← Raah-e-Amal Maazi,Haal aur Mustaqbil ka JayezaRaah-e-Amal Maazi,Haal aur Mustaqbil ka Jayeza
Mauood na ke maqsood
Urdu · 8 min
موعود، نہ کہ مقصود۔ قرآن کی سورہ نمبر 24 میں اللہ تعالیٰ نے اپنی ایک سنت کا ذکر اس طرح کیا ہے: "تم میں سے جو لوگ ایمان لائیں اور اچھے عمل کریں، ان سے اللہ نے وعدہ فرمایا ہے کہ وہ ان کو زمین میں خلیفہ، یعنی بااختیار بنائے گا، جیسا کہ ان سے پہلے لوگوں کو اس نے اقتدار دیا تھا، اور اللہ ان کے لیے ان کے دین کو جمع دے گا، جس کو ان کے لیے اس نے پسند کیا ہے، اور اللہ ان کی خوف کی حالت کے بعد اس کو امن، امن سے بدل دے گا۔ وہ صرف میری عبادت کریں گے اور کسی چیز کو میرا شریک نہ بنائیں گے، اور جو اس کے بعد انکار کرے تو ایسے ہی لوگ نافرمان ہیں۔ " سورہ نمبر 24، آیت 55۔
اس آیت سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ اقتدار یا غلبہ ایک امرِ موعود ہے، نہ کہ امرِ مقصود۔ یعنی وہ اہلِ اسلام کے عمل کا نشانہ نہیں ہیں؛ اہلِ اسلام کے لیے ان کے عمل کا نشانہ تو ایمان اور عملِ صالح ہے۔ ان کی اپنی توجہ شروع سے آخر تک اسی پر مرتکز رہنا چاہیے۔ البتہ جب اہلِ اسلام پر شرط پوری کر دیں—البتہ جب اہلِ اسلام یہ شرط پوری کر دیں—وہ ایمان والی نفسیات اور عملِ صالح والی زندگی کے ساتھ دنیا میں رہنے لگیں تو، اگر وہ ایمان والی نفسیات اور عملِ صالح والی زندگی کے ساتھ دنیا میں رہنے لگیں تو اللہ اگر چاہتا ہے تو ان کو ایک ملک یا زیادہ ملک میں حکومت و سلطنت بھی دے دیتا ہے۔
اہلِ اسلام کی ذمہ داری ایمان اور عملِ صالح کی زندگی اختیار کرنا ہے۔ اس کے حقیقی اور ابدی انعام کے طور پر اللہ تعالیٰ انہیں جنتوں کے اندر داخل فرمائے گا۔ تاہم اس کے ابتدائی انعام کے طور پر وہ انہیں دنیا میں بھی غلبہ عطا کر دیتا ہے، اگر وہ چاہے۔ اس آیت میں جس اسلامی عمل اور جس خدائی انعام کا ذکر کیا گیا ہے، ان کا نمونہ دورِ اول میں انتہائی کامل اور تاریخی صورت میں قائم کر دیا گیا ہے۔
اب جو شخص اس آیت کو، یا اس آیت میں بیان کردہ قانونِ الہی کو سمجھنا چاہیے، اس کو اسلام کے دورِ اول کی تاریخ پڑھنا چاہیے۔ اب جو شخص اس آیت کو، یا اس آیت میں بیان کردہ قانونِ الہی کو سمجھنا چاہے، اس کو اسلام کے دورِ اول کی تاریخ پڑھنا چاہیے۔ رسول اور اصحابِ رسول کی زندگیوں کا مطالعہ کر کے وہ بخوبی طور پر جان سکتا ہے کہ ایمان اور عملِ صالح کیا ہے، اور مومنین صالحین کو خلیفہ، یعنی بااختیار بنانا کیا۔ ایمان اور عملِ صالح کا وہ کون سا کردار تھا جس کا ثبوت دورِ اول کے اہلِ اسلام نے دیا، اور جس کے بعد ان کے لیے خلافت یعنی اقتدار کے دروازے کھلے؟
اس کو سمجھنے کے لیے اسلام کے اس دور کا مطالعہ کرنا چاہیے جس کو مکی دور کہا جاتا ہے۔ مدنی دور کو اگر خلافت کا دور کہا جائے تو مکی دور گویا ایمان اور عملِ صالح کا دور تھا۔ یہی دورِ اول تھا جس نے ان کے لیے دورِ ثانی کا استحقاق پیدا کیا۔ مکی دور کیا تھا؟
مکی دور شعوری انقلاب کا دور تھا۔ اس وقت جو لوگ ایمان لائے، ان کے لیے ایمان ایک عظیم الشان قربانی تھی۔ انہوں نے اپنے میں سے اور اپنے جیسے ایک شخص کو اس کے اندرونی جوہر کی بنا پر پہچان کر یہ اقرار کیا کہ وہ خدا کا پیغمبر ہے، کسی غرض اور مفاد کے بغیر، خالص اصول کی خاطر۔ وہ اپنی قوم سے کٹ گئے۔
انہوں نے مکمل طور پر اپنے آپ کو بامقصد انسان ثابت کیا۔ انہوں نے ایک خدا کی پرستش کی۔ انہوں نے ایک ان دیکھے خدا کو اپنا سب بنا لیا۔ انہوں نے اپنے آپ کو قومی اکابر کی عظمت کے خول سے نکالا، اور خدائے واحد کی عظمت میں اپنے آپ کو گم کر دیا۔
انہوں نے اپنی ساری توجہ اور سارے جھکاؤ کو صرف خدا کے لیے خاص کر دیا۔ وہ خدا کے لیے جیے اور خدا ہی کی راہ میں اپنی جان دی۔ انہوں نے اپنے ماحول میں اعلیٰ اخلاق کا ثبوت دیا۔ وہ لوگوں کے خیر خواہ بنے، چاہے وہ ان کے ساتھ بدخواہی کریں۔
انہوں نے لوگوں کی امانتیں پوری پوری ادا کیں، خواہ لوگ ان کے ساتھ خیانت کا معاملہ کر رہے ہوں۔ انہوں نے لوگوں کے ساتھ بہترین اخلاقی سلوک کیا، خواہ وہ ان کے ساتھ کتنی ہی زیادتیاں کیوں نہ کریں۔ انہوں نے اس اعلیٰ عمل کا ثبوت دیا جس کو ایک طرفہ اخلاق اور ایک طرفہ صبر کہا جاتا ہے۔ انہوں نے اپنے دشمنوں سے بھی نفرت نہیں کی، بلکہ ان کے حق میں دعائیں دیں۔
لوگوں نے ان کے ساتھ ظلم کیا۔ اس کے باوجود انہوں نے ان سے انصاف اور حق پرستی کے مطابق معاملہ کیا۔ وہ صرف اچھوں کے لیے اچھے نہیں بنے، بلکہ بروں کے ساتھ بھی انہوں نے نیکی اور بھلائی کی روش اختیار کی۔ انہوں نے جوابی اخلاق کے بجائے ایک طرفہ حسنِ اخلاق کو اپنا طریقہ بنایا۔
انہوں نے اپنے مسلسل عمل سے اس بات کا ثبوت دیا کہ وہ اپنے مخالفین کے معاملے میں بھی انصاف پر قائم رہنے والے ہیں۔ دوسروں کو تولنے کے لیے بھی ان کے پاس وہی ترازو ہے جو اپنے آپ کو تولنے کے لیے ہے۔ وہ غصے کو برداشت کرتے ہیں۔ وہ برائی کو بھلائی کے ذریعے دفع کرتے ہیں۔
وہ ہر اعتبار سے صالح ٹھہرے۔ وہ ہر جانچ میں ربانی کردار والے ثابت ہوئے۔ ایمان اور عملِ صالح کے اس معیار پر جب وہ پورے اترے تو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے دنیا کی عزت بھی لکھ دی، اور آخرت کی ابدی عزت اور کامیابی بھی۔ کتاب "راہِ عمل" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 154۔