ اب شرک کی بنیاد پر کسی کے لیے حقِ حکمرانی کا دعویٰ کرنے کا موقع باقی نہیں رہا تھا۔ معلوم انسانی تاریخ میں یہ تبدیلی بالکل پہلی بار آئی۔ اس کے ہمہ گیر اثرات میں سے دو چیزیں یہاں خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ ایک یہ کہ جب یہ معلوم ہوا کہ خدا صرف ایک ہے، اور بقیہ تمام چیزیں اس کی مخلوق اور محکوم ہیں، تو اس کے لازمی نتیجے کے طور پر مظاہرِ فطرت کے تقدس کا ذہن ختم ہو گیا۔

وہ چیزیں جو اب تک انسان کے لیے پرستش کا عنوان بنی ہوئی تھیں، وہ اس کو اپنی خادم نظر آنے لگیں۔ هو الذي خلق لكم ما في الأرض جميعا سورہ نمبر 2 آیت 29۔ اب آدمی نے چاہا کہ وہ ان چیزوں کو جانے اور ان کو استعمال کرے۔ انسانی ذہن کی یہی وہ تبدیلی ہے جس نے تاریخ میں توہماتی دور کو ختم کر کے سائنس کے دور کو شروع کیا۔

اسی کے ساتھ دوسرا نتیجہ یہ ہوا کہ بادشاہت کا دور کم از کم نظریاتی طور پر ختم ہو گیا، اور عوامی حکمرانی کے دور کا آغاز ہوا۔ جب یہ معلوم ہو گیا کہ تمام انسان یکساں ہیں، کسی انسان کے اندر کوئی خدائی صفت نہیں، تو اس کے بعد بالکل قدرتی طور پر خدائی حقِ حکمرانی کے لیے زمین باقی نہیں رہی۔ ان دونوں انقلابات کا آغاز مدینے سے ہو گیا تھا۔ اس کے بعد وہ دمشق، بغداد، اسپین اور سسلی ہوتا ہوا قدیم آباد دنیا کے بڑے حصے میں پھیل گیا۔

اس مدت میں قدیم حالات کے اثر سے اس فکری تحریک کو بار بار مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ تاہم اس کا سفر جاری رہا۔ مخالف طاقتوں کی کوئی بھی کوشش اس میں کامیاب نہ ہو سکی کہ وہ مظاہرِ فطرت کے تقدس کے دور کو دوبارہ اس کی سابقہ عظمت کے ساتھ واپس لا سکے۔ اور نہ کسی حکمران کے لیے کبھی یہ ممکن ہوا کہ وہ اس طرح مقدس بادشاہ ہونے کا مقام حاصل کر لے جیسا کہ عراق کے نمرود اور مصر کے فرعون کو قدیم زمانے میں حاصل تھا۔

کتاب راہ عمل مولانا وحید الدین خان صفحہ نمبر 172.

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.