Maulana Wahiduddin Khan
6 min left
0:00

← Raah-e-Amal Maazi,Haal aur Mustaqbil ka Jayeza
Raah-e-Amal Maazi,Haal aur Mustaqbil ka Jayeza

Sabab apne andar

Urdu · 6 min

سبب اپنے اندر 17ویں صدی مسلمانوں کے عروج کی آخری صدی تھی۔ اس وقت مسلمانوں کی چار بڑی حکومتیں قائم تھیں جو دنیا بھر میں مسلم طاقت کا نشان بنی ہوئی تھیں۔ انہی میں عثمانی خلافت بھی تھی جو بغداد سے الجزائر تک اور پھر عدن سے ہنگری تک پھیلی ہوئی تھی۔ برصغیر ہند میں مغل سلطنت، یعنی مغل ڈائنسٹی، ایران میں صفوی سلطنت، یعنی صفوی ڈائنسٹی، مراکش میں علوی سلطنت، یعنی علوی فلالی ڈائنسٹی، ترکی میں عثمانی سلطنت، یعنی آٹمن ایمپائر۔

18ویں صدی کے آغاز سے ان حکومتوں پر زوال شروع ہوا۔ عین اسی وقت سے "احیاء و تجدید" کی تحریکیں بھی جگہ جگہ شروع ہو گئیں۔ اب ان تحریکوں پر تقریباً 300 سال کی مدت گزر چکی ہے، مگر یہ تحریکیں نہ مذکورہ سلطنتوں کے زوال کو روک سکیں اور نہ مسلمانوں کو دوبارہ عروج کی طرف لے جانے میں کامیاب ہوئیں۔ 13ویں صدی عیسوی میں تاتاریوں نے بغداد کی عظیم مسلم سلطنت کو تباہ کر دیا تھا۔

اس کے بعد سو سال کے اندر مسلمانوں نے دوبارہ عزت و سربلندی کے مقام کو پا لیا، مگر موجودہ زمانے میں بے شمار قائدوں اور بزرگوں کی 300 سالہ جدوجہد بھی ناکامی کی تاریخ کے سوا کسی اور چیز میں اضافہ نہ کر سکی۔ اصل یہ ہے کہ زوال کے پچھلے تمام واقعات زیادہ تر جارحیت غیر کے واقعات تھے۔ اس لیے اغیار کے حملے کا مقابلہ کر کے ابتدائی صورتحال کو دوبارہ بحال کر لیا گیا، مگر موجودہ زمانے کا زوال خود مسلمانوں کے فکری اور ایمانی انحطاط کے نتیجے میں پیش آیا۔ اب ضرورت تھی کہ مسلمانوں کے اندر فکری انقلاب اور ایمانی حرارت پیدا کرنے سے اپنی کوشش کا آغاز کیا جائے۔

مگر مسلمانوں کے تمام رہنما بدستور اغیار کے حملوں کو "سببِ زوال" قرار دے کر ان سے بے فائدہ لڑائی لڑتے رہے۔ جب بیج ہی نہ ڈالا گیا، جب بیج ہی نہ ڈالا گیا ہو تو درخت کہاں سے اگے گا؟ چنانچہ بے شمار قربانیوں کے باوجود احیاءِ ملت کا خواب بھی پورا نہیں ہوا۔ تقریباً 300 سال سے مسلمانوں کے اوپر دفاعی ذہن چھایا ہوا ہے۔

ان کے رہنماؤں کی بیشتر سرگرمیوں کا نشانہ کسی نہ کسی بیرونی خطرے کا دفاع ہوتا ہے۔ اس مدت میں ہر رہنما کی سوچ خارجی رُخی رہی ہے۔ اگر کسی نے داخلی انداز سے سوچا ہے تو وہ بھی اپنی عمر کے آخری حصے میں، جبکہ وہ قبر کے کنارے پہنچ چکا تھا اور اس کے لیے مزید کام کرنے کا موقع ختم ہو چکا تھا۔ دفاعی کام، خواہ وہ کتنا ہی ضروری ہو، بہرحال وہ وقتی ہوتا ہے۔

دفاعی کام کسی بھی حال میں تعمیرِ کام کا بدل نہیں۔ اصل کام بہرحال وہ ہے جو مسلمانوں کے داخلی تعمیر کے محاذ پر مثبت انداز میں کیا جائے۔ مگر سیاسی زوال کے دور سے لے کر اب تک مسلمانوں میں کوئی بھی قابلِ ذکر گروہ نظر نہیں آتا جو حقیقی طور پر داخلی تعمیر کے میدان میں سرگرم ہوا ہو۔ بیرونی خطرات اور مسائل کی موجودگی اس کوتاہی کے لیے کافی عذر نہیں، کیونکہ موجودہ امتحان کی دنیا میں خطرات اور مسائل ہمیشہ باقی رہتے ہیں، اور وہ ہمیشہ باقی رہیں گے۔

موجودہ دنیا میں بیرونی مسائل کے باوجود داخلی تعمیر کا کام کرنا پڑتا ہے۔ منفی اسباب کے باوجود مثبت عمل کے راستے پر سرگرم ہونا پڑتا ہے۔ یہاں کامیابی صرف اس کے لیے ہے جو خارجی حملوں کے باوجود اپنی ساری توجہ داخلی محاذ پر لگا دے۔ اگر باوجود کے اس اصول کا لحاظ نہ کیا جائے تو صدیاں گزر جائیں گی اور مثبت کام کبھی شروع نہ ہو سکے گا، اور مثبت تعمیری عمل کے بغیر ملت کا احیاء ممکن نہیں۔

خارجی دفاع کی کوئی بھی مقدار داخلی تعمیر کا بدل نہیں بن سکتی۔ کتاب "راہِ عمل" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 150۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.