← Raah-e-Amal Maazi,Haal aur Mustaqbil ka JayezaRaah-e-Amal Maazi,Haal aur Mustaqbil ka Jayeza
Inquilabi zavi-e-nazar
Urdu · 10 min
انقلابی زاویۂ نظر: پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے زندگی کے بارے میں جو نقطۂ نظر دیا، وہ ایسا نقطۂ نظر ہے جو آدمی کو سراپا عمل بنا دیتا ہے۔ وہ آدمی کی صلاحیتوں کو جگا کر، اس کو حالات کے مقابلے میں ناقابلِ تسخیر بنا کر کھڑا کر دیتا ہے۔ قرآن میں ایک سے زیادہ مقام پر بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جب آدم کو اور ان کی ذریت کو زمین پر آباد کیا، تو ان سے فرمایا کہ تم لوگ زمین پر بسو، اور تم لوگ ایک دوسرے کے دشمن ہو گئے۔ قَالَهُ بِثُو بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ سورہ نمبر 7 آیت 24۔
اس کا مطلب کیا ہے؟ اس کا مطلب یہ ہے کہ دنیا میں انسان درختوں اور پتھروں کی مانند نہیں رہے گا، بلکہ وہ متحرک اور متصادم مخلوق کی مانند رہے گا۔ یہاں انسانوں کے باہمی تعلقات مسابقت یعنی competition کی بنیاد پر قائم ہوں گے۔ یہاں ایک انسان اور دوسرے انسان، ایک گروہ اور دوسرے گروہ کے درمیان ٹکراؤ پیش آئے گا۔
اس کے نتیجے میں آخری طور پر یہاں تک نوبت پہنچے گی کہ آپس میں دشمنیاں قائم ہوں گی۔ اس نظامِ تخلیق کا پہلا مظاہرہ ہابیل اور قابیل کے خونی نزاع کی صورت میں پیش آیا، اور اب تک وہ مختلف شکلوں میں بنی آدم کے درمیان جاری ہے۔ اس نظامِ تخلیق کا مطلب دوسرے لفظوں میں یہ ہے کہ دنیا میں آدمی کو چیلنج کے حالات میں رہنا ہوگا۔ اس دنیا میں کسی کو عمل کا بے ضرر اور ہموار میدان نہیں ملے گا۔
یہاں افراد اور قوموں کو رکاوٹوں اور مخالفتوں، حتیٰ کہ دشمنیوں کے درمیان زندگی کا سفر طے کرنا پڑے گا۔ گویا دنیا کی زندگی آدمی کے فکر و عمل کا امتحان ہوگی۔ جو شخص خدا کی دی ہوئی صلاحیتوں کو صحیح طور پر استعمال کرے گا، وہ کامیاب ہوگا۔ اور جو لوگ خدا کی دی ہوئی صلاحیتوں کو صحیح طور پر استعمال نہ کر سکیں، وہ اس دنیا میں کامیابی کو بھی حاصل کرنے میں ناکام ثابت ہوں گے۔
اس سے معلوم ہوا کہ انسانی دنیا میں خدا نے مقابلہ اور مسابقت کا وہی نظام قائم کیا ہے جو حیوانات کے درمیان بڑے پیمانے پر رائج ہے۔ حیوانات کی دنیا میں یہ نظام ہے کہ ہرن کے پیچھے بھیڑیا دوڑ رہا ہے۔ اگر بھیڑیا اس طرح نہ دوڑے تو ہرن اپنے جوہرِ حیات کو کھو دے گا۔ یہاں بڑی مچھلی چھوٹی مچھلی کا پیچھا کر رہی ہے۔
اگر ایسا نہ ہو تو مچھلیوں کی نشونما کا عمل رک جائے۔ اسی طرح انسانی زندگی میں بھی تمام ترقیاں مقابلہ اور مسابقت کے ساتھ وابستہ ہیں۔ اگر زندگی میں مقابلہ اور مسابقت کا ماحول باقی نہ رہے تو ہر قسم کی ترقیوں کا بھی خاتمہ ہو جائے۔ سیرت کی روایتوں میں آتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے بعد مکے سے طائف کا سفر فرمایا۔
درمیان میں ایک راستہ ملا جو بظاہر تنگ اور دشوار تھا۔ آپ نے پوچھا کہ اس راستے کا نام کیا ہے؟ لوگوں نے کہا کہ "الضيقة" یعنی تنگ۔ آپ نے فرمایا کہ نہیں، وہ آسان ہے۔
بل هي اليسرى سیرت ابن ہشام جلد 4 صفحہ 127۔ مذکورہ راستہ بطور واقعہ تنگ تھا، مگر اس کے باوجود آپ نے اس کو آسان راستہ قرار دیا۔ اس طرح آپ نے بتایا کہ زندگی ایک امتحان ہے۔ یہاں بہرحال تنگی اور دشواری پیش آئے گی۔
تمہارا کام یہ نہیں ہے کہ دشواری کو دشواری کہہ کر اپنے آپ کو بے حوصلہ کر لو، یا اس کے خلاف فریاد و احتجاج کرنے لگو۔ تمہارا کام یہ ہے کہ تم تنگی کو کشادگی میں مبدل یعنی convert کرو۔ تم مشکل کو آسان بنا کر اس کے اوپر فتح حاصل کرو۔ تمہارا سوچنے کا طریقہ انقلابی ہونا چاہیے، نہ کہ احتجاجی۔
یہ وہی چیز ہے جس کو موجودہ زمانے کے بعض مفکرین نے مسئلے کا برتر حل یعنی superior solution کا نام دیا ہے۔ پیغمبر اسلام کی پوری زندگی اسی برتر تدبیر کی اعلیٰ مثال ہے۔ آپ کو عرب میں سخت ترین مشکلوں سے سابقہ پیش آیا، مگر آپ نے ان مشکلوں کو چیلنج کے روپ میں دیکھا۔ آپ نے دشواریوں کو اپنے لیے زینہ بنا کر ان کے اوپر فتح حاصل کی۔
مکے کے اہلِ شرک نے آپ کے لیے اور آپ کے اصحاب کے لیے مکے میں رہنا مشکل بنا دیا۔ آپ نے اس ناموافق صورتحال کو اپنے لیے موافق صورتحال میں تبدیل کر لیا۔ ایک طرف آپ نے اپنے سو سے کچھ اوپر اصحاب کو، جو سب کے سب داعیانہ جذبہ رکھتے تھے، سمندر پار حبش کے ملک میں بھیج دیا۔ اس طرح آپ کی دعوت ایشیا سے نکل کر افریقہ میں داخل ہو گئی۔
ایک دعوت جو ابھی تک صرف مقامی حیثیت رکھتی تھی، وہ بین الاقوامی دعوت کی صورت اختیار کر گئی۔ دوسری طرف آپ نے اپنے کچھ ساتھیوں کو مدینہ یعنی یثرب روانہ کیا۔ وہاں دعوت کے ذریعے لوگ بڑی تعداد میں اسلام میں داخل ہو گئے۔ اس کے بعد آپ خود بھی مکے سے نکل کر مدینہ چلے گئے، اور مدینے کو مرکز بنا کر اپنا دعوتی کام مزید شدت کے ساتھ جاری کر دیا۔
اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اولاً مدینہ اور اس کے بعد پورا ملک اسلام کے دائرے میں داخل ہو گیا۔ موجودہ زمانے میں تاریخ کے وسیع تر مطالعے نے اس نظریے کے حق میں مزید تصدیق فراہم کی ہے۔ مثال کے طور پر آرنلڈ ٹوائن 1889 تا 1975 نے انسانی تاریخ کی 21 تہذیبوں کا مطالعہ کیا ہے، اور اس کو اپنی کتاب "مطالعہ تاریخ" (A Study of History) کی 12 جلدوں میں تفصیل کے ساتھ پیش کیا ہے۔ ٹوائن بھی اس تاریخی مطالعے سے اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ تمام بڑی بڑی تہذیبیں ان قوموں نے پیدا کیں جن کو خارجی دنیا کی طرف سے چیلنج پیش آیا۔
چیلنج نے ان کو متحرک کیا۔ اس نے ان کی چھپی ہوئی صلاحیتوں کو ابھارا، یہاں تک کہ مغلوب قومیں بالآخر غالب قومیں بن کر ابھر آئیں۔ اسلام کا یہ نظریہ انسان کے لیے بہت بڑی دین ہے۔ یہ نظریہ مایوس لوگوں کے لیے ہمت کا دروازہ کھولتا ہے۔
وہ شکایت کے مزاج کو ختم کر کے محنت کا مزاج پیدا کرتا ہے۔ وہ آدمی کے اندر یہ سوچ ابھارتا ہے کہ وہ حالات کے خلاف فریاد و احتجاج میں اپنا وقت ضائع نہ کرے۔ وہ حالات کا سامنا کر کے کامیابی اور فتح مندی کی منزل کی طرف رواں دواں ہو جائے۔ کتاب "راہِ عمل" مولانا وحید الدین خان صفحہ نمبر 104.