مومنانہ زندگی ایسی قیمتی جنت ہے کہ کسی کو سستے داموں نہیں مل سکتی۔ یہ اسی خوش خِس، یہ اسی خوش نصیب روح کا حصہ ہے جو حقیقی معنوں میں خدا کا مومن بندہ ہونے کا ثبوت دے۔ مومن ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آدمی اپنی عام دنیا دارانہ زندگی کے ساتھ کچھ اسلامی عملیات کا جوڑ لگا لے۔ مومن ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اسلام ہی آدمی کی پوری زندگی بن جائے۔
اسلام ہاتھ کی چھنگولیاں نہیں، بلکہ وہ آدمی کا پورا ہاتھ ہے جو شخص اسلام کو اپنی زندگی میں غیر مؤثر ضمیمہ بنا کر رکھے، اس نے اسلام کی توہین کی۔ اسی طرح مومن ہونے کا یہ مطلب بھی نہیں ہے کہ آدمی خدائی فوجدار بن کر کھڑا ہو جائے اور حکمرانوں کے خلاف اپوزیشن کا پارٹ ادا کرنے کو اسلام کا کمال سمجھنے لگے۔ اس قسم کی چیزیں اسلام نہیں، وہ خود ساختہ سیاست کو اسلام کا نام دینا ہے۔ پہلی قسم کے لوگ اگر دین کی کم قدری کے مجرم ہیں تو دوسری قسم کے لوگ دین کی تحریف کے۔
اور یہ دونوں ہی چیزیں آدمی کو خدا کی ناراضگی کا مستحق بناتی ہیں، نہ کہ خدا کے انعام کا۔ مومن وہ ہے جس کے سینے میں اسلام ایک نفسیاتی طوفان بن کر داخل ہوا ہو، جو خدا کو اتنا قریب پائے کہ اس سے اس کی سرگوشیاں جاری ہو جائیں۔ جس کی تنہائیاں خدا کے فرشتوں سے آباد رہتی ہوں۔ جس کے اسلام نے اس کی زبان میں خدا کی لگام دے رکھی ہو۔
اور جس کے ہاتھوں اور پیروں میں خدا کی بیڑیاں پڑی ہوئی ہوں۔ جس کے اسلام نے اس کو حشر کی آمد سے پہلے حشر کے میدان میں کھڑا کر دیا ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ جو کچھ کافر پر مرنے کے بعد گزرنے والا ہے، وہ مومن پر جیتے جی اسی دنیا میں گزر جاتا ہے۔ دوسرے لوگ جن باتوں کو اس وقت پائیں گے جبکہ خدا غیب کا پردہ پھاڑ کر سامنے آ جائے گا، مومن ان باتوں کو اس وقت پا لیتا ہے جبکہ خدا ابھی غیب کے پردے میں چھپا ہوا ہے۔
مومن پر قیامت سے پہلے قیامت گزر جاتی ہے، جبکہ دوسروں پر قیامت اس وقت گزرے گی جبکہ وہ عملاً آ چکی ہوگی۔ کتاب "راہِ عمل" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 166۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.