Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Raah-e-Amal Maazi,Haal aur Mustaqbil ka Jayeza
Raah-e-Amal Maazi,Haal aur Mustaqbil ka Jayeza

Ibtedayi amal

Urdu · 4 min

ابتدائی عمل: کپڑے کی صنعت سے جو بے شمار کام متعلق ہیں، ان میں سے ایک اہم کام کپڑے کی رنگائی ہے۔ مثلاً بہت سی ساڑیاں ابتداً کپاس کے سادہ رنگ میں تیار کی جاتی ہیں، اس کے بعد ان پر رنگ چڑھا کر ان کو جاذب بنایا جاتا ہے۔ رنگائی کا یہ کام اس طرح نہیں ہوتا کہ بنی ہوئی ساڑی کو لے کر رنگ کے ہاؤز میں ڈال دیا جائے۔ رنگائی کا یہ کام اس طرح نہیں ہوتا کہ بنی ہوئی ساڑی کو لے کر رنگ کے ہاؤز میں ڈال دیا جائے۔

اگر ایسا کیا جائے تو کبھی اچھا رنگ نہیں آئے گا۔ رنگائی کرنے سے پہلے سادہ ساڑی کو اس مقصد کے لیے تیار کیا جاتا ہے۔ تیاری کے اس عمل کی تکمیل کے بعد ہی کپڑا اس قابل ہوتا ہے کہ اس کو رنگائی کے آخری مرحلے میں داخل کیا جائے۔ اس پیشگی عمل کے بہت سے پہلو ہیں، مثلاً کپڑے کو نرم کرنا، داغ دھبہ مٹانا، اس کو سفید بنانا۔

اس سے کپڑے کے اندر یہ صلاحیت پیدا ہوتی ہے کہ وہ رنگ کو زیادہ سے زیادہ جذب کر سکے۔ ان پیشگی تیاریوں کا بعد کی رنگائی اور چھپائی سے نہایت گہرا تعلق ہے۔ یہ معلوم کیا گیا ہے کہ رنگے ہوئے کپڑوں کی 70% خرابیوں کا سبب یہی ہوتا ہے کہ ابتدائی کپڑے کو ناقص طور پر تیار کیا گیا تھا۔ These pretreatments have a major role on subsequent dyeing.

Printing and finishing of cotton fabrics. In fact, it has been reported that 70% of all the defects occurring on dyed finished fabrics could be attributed to the imperfect preparation of the base fabrics. Monthly colorage (Dec. 1, 1983): کپاس اور کپڑے کا یہ مزاج براہِ راست خداوندِ عالم کا پیدا کیا ہوا ہے۔

یہ ایک عالمی قانون ہے جس سے موافقت کر کے انسان اپنی پسند کے کپڑے تیار کرتا ہے۔ اس طرح گویا خدا نے ایک نشانی قائم کر دی ہے جو بتا رہی ہے کہ زندگی کی تعمیر کے لیے ہمیں کیا طریقہ اختیار کرنا چاہیے۔ زندگی کی تعمیر میں بھی ضروری ہے کہ پہلے تیاری کے مراحل طے کیے جائیں۔ تیاری کی شرطیں پوری کرنے کے بعد ہی وہ وقت آتا ہے جبکہ اگلے مرحلے کی طرف پیش قدمی کی جائے اور وہ کامیابی حاصل کی جائے جو مطلوب ہے۔

ابتدائی مراحل طے کیے بغیر کبھی آخری منزل نہیں آتی۔ کتاب "راہِ عمل" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 160۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.