Maulana Wahiduddin Khan
8 min left
0:00

← Raah-e-Amal Maazi,Haal aur Mustaqbil ka Jayeza
Raah-e-Amal Maazi,Haal aur Mustaqbil ka Jayeza

Ek misaal

Urdu · 8 min

ایک مثال: اورابی پاشا، 1839 تا 1911، مصر کے ایک سیاسی لیڈر تھے۔ ان کا نعرہ تھا "مصر للمصريين"، مصر مصریوں کے لیے۔ ان کے زمانے میں مصر میں خدیو اسماعیل پاشا کی حکومت تھی۔ انہوں نے خدیو کو غدار قرار دیا۔

ان کو یہ شکایت تھی کہ خدیو اسماعیل پاشا مغربی طاقتوں کا ایجنٹ ہے۔ چنانچہ انہوں نے خدیو اسماعیل پاشا کے خلاف بغاوت کر دی۔ یہ 1881 کا واقعہ ہے، مگر ان کی بغاوت مکمل طور پر ناکام رہی۔ خدیو اسماعیل پاشا نے اپنے بچاؤ کے لیے برطانیہ سے مدد مانگی۔

برطانیہ نے فوراً ان کی پکار پر لبیک کہا۔ چنانچہ برطانوی فوجوں کی مدد سے بغاوت کچل دی گئی اور اورابی پاشا کو گرفتار کر لیا گیا۔ مزید یہ ہوا کہ 1882 میں مصر پر برطانیہ کا اقتدار قائم ہو گیا۔ اس بغاوت میں اورابی پاشا کا جن لوگوں نے ساتھ دیا، ان میں فوجی لوگوں کے علاوہ مشہور دینی مصلح شیخ محمد عبدہ 1849 تا 1905 اور ان کے ساتھی بھی شامل تھے۔

تاہم شیخ محمد عبدہ اور ان کے ساتھیوں کی شمولیت کے باوجود بغاوت کامیاب نہ ہو سکی۔ اسلام کو مصر کا تخت دلانے کی کوشش میں انگریز مصر کے تخت پر قابض ہو گئے۔ شیخ محمد عبدہ اسلام کے علمبردار تھے۔ دوسری طرف انگریز غیر اسلام کا جھنڈا اٹھائے ہوئے تھے، مگر اس کے مقابلے میں اسلام کے علمبردار مکمل طور پر ناکام رہے اور غیر اسلام کے علمبرداروں کو غیر معمولی کامیابی حاصل ہوئی۔

یہ ایک واضح مثال تھی کہ محض اسلام کے نام پر جھنڈا لے کر اٹھنا، مقابلے کی اس دنیا میں کامیابی کی ضمانت نہیں ہے۔ کامیابی کے لیے حقیقی حالات کی مساعدت بھی ناگزیر طور پر ضروری ہے۔ مگر عجیب بات ہے کہ اسی مصر میں، ٹھیک یہی ناکام کہانی دوبارہ 1952 میں دہرائی گئی۔ 1881 کے اسلامی جہاد کا نشانہ خدیو اسماعیل پاشا تھا، اور 1952 کے اسلامی جہاد کا نشانہ شاہ فاروق الاول تھا۔

پہلے جہاد کے قائد اورابی پاشا تھے اور ان کے ساتھ مفتی محمد عبدہ اور ان کی جماعت شریک تھی۔ دوسرے جہاد کے قائد جمال عبدالناصر تھے اور سید قطب اور ان کی جماعت حامی انقلاب بن کر ان کے ساتھ شریک ہو گئی۔ مگر جو انجام پہلے جہاد کا ہوا تھا، عین وہی انجام دوسرے جہاد کا بھی ہوا۔ مگر جو انجام پہلے جہاد کا ہوا تھا، عین وہی انجام دوسرے جہاد کا بھی ہوا تھا۔

ان دونوں کوششوں میں ظاہری اعتبار سے بعض فرق تھے، مگر جہاں تک اسلامی مجاہدین کا تعلق ہے، دونوں مواقع پر ان کا بالکل یکساں انجام ہوا۔ غیر اسلامی عناصر دونوں بار غیر اسلامی عناصر دونوں بار غالب رہے، اور مسلم مجاہدین دونوں بار مکمل طور پر ناکامی کا شکار ہو کر رہ گئے۔ یہی کہانی زیادہ بری شکل میں پاکستان میں دہرائی گئی ہے۔ پاکستان میں سابق صدر جنرل محمد ایوب خان کو اسلام کی راہ میں اصل رکاوٹ سمجھ لیا گیا۔

سید ابو الاعلی مودودی اور ان کے اسلام پسند ساتھی تنہا اپنی طاقت سے اس رکاوٹ کو دور نہیں کر سکتے تھے۔ چنانچہ انہوں نے دوسری طاقتوں کو ساتھ لے کر ایوب خان کو تخت سے بے دخل کرنے کی مہم چلائی۔ اس مہم کو وہ اتنا ضروری اس مہم کو وہ اتنا زیادہ ضروری سمجھتے تھے کہ ایوب خان کے مقابلے میں انہوں نے ایک خاتون کو صدر کی حیثیت سے کھڑا کیا۔ حالانکہ حدیث میں واضح طور پر موجود ہے کہ کوئی خاتون حکمران کسی ملک یا قوم کی فلاح کی طرف نہیں لے جا سکتی۔

صحیح البخاری حدیث نمبر 4425۔ مگر جب یہ مہم کامیاب ہوئی تو صدر ایوب کی جگہ دوسرے اسلام دشمن افراد ملک کے حکمران بن چکے تھے۔ یہی مہم دوبارہ پاکستان کے سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف شروع کی گئی۔ اسلام پسندوں اور غیر اسلام پسندوں کی متحدہ کوشش سے مصر مسٹر بھٹو کو پھانسی پر چڑھا دیا گیا۔

مگر اس کے باوجود غیر اسلام کو پھانسی پر چڑھانا ممکن نہ ہو سکا۔ وہ بھٹو کے خاتمے کے بعد بھی پاکستان میں پوری طرح زندہ ہے، بلکہ پہلے سے بھی زیادہ۔ حدیث میں بتایا گیا ہے کہ مومن ایک بل سے دوبارہ نہیں ڈسا جاتا۔ کہ مومن ایک بل سے دوبار دو بار ایک بل سے دو بار نہیں ڈسا جاتا۔

المومن لا یلدہ من جحر مرتین۔ صحیح البخاری حدیث نمبر 6133۔ اس لحاظ سے ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا کہ مسلم رہنما ایک ہی غلطی کو بار بار دہراتے رہیں۔ مگر مذکورہ مثالیں حیرت انگیز طور پر بتاتی ہیں کہ وہ ایک ہی سیاسی بل سے بار بار ڈسے جا رہے ہیں۔

وہ ایک ہی ناکام سیاسی تجربے کو بار بار دہرائے چلے جا رہے ہیں۔ خدا کے دین کی یہ کیسی عجیب عملی تفسیر ہے جس کو موجودہ زمانے کے مسلم رہنما دنیا کے سامنے پیش کر رہے ہیں۔ اگر وہ کرنا نہیں جانتے تو کیا وہ یہ بھی نہیں جانتے کہ کچھ نہ کریں؟ اگر انہیں بولنا نہیں آتا تو کیا انہیں یہ بھی نہیں آتا کہ وہ اپنی زبانوں کو بند رکھیں؟

اہ وہ لوگ جنہیں کرنا نہیں آتا پھر بھی وہ کرتے ہیں۔ جنہیں بولنا نہیں آتا پھر بھی وہ بولتے ہیں۔ صرف اس لیے کہ جو مواقع کار ابھی باقی ہیں وہ سبھی باقی نہ رہیں۔ یہاں تک کہ نہ کسی کے لیے کرنے کا کچھ موقع ہو اور نہ کچھ بولنے کا۔

کتاب راہ عمل مولانا وحید الدین خان صفحہ نمبر 152۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.