Maulana Wahiduddin Khan
5 min left
0:00

← Raah-e-Amal Maazi,Haal aur Mustaqbil ka Jayeza
Raah-e-Amal Maazi,Haal aur Mustaqbil ka Jayeza

Muta ka sabaq

Urdu · 5 min

موتہ کا سبق: غزوۂ موتہ میں 12 مسلمان قتل ہوئے، اور 9 تلواریں ٹوٹ گئیں۔ اس کو امیری لشکر نے اتنا سنگین سمجھا کہ فوج کی واپسی کا حکم دے دیا، کیونکہ صورتحال کے مطابق اس وقت جنگ کو جاری رکھنا بے فائدہ بن چکا تھا۔ اس کے برعکس، موجودہ زمانے کے مسلمانوں کو دیکھیے: موجودہ زمانے میں بالاکوٹ مارچ 1831 سے لے کر اجودھیا مارچ 1989 تک لاکھوں مسلمان مقابلہ آرائی میں ہلاک ہو چکے ہیں۔ اور ساری دنیا کے لحاظ سے دیکھیے تو ہلاک ہونے والوں کی تعداد کروڑوں تک پہنچ جائے گی۔

اس درمیان میں جو بے شمار تلواریں ٹوٹی ہیں، ان کی تو کوئی گنتی ہی نہیں۔ اس کے باوجود کوئی نہیں جو اس بے فائدہ لڑائی کو روکنے کی بات کرے۔ ہر بولنے والا آدمی شمشیری زبان میں کلام کرنے کا بادشاہ بنا ہوا ہے۔ آج واقعات بار بار بتا رہے ہیں کہ جنگ اور تصادم کا طریقہ مسلمانوں کے لیے سراسر لاحاصل ہے۔

اس کے باوجود نام نہاد مسلم رہنماؤں کا حال یہ ہے کہ وہ ہر جگہ مسلمانوں کو لڑنے پر اکسا رہے ہیں۔ وہ حنص اور دمشق کے مزارات سے خالد ابن الولید اور صلاح الدین ایوبی کی تلوار برآمد کرنا چاہتے ہیں، تاکہ مفروضہ دشمنوں کے خلاف لڑائی جاری رکھی جا سکے۔ اس المناک کہانی کا مزید المناک باب یہ ہے کہ تلوار کا یہ لفظی کارخانہ وہ لوگ چلا رہے ہیں جنہیں خود لڑنا نہیں ہے۔ وہ اپنی ذمہ داری صرف یہ سمجھتے ہیں کہ وہ ولولہ انگیز تقریریں کریں، اور دوسروں کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ بے فائدہ طور پر لڑ کر اپنے آپ کو ہلاک کرتے رہیں۔

کتنے ظالم ہیں وہ لوگ جن کا حال حضرت مسیح کے الفاظ میں یہ ہے کہ وہ ایسے بھاری بوجھ جن کو اٹھانا مشکل ہے، باندھ کر لوگوں کے کندھوں پر رکھتے ہیں، مگر آپ ان کو اپنی انگلی سے بھی ہلانا نہیں چاہتے۔ متی، باب نمبر 4، آیت 30۔ حقیقت یہ ہے کہ آج خالد ابن الولید کے اس حکیمانہ عمل کو دہرانے کا وقت ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ آج خالد ابن الولید کے اس حکیمانہ عمل کو دہرانے کا وقت ہے، جس کا مظاہرہ انہوں نے موتہ کے موقع پر کیا تھا۔

اگر موجودہ مسلمان ایسا کریں تو ممکن ہے کہ بعض ظاہر بھی افراد ان پر بزدلی کا الزام لگائیں اور انہیں یافرّارو کہہ کر پکاریں، مگر یقین ہے کہ عین اسی وقت خدا و رسول کی آواز یہ کہہ کر ان کے عمل کی تصدیق کر رہی ہوگی کہ لَيْسُوا بِالْفُرَّارِ وَلَٰكِنَّهُمُ الْكُرَّارُ، إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى۔ تاریخ بتاتی ہے کہ موتہ کے موقع پر جن لوگوں نے رومیوں کے مقابلے میں تدبیری واپسی کا فیصلہ کیا تھا، انہی لوگوں نے بعد کو تیار ہو کر دوبارہ اقدام کیا۔ اور نہ صرف غسانیوں کو بلکہ پوری رومی بادشاہت کو مٹا ڈالا، اور اسلامی عظمت کی ایک نئی تاریخ پیدا کر دی۔ موجودہ زمانے کے مسلمان واپسی کے لیے تیار نہیں ہوئے، اس لیے کوئی تاریخی اقدام بھی ان کے لیے مقدر نہ ہو سکا۔

موتہ کے محاذ سے واپس آنے والے ہی دوبارہ موتہ کے محاذ کو فتح کرتے ہیں۔ جو لوگ اس راز کو نہ جانیں، وہ ملت کی تاریخ میں صرف قبرستانوں کا اضافہ کریں گے، وہ ملت کی عظمتوں کا مینار کھڑا کرنے والے نہیں بن سکتے۔ کتاب: راہِ عمل، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 144۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.