← Raah-e-Amal Maazi,Haal aur Mustaqbil ka JayezaRaah-e-Amal Maazi,Haal aur Mustaqbil ka Jayeza
Saifullah ka paighaam
Urdu · 10 min
سیف اللہ کا پیغام: ایک ہندوستانی عالم نے شام کا سفر کیا، وہاں کے شہر حمص میں مشہور صحابیِ رسول خالد سیف اللہ کی قبر ہے۔ موصوف کی ایک تقریر حمص میں ہوئی، مذکورہ ہندوستانی بزرگ اپنی سوانح حیات، مطبوعہ 1983 میں، اس کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں: "حمص کے مرکز اخوان المسلمین میں 29 جولائی 1951 کو میری ایک ولولہ انگیز تقریر ہوئی۔ میں نے کہا کہ شام و حمص کے رہنے والو، عالمِ اسلام کو اب پھر ایک سیف اللہ کی ضرورت ہے۔ کیا آپ عالمِ اسلام کو اس کی کھوئی ہوئی تلوار مشتعال دے سکتے ہیں؟
" صفحہ 290۔ اس تقریر کو خطیبانہ لفاظی تو کہا جا سکتا ہے، مگر اس کو رہنمائی کا درجہ نہیں دیا جا سکتا۔ عالمِ اسلام کی آج جو حالت ہے، اس میں کسی تلوار کو برآمد کرنا اس کے مسئلے کا حل نہیں۔ یہ تلوار پہلے ہی اس کے پاس کافی مقدار میں موجود ہے۔
آج عالمِ اسلام کو جس چیز کی ضرورت ہے، وہ تلوار نہیں، بلکہ خود خالد سیف اللہ کا وہ بے تلوار عمل ہے جو غزوۂ موتہ 8 ہجری کے موقع پر سامنے آیا تھا۔ ان کا یہ دوسرا عمل ہمارے آج کے حالات سے زیادہ متعلق، یعنی ریلیونٹ ہے۔ تاریخی رہنمائی کے سلسلے میں ہمیشہ یہ بات جاننے کی ہوتی ہے کہ ماضی کے جس واقعے کو رہنما واقعے کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، وہ ہمارے آج کے لیے کتنا موزوں اور مناسب ہے۔ اس طرح کے معاملے میں صرف تاریخ کا واقعہ بیان کر دینا کافی نہیں، بلکہ ماضی اور حال کے درمیان موزونیت، یعنی ریلیونس، کو جاننا بھی لازمی طور پر ضروری ہے۔
تاریخ کوئی پوسٹج اسٹیمپ نہیں جس کو میز کے خانے سے نکال کر کسی بھی لفافے پر چسپاں کر دیا جائے۔ صلح حدیبیہ کا وقفۂ امن ملنے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جن حکمرانوں کے نام دعوتی خطوط بھیجے، ان میں سے ایک شرحبیل بن عمرو غسانی تھا۔ وہ قیصرِ روم کی طرف سے علاقۂ شام کا حاکم تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قاصد حضرت حارث ابن عمیر جب یہ خط لے کر شرحبیل کے پاس پہنچے تو اس کے پڑھنے کے بعد شرحبیل اس قدر غضب ناک ہوا کہ اس نے حضرت حارث کو قتل کر دیا۔
قاصدِ رسول کا یہ قتل سراسر ظلم تھا۔ بین الاقوامی آداب کے مطابق وہ مدینے کی حکومت کے خلاف اعلانِ جنگ کے ہم معنی تھا۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے خلاف کارروائی ضروری سمجھی۔ آپ نے 3,000 افراد کا ایک لشکر تیار کر کے شام کی طرف روانہ فرمایا۔
اس لشکر میں بڑے بڑے صحابہ شامل تھے۔ آپ نے حضرت زید ابن حارثہ کو اس لشکر کا امیر مقرر کیا۔ آپ نے فرمایا کہ اگر زید ابن حارثہ قتل ہو جائیں تو جعفر ابن ابی طالب امیر بنائے جائیں۔ اگر وہ بھی قتل ہو جائیں تو عبداللہ ابن رواحہ امیرِ لشکر ہوں۔
اگر وہ بھی قتل ہو جائیں تو اس کے بعد مسلمان جس کو چاہیں اپنا امیر بنا لیں۔ یہ لوگ روانہ ہو کر شام کے ایک گاؤں تک پہنچے، جس کا نام موتہ تھا۔ یہیں دونوں فوجوں کا مقابلہ ہوا۔ مسلمانوں کی تعداد صرف 3,000 تھی۔
دوسری طرف غسانیوں اور رومیوں کی تعداد 200,000 سے بھی زیادہ تھی۔ اس انتہائی غیر مساوی مقابلے کا نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمانوں کے تین سردار، زید ابن حارثہ، جعفر ابن ابی طالب، اور عبداللہ ابن ابی رواحہ، ایک کے بعد ایک شہید ہو گئے۔ آخر میں حسبِ ہدایتِ رسول، مسلمانوں نے خالد ابن الولید کو اپنا سردار مقرر کیا۔ خالد ابن الولید نے غیر معمولی بہادری دکھائی، حتیٰ کہ اس دن ان کے ہاتھ سے 9 تلواریں ٹوٹ گئیں۔
مسلمانوں کے لشکر میں سے 12 قیمتی جانیں ہلاک ہو گئیں، مگر جنگ کا فیصلہ نہ ہو سکا۔ یہاں تک کہ شام کا اندھیرا چھا گیا اور دونوں فریق اپنے اپنے فوجی ٹھکانوں کی طرف چلے گئے۔ حضرت خالد نے غور کیا تو انہیں محسوس ہوا کہ موجودہ حالت میں رومیوں سے جنگ جاری رکھنا بالکل بے فائدہ ہے، کیونکہ دونوں کی تقابلی تعداد اور ان کی نسبتی طاقت ناقابلِ عبور حد تک غیر مساوی ہیں۔ چنانچہ انہوں نے لڑائی کو چھوڑ کر واپسی کا فیصلہ کیا۔
تاہم اس کے لیے انہوں نے ایک نہایت پروقار جنگی تدبیر کی۔ انہوں نے اپنی فوج کو اس طرح تربیت دیا کہ اس کے ایک حصے کو سامنے کی طرف رکھا اور اس کی ایک قابلِ لحاظ تعداد کو پیچھے جنگل کی آڑ میں چھپا دیا۔ صبح کا اجالا ہوا تو طے شدہ منصوبے کے مطابق پیچھے چھپے ہوئے لوگ شور کرتے ہوئے اور نہایت بلند آواز سے نعرہ لگاتے ہوئے بڑھے اور آ آ کر اگلی فوج سے ملنے لگے۔ یہ منظر دیکھ کر رومی فوج نے سمجھا کہ مدینے سے مسلمانوں کے لیے نئی فوجی مدد آ گئی ہے۔
اب وہ مرعوب ہو کر مقابلے کے میدان سے پیچھے ہٹ گئے تاکہ حالات کا جائزہ لیں اور اپنے آپ کو مزید تیار کر سکیں۔ حضرت خالد یہی چاہتے تھے۔ چنانچہ جیسے ہی رومی فوج پیچھے ہٹی، حضرت خالد نے اپنی فوج کو مدینے کی طرف واپسی کا حکم دے دیا۔ پسپائی کا الزام فریقِ ثانی پر ڈال کر انہوں نے جنگ ختم کر دی۔
خالد ابن الولید اور ان کے ساتھی جب موتہ سے واپس ہو کر مدینہ پہنچے تو مدینے کے کچھ مسلمانوں کو ان کی بغیر فتح واپسی ایک قسم کا فرار معلوم ہوئی۔ انہوں نے ان کے اوپر مٹی پھینکی اور مدینے کی سرحد پر یہ کہہ کر ان کا استقبال کیا کہ "اے بھاگنے والو! تم اللہ کے راستے سے بھاگ آئے! " يا فُرَّارُو فَرَّرْتُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تردید کی اور فرمایا: لَيْسُوا بِالْفُرَّارِ وَلَٰكِنَّهُمْ الْكُرَّارُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى سیرت ابن ہشام، الجزء الثالث، صفحہ 438۔
یعنی وہ بھاگنے والے نہیں ہیں، بلکہ اللہ نے چاہا تو وہ اقدام کرنے والے ہیں۔ روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ اسی غزوۂ موتہ کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خالد ابن الولید کو سیف اللہ، یعنی اللہ کی تلوار، کا لقب دیا تھا۔ گویا تلوار کو میان میں رکھ لینا وہ کارنامہ تھا جس کے بعد مذکورہ صحابی اللہ کی تلوار قرار پائے۔ کتاب: راہِ عمل، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 141۔