Maulana Wahiduddin Khan
12 min left
0:00

← Raah-e-Amal Maazi,Haal aur Mustaqbil ka Jayeza
Raah-e-Amal Maazi,Haal aur Mustaqbil ka Jayeza

Nafs-e-ammaara,Nafs-e-lavvaama

Urdu · 12 min

نفسِ امارہ، نفسِ لوامہ۔ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم خدا کی طرف سے جو کتاب لائے، اس میں یہ بتایا گیا ہے کہ انسان کے اندر پیدائشی طور پر دو قسم کی صلاحیتیں موجود ہیں۔ ایک صلاحیت کو قرآن میں نفسِ امارہ، یوسف، سورہ نمبر 12 آیت 53 کہا گیا ہے، اور دوسری صلاحیت کو نفسِ لوامہ، القیامہ، سورہ نمبر 72 آیت 2۔ نفسِ امارہ سے وہی چیز مراد ہے جس کو انانیت یعنی ایگو ازم کہا جاتا ہے، اور نفسِ لوامہ سے مراد وہ چیز ہے جس کا نام نفسیاتی اصطلاح میں ضمیر یعنی کانشینس ہے۔

نفسِ امارہ کی صفت سرکشی، ظلم اور فساد انگیزی ہے۔ اس کے برعکس نفسِ لوامہ کی صفت اعتراف، تواضع اور انصاف پسندی ہے۔ آدمی کے نفسِ امارہ کا جاگنا ظلم کا جاگنا ہے، اور اس کے نفسِ لوامہ کا جاگنا انصاف کا جاگنا ہے۔ یہ دونوں صلاحیتیں ہر آدمی کے اندر موجود ہیں، مگر ابتدائی حالت میں وہ سوئی ہوئی ہوتی ہیں۔

جب آپ کا کسی کے ساتھ معاملہ پیش آئے تو آپ کے لیے دو میں سے ایک کے انتخاب کا موقع ہوتا ہے۔ آپ چاہیں تو نفسِ امارہ کو اپنا حصہ دار بنائیں، اور چاہیں تو نفسِ لوامہ کو اپنے حصے میں لے لیں۔ اور چاہیں تو نفسِ لوامہ کو اپنے حصے میں لیں، جو گویا فریقِ ثانی کے اندر آپ کا ایک موافق وکیل ہے۔ اس معاملے کا انحصار اس پر ہے کہ فریقِ ثانی کے اندر چھپی ہوئی صلاحیتوں میں سے کس صلاحیت کو آپ نے جگایا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ فریقِ ثانی کے اندر آپ کا ایک دشمن انسان چھپا ہوا ہے، اور اسی کے ساتھ آپ کا ایک دوست انسان بھی۔ اب یہ آپ کا امتحان ہے کہ آپ دونوں میں سے کس انسان کو جگاتے ہیں۔ آپ جس انسان کو جگائیں گے، وہی انسان آپ کے حصے میں آئے گا۔ سب سے زیادہ برا شخص وہ ہے جس کے لیے موقع تھا کہ وہ فریقِ ثانی کے اندر چھپے ہوئے اپنے موافق انسان کو جگاتا، مگر اس نے اپنی نادانی سے فریقِ ثانی کے اندر چھپے ہوئے اپنے دشمن انسان کو جگا دیا۔

یہی وہ بدبخت انسان ہے جس کے بارے میں حدیث میں آیا ہے کہ إن الفتنة نائمة لعن الله من أيقظها التدوين في أخبار قزوين للرافعي جلد 1، صفحہ 291۔ یعنی: فتنہ سویا ہوا ہے، اس شخص پر خدا کی لعنت ہے جو اس کو جگائے۔ حدیث کی کتابوں میں ایک واقعہ آیا ہے: ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینے کی مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے، جو مسجدِ نبوی کے مقدس نام سے مشہور ہے۔ ایک اعرابی یعنی مشرک وہاں آیا اور مسجد کے ایک حصے میں پیشاب کرنے لگا۔

صحابہ کرام یہ دیکھ کر دوڑے کہ اس کو پکڑیں اور اس کی تنبیہ کریں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو منع کر دیا۔ آپ نے صحابہ سے فرمایا کہ تمہارا کام لوگوں کو آسانی دینا ہے، تمہارا کام لوگوں کو مشکل میں ڈالنا نہیں ہے۔ اس کے بعد آپ نے فرمایا کہ جس مقام پر اعرابی نے پیشاب کیا ہے، وہاں ایک بالٹی پانی بہا دو، وہ جگہ پاک ہو جائے گی۔

اعرابی کو آپ نے یہ کہہ کر چھوڑ دیا کہ یہ گھر خدا کی عبادت کے لیے ہے، یہ بول و براز کے لیے نہیں۔ صحیح مسلم، حدیث نمبر 285۔ اگر آپ اس اعرابی کو پکڑتے اور مارتے تو اس کا نفسِ امارہ جاگ اٹھتا، وہ مدینے سے لوٹ کر جاتا تو آپ کے خلاف سازشیں کرتا، اور ہر طرف لوگوں سے آپ کی برائی بیان کرتا۔ مگر جب آپ نے اس کے ساتھ مذکورہ قسم کا شریفانہ برتاؤ کیا تو اس کا نفسِ لوامہ جاگ اٹھا۔

اب اس کو اپنے آپ پر شرم آنے لگی۔ اس کا دل بار بار اس سے کہنے لگا کہ میں کتنا برا ہوں، اور محمد میرے مقابلے میں کتنے اچھے ہیں۔ یہ اعرابی واپس ہو کر اپنے قبیلے میں گیا تو وہ اندر سے ایک بدلا ہوا انسان تھا۔ وہ اپنے قبیلے والوں سے کہتا پھرتا تھا کہ میں مدینہ گیا اور وہاں میں نے محمد کے عبادت خانے کو گندا کر دیا۔

مگر خدا کی قسم، محمد نے نہ مجھ پر غصہ کیا اور نہ محمد نے مجھ کو جھڑکا۔ والله ما قہرني محمد والله ما زجرني محمد مسند ابی شیبہ، مسند ابن ابی شیبہ، حدیث نمبر 825۔ اولا: مذکورہ اعرابی کا نفسِ لوامہ جاگا تھا، مگر اس کی تقریروں سے قبیلے کے تمام افراد کی انسانیت جاگ اٹھی۔ چنانچہ اس اعرابی نے اور اس کے پورے قبیلے نے اسلام قبول کر لیا۔

وہ پیغمبرِ اسلام کی جماعت میں اضافہ کر کے آپ کی مزید طاقت کا ذریعہ بن گئے۔ اب اس واقعے کا موجودہ زمانے کی صورتحال سے تقابل کیجئے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انسان کی غلطی پر ایک بالٹی پانی بہایا تھا، اور اس کے بعد ایک پورا قبیلہ اس سے متاثر ہو کر اسلام میں داخل ہو گیا۔ موجودہ زمانے میں لوگ اس قسم کی غلطیاں کرتے ہیں تو مسلمان ان سے لڑ پڑتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان ٹکراؤ ہوتا ہے، اور ہزاروں بالٹی خون سڑکوں پر بہا دیا جاتا ہے۔

مگر خون کی ان ہزاروں بالٹیوں نے مسلمانوں کے دشمنوں میں سے کسی ایک دشمن کو بھی اسلام کی رحمتوں کے سائے میں داخل نہیں کیا۔ دونوں کے درمیان اس غیر معمولی فرق کی وجہ کیا ہے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ محبت کا پانی تھا، اور یہ نفرت کا خون ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کی غلطیوں پر محبت کا پانی بہایا تھا۔

موجودہ مسلمان لوگوں کی غلطیوں پر نفرت کا خون بہا رہے ہیں۔ اور ظاہر ہے کہ محبت اور نفرت دونوں کا انجام یکساں نہیں ہو سکتا۔ محبت کے پانی کی ایک بالٹی بھی دلوں کو بدل دینے کے لیے کافی ہے۔ مگر نفرت کے خون کی لاکھوں بالٹیاں بھی انڈیل دی جائیں تو وہ لوگوں کے دلوں کو پھیرنے والی نہیں بنیں گی۔

مزید وضاحت کے لیے یہاں ایک اور واقعہ درج کیا جاتا ہے۔ 1968 میں ایک مسلمان تاجر نے یو پی کے ایک شہر میں اپنا گھر بنایا۔ اس کے قریب ایک ہندو ٹھیکے دار کا گھر تھا۔ دونوں گھروں کے درمیان ایک غیر ہموار خالی زمین تھی۔

مسلمان کا خیال تھا کہ یہ میری زمین ہے، انہوں نے چاہا کہ اس کو ہموار کریں اور اس کی گھیرا بندی کر کے اس کو اپنے مکان میں شامل کر لیں۔ ہندو ٹھیکے دار کو اس پر اعتراض ہوا۔ اس نے کہا کہ یہ میری زمین ہے، آپ کا اس پر کوئی حق نہیں۔ خلاصہ یہ کہ ہندو ٹھیکے دار نے شہر میں فرقہ پرست ہندوؤں کو اکسایا۔

خلاصہ یہ کہ ہندو ٹھیکے دار نے شہر میں فرقہ پرست ہندوؤں کو اکسایا، یہاں تک کہ ایک روز ہندوؤں کا غصے میں بھرا ہوا ایک ہجوم مسلمان کے گھر کے سامنے کی سڑک پر جمع ہو گیا۔ وہ اشتعال انگیز نعرے لگا رہا تھا۔ مسلمان کے پاس بندوق موجود تھی، مگر اس نے بندوق استعمال نہیں کی۔ وہ خالی ہاتھ باہر نکلا۔

مجمعے کا اندازہ کرنے کے بعد اس نے کہا کہ آپ میں لیڈر کون ہے؟ ایک شخص، مسٹر سورن، آگے بڑھے۔ مسلمان نے مجمعے سے کہا کہ آپ لوگ یہاں ٹھہریے، اور سورن کو لے کر اندر اپنے دفتر میں گیا۔ وہاں ان کو بٹھا کر ان سے بات چیت شروع کی۔

مسلمان نے پوچھا کہ آپ حضرات نے کیوں زحمت فرمائی؟ مسٹر سورن نے نہایت روکھے انداز میں جواب دیا کہ آپ نے ہمارے بھائی کی زمین پر قبضہ کر لیا ہے، اس لیے ہم یہاں آئے ہیں۔ مسلمان نے کہا کہ ٹھیک ہے، دیکھیے، زمین کاغذ پر ہوتی ہے، یعنی زمین کا فیصلہ کاغذی نقشہ اور دستاویزات کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔ اب آپ ایسا کریں کہ زمین سے متعلق جو کاغذات میرے پاس ہیں، وہ مجھ سے لے لیں، اور جو کاغذات ٹھیکے دار صاحب کے پاس ہیں، وہ ان سے لے لیں۔

اس کے بعد آپ نہایت اطمینان کے ساتھ اپنے گھر چلے جائیں۔ دونوں کے کاغذات کو دیکھ کر آپ جو فیصلہ کر دیں گے، وہی مجھے منظور ہے۔ یہ سنتے ہی مسٹر سورن کا انداز بدل گیا۔ وہ ہنستے ہوئے باہر نکلے اور اپنے آدمیوں سے کہا کہ آپ لوگ اپنے گھروں کو واپس جائیں۔

میاں صاحب نے خود ہم کو اس معاملے میں جج بنا دیا ہے، ہم معاملے کی جانچ کرنے کے بعد اس کا فیصلہ کریں گے۔ مسٹر سورن اور ان کے ساتھیوں نے چند دن کاغذات کی جانچ کی۔ اس کے بعد انہوں نے مکمل طور پر مسلمان کے حق میں اپنا فیصلہ دے دیا۔ مذکورہ مسلمان اگر اپنی بندوق نکالتا اور ہندوؤں سے لڑائی کرتا تو وہ ان کی نفسِ امارہ کو جگاتا۔

ایسی حالت میں فریقِ ثانی کا صرف دشمن انسان اس کے حصے میں آتا۔ مگر جب اس نے شرافت اور اخلاق والا انداز اختیار کیا تو اس نے فریقِ ثانی کے اندر چھپے ہوئے اپنے دوست انسان کو جگا دیا۔ اس کے بعد وہی موافق انجام ہو سکتا تھا جس کا اوپر ذکر ہوا۔ کتاب: راہِ عمل مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 107۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.