← Raah-e-Amal Maazi,Haal aur Mustaqbil ka JayezaRaah-e-Amal Maazi,Haal aur Mustaqbil ka Jayeza
Chalis saala intezaar
Urdu · 7 min
چالیس سالہ انتظار۔ قرآن میں بنی اسرائیل کی تاریخ کا ایک واقعہ اس طرح بیان کیا گیا ہے: موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا کہ اے میری قوم، اس پاک زمین میں داخل ہو جاؤ جو اللہ نے تمہارے لیے لکھ دی ہے، اور اپنی پیٹھ کی طرف نہ لوٹو، ورنہ نقصان میں پڑ جاؤ گے۔ انہوں نے کہا کہ وہاں ایک زبردست قوم ہے، ہم ہرگز وہاں نہ جائیں گے جب تک وہ وہاں سے نکل نہ جائیں۔ اگر وہ وہاں سے نکل جائیں تو ہم داخل ہوں گے۔
دو آدمی جو اللہ سے ڈرنے والوں میں سے تھے، اور ان دونوں پر اللہ نے انعام کیا تھا، انہوں نے کہا کہ تم ان پر اقدام کر کے شہر کے پھاٹک میں داخل ہو جاؤ۔ جب تم اس میں داخل ہو جاؤ گے تو تم ہی غالب ہو گے۔ اور اللہ پر بھروسہ کرو اگر تم مومن ہو۔ انہوں نے کہا کہ اے موسیٰ، ہم کبھی وہاں داخل نہ ہوں گے جب تک وہ لوگ وہاں ہیں۔
پس تم اور تمہارا خدا دونوں جا کر لڑو، ہم یہاں بیٹھے ہیں۔ موسیٰ نے کہا کہ اے میرے رب، اپنے اور اپنے بھائی کے سوا کسی پر میرا اختیار نہیں۔ پس تو ہمارے اور اس نافرمان قوم کے درمیان جدائی کر دے۔ اللہ نے کہا کہ وہ ملک ان پر چالیس سال کے لیے حرام کر دیا گیا۔
یہ لوگ زمین میں بھٹکتے پھریں گے، پس تم اس نافرمان قوم پر افسوس نہ کرو۔ المائدہ، سورہ نمبر 5، آیت 21 تا 26۔ یہ واقعہ زیادہ تفصیل کے ساتھ بائبل، گنتی، استثنیٰ، یشوع میں دیکھا جا سکتا ہے۔ بائبل کے علماء کے مطابق حضرت موسیٰ 1440 قبل مسیح میں بنی اسرائیل کو مصر سے نکال کر صحرائے سینا میں لے گئے۔
وہاں انہوں نے خدا کے حکم کے تحت بنی اسرائیل سے یہ بات کہی کہ شام و فلسطین کی زمین خدا نے تمہارے لیے مقدر کی ہے، تم اقدام کر کے وہاں داخل ہو جاؤ۔ اس علاقے میں اس وقت امالیقہ، یعنی Amalekites، کی حکومت تھی۔ بنی اسرائیل ان سے ڈر رہے تھے، چنانچہ وہ اقدام کرنے کے لیے تیار نہیں ہوئے۔ حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون کے علاوہ صرف دو آدمی ایسے تھے جنہوں نے اٹھ کر اس اقدام کی تائید کی۔
بائبل میں ان کا نام یوشع بن نون اور قالب بن یوقنہ بتایا گیا ہے۔ بنی اسرائیل نے جب اس معاملے میں پست ہمتی کا مظاہرہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے امالیقہ کے ملک میں داخلے کے منصوبے کو چالیس سال تک کے لیے مؤخر کر دیا۔ بنی اسرائیل کے متعلق خدا کا حکم ہوا کہ تمہاری لاشیں اسی بیابان میں پڑی رہیں گی، اور تمہاری ساری تعداد میں سے بیس برس سے لے کر اس سے اوپر کی عمر کے تم سب جتنے گنے گئے اور مجھ پر شکایت کرتے رہے، ان میں سے کوئی اس ملک میں جس کی بابت میں نے قسم کھائی تھی کہ تم کو وہاں بساؤں گا، جانے نہ پائے گا۔ گنتی، باب 29، آیت 14 تا 30۔
اس حکم کا مطلب یہ تھا کہ بنی اسرائیل کے تمام زیادہ عمر کے لوگ ختم ہو جائیں، اور صرف وہ نئی نسل باقی رہے جو سینا کے صحرائی ماحول میں پرورش پا کر بڑی ہوئی ہے۔ اس وقت وہ امالیقہ کے اوپر جہاد کریں اور خدا کی مدد سے کامیابی حاصل کریں۔ خدا کے اس حکم کے مطابق بنی اسرائیل صحرا میں پھرتے رہے، یہاں تک کہ تقریباً چالیس سال میں جب ایسا ہوا کہ پرانی نسل ختم ہو گئی اور نئی نسل بن کر تیار ہو گئی، تو انہوں نے امالیقہ کے ملک شام و فلسطین میں جہاد کیا۔ یہ جہاد 1400 قبل مسیح میں مذکورہ یوشع بن نون کی قیادت میں انجام پایا اور اللہ کی مدد سے کامیاب ہوا۔
اس واقعے پر غور کیجیے، اللہ تعالیٰ کی براہ راست وحی کے تحت جہاد کا ایک حکم سامنے آتا ہے، مگر اس کے باوجود اس پر عمل کو چالیس سال تک کے لیے مؤخر کر دیا جاتا ہے، صرف اس لیے کہ جن لوگوں کو جہاد کرنا تھا ان کے اندر جہاد کی استعداد ثابت نہ ہو سکی۔ اگرچہ کم از کم چار آدمی، یعنی موسیٰ، ہارون، یوشع، قالب، جہاد کے لیے پوری طرح تیار تھے، جن میں دو پیغمبر بھی تھے، مگر فریق ثانی کے مقابلے میں یہ تعداد ناکافی تھی، اس لیے جہاد کو ملتوی کر دیا گیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ جہاد اس کا نام نہیں ہے کہ آدمی انجام کی پرواہ کیے بغیر مقابلے کے میدان میں کود پڑے، خواہ اس کے نتیجے میں ایک طرفہ طور پر اس کی ہلاکت ہی کیوں نہ ہونے والی ہو۔ جہاد کا مقصد نتیجہ حاصل کرنا ہے، نہ کہ لڑ کر مر جانا۔
اگر حالات کے اعتبار سے ضروری اسباب موجود نہ ہوں تو لازم ہے کہ آدمی جہاد سے رک جائے۔ وہ افراد کے اندر مطلوبہ استعداد پیدا ہونے کا انتظار کرے، خواہ اس انتظار کی مدت چالیس سال تک کیوں نہ وسیع ہو رہی ہو۔ کتاب، راہِ عمل، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 158۔