Maulana Wahiduddin Khan
11 min left
0:00

← Raah-e-Amal Maazi,Haal aur Mustaqbil ka Jayeza
Raah-e-Amal Maazi,Haal aur Mustaqbil ka Jayeza

Fitrat se mutabaqat

Urdu · 11 min

فطرت سے مطابقت: قرآن میں اللہ تعالیٰ کا ایک قانون ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے کہ کتنی ہی چھوٹی جماعتیں اللہ کے حکم سے بڑی جماعتوں پر غالب آئیں، اور اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ كَمْ مِنْ فِئَةٍ قَلِيلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةً كَثِيرَةً بِإِذْنِ اللَّهِ وَاللَّهُ مَعَ الصَّابِرِينَ سورہ نمبر 2، آیت 249۔ اس آیت میں "اذن" کا لفظ آیا ہے؛ عربی میں اس کے معنی اجازت ہیں۔ آیت بتاتی ہے کہ چھوٹا گروہ بھی بڑے گروہ پر غالب آ سکتا ہے، بشرطیکہ اس کو خدا کا اذن حاصل ہو جائے۔

یہ اذنِ خداوندی کس کو ملتا ہے؟ اس کا جواب خود آیت کے اگلے حصے میں موجود ہے۔ وہ جواب یہ ہے کہ یہ اذن ان لوگوں کو ملتا ہے جو صبر کا ثبوت دیں۔ اس دنیا میں تمام واقعات فطرت کے خانون کے تحت پیش آتے ہیں۔

آدمی اگر اپنے حصے کی ذمہ داری کو انجام دیتا رہے اور جلد بازی کا شکار نہ ہو، تو فطرت کا عمل اپنے وقت پر پورا ہوتا ہے اور اس کو کامیابی تک پہنچا دیتا ہے۔ لیکن اگر وہ صبر نہ کرے اور نتیجے کو جلد دیکھنے کے لیے قبل از وقت کوئی کارروائی کر بیٹھے، تو گویا اس نے خود اپنے ہاتھوں اپنے آپ کو ناکام بنا لیا۔ ایک مثال اس معاملے کو بہت اچھی طرح واضح کرتی ہے: ایک شخص اپنے گھر کے اندر ایک درخت لگانا چاہتا تھا۔ اگر وہ بیج کو زمین میں ڈال کر 10 سال تک انتظار کرتا، تو وہ اپنے گھر میں ایک ہرا بھرا درخت دیکھنے کی خوشی حاصل کر سکتا تھا۔

مگر اس نے 10 سال کا سفر ایک دن میں طے کرنا چاہا، چنانچہ اس نے باہر سے ایک بڑا درخت کھدوایا اور اس کو لا کر اپنے گھر میں جما دیا۔ چند دن کے بعد اس کا درخت سوکھ گیا۔ وہ اپنے گھر میں اداس بیٹھا ہوا تھا۔ اتنے میں اس کا ایک دوست اس سے ملنے کے لیے آیا۔

دوست نے اپنے ساتھی کو اداس دیکھ کر پوچھا کہ کیا بات ہے، آج تم اداس دکھائی دے رہے ہو؟ آدمی نے جواب دیا کہ بات یہ ہے کہ میں جلدی میں ہوں، مگر خدا جلدی نہیں چاہتا۔ I am in hurry, but God isn't. درخت کے لیے خدا کا اذن یہ ہے کہ پہلے ایک زرخیز زمین فراہم کی جائے، اس کو تیار کر کے اس میں بیج ڈالا جائے۔

پھر نشوونما کی مقررہ مدت تک اس کا انتظار کیا جائے۔ الاعراف سورہ نمبر 7، آیت 58۔ اس اذنِ خداوندی سے موافقت کے بغیر کوئی شخص درخت کا مالک نہیں بن سکتا۔ مذکورہ شخص کی غلطی یہ تھی کہ اس نے درخت کے معاملے میں خدا کے اذن کا لحاظ نہ کیا، اس لیے وہ درخت بھی حاصل نہ کر سکا۔

اسی طرح زندگی کے معاملے میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے صبر کا اصول مقرر کیا ہے۔ آدمی اگر چاہتا ہے کہ وہ حقیقی کامیابی حاصل کرے، تو اس کو چاہیے کہ وہ اپنے دائرے اور امکان کے اعتبار سے اپنے عمل کا آغاز کرے اور بحیثیت انسان کے اس کی جو ذمہ داریاں ہیں، ان کو ادا کرنے میں لگ جائے۔ جب وہ ایسا کرے گا تو اس کے فوراً بعد فطرت کے اسباب بھی اس کے حق میں جمع ہونا شروع ہو جائیں گے۔ اب اگر اس نے اسبابِ فطرت کی تکمیل سے پہلے کوئی اقدام کر دیا تو وہ ناکام رہے گا۔

اور اگر اس نے اس وقت تک انتظار کیا جبکہ فطرت کے اسباب اس کے حق میں جمع ہو جائیں تو وہ کامیاب رہے گا۔ یہی وہ بات ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کرتے ہوئے قرآن میں اس طرح کہی گئی ہے کہ اپنے دعوتی عمل کو جاری رکھتے ہوئے تم نتیجے کے بارے میں صبر کرو، جس طرح ہمت والے پیغمبروں نے صبر کیا۔ اور ان کے لیے جلدی نہ کرو۔ فَاصْبِرْ كَمَا صَبَرَ أُولُو الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ وَلَا تَسْتَعْجِلْ لَهُمْ سورہ نمبر 46، آیت 35۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں اس کی ایک مثال مکی دور اور مدنی دور کا معاملہ ہے۔ مکی دور میں مسلمانوں پر ظلم ہو رہا تھا اور ان کو ستایا جا رہا تھا، مگر مسلمانوں کے مطالبے کے باوجود انہیں ظالموں کے مقابلے میں دفاع کی اجازت نہیں دی گئی۔ انہیں یہ حکم دیا گیا کہ تم ایک طرفہ صبر کرتے رہو۔ یونس سورہ نمبر 10، آیت 109۔

البتہ مدینہ پہنچنے کے بعد انہیں اجازت دے دی گئی کہ وہ ظالموں کے مقابلے میں دفاع کر سکتے ہیں۔ الحج سورہ نمبر 22، آیت 39۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ مکے میں ابھی عملِ دعوت اس تکمیلی حد کو نہیں پہنچا تھا جس کو اتمامِ حجت کہا جاتا ہے۔ اس بنا پر ایسا نہیں ہوا تھا کہ مخالف گروہ کے تمام صالح افراد کٹ کر نکل آئیں، اور اس کے غیر صالح عناصر اپنے انکار پر مصر رہنے کی بنا پر خدا کی پکڑ کے مستحق بن جائیں۔

جب یہ دعوتی حد آخری طور پر پوری ہو گئی، اور اتمامِ حجت کے باوجود انکار کے نتیجے میں اہلِ کفر خدا کی پکڑ کے مستحق قرار پا گئے، اس وقت ان سے ٹکرانے کی اجازت دے دی گئی۔ اس معاملے کی ایک مثال وہ ہے جو ہندوستان میں صوفیوں اور لیڈروں کے تقابل سے سامنے آتی ہے۔ ہندوستان کے مسلم معاشرے میں 1947 سے پہلے صوفیوں کا غلبہ تھا۔ 1947 کے بعد یہاں کے مسلم معاشرے پر لیڈروں کا غلبہ ہے۔

دونوں زمانوں کا مطالعہ کیجئے تو ان میں ایک بے حد نمایاں فرق نظر آئے گا۔ پچھلے دور میں لاکھوں کی تعداد میں ہندوؤں نے اسلام قبول کیا۔ موجودہ دور میں صورتحال اس کے برعکس ہے۔ اشاعتِ اسلام کا عمل، جو پچھلے دور میں پورے تسلسل کے ساتھ جاری تھا، وہ اب ہر طرف رکا ہوا نظر آتا ہے۔

اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ موجودہ لیڈر اسلام کی تبلیغ نہیں کرتے، اور صوفیاء اسلام کی تبلیغ کرتے تھے۔ اس کا کوئی ثبوت نہیں کہ صوفیاء نے یہاں تبلیغ کا باقاعدہ عمل کیا ہو۔ صوفیاء کا اصل کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے فطرت کو اپنا کام کرنے کا موقع دیا، جبکہ موجودہ لیڈر فطرت کو اپنا کام کرنے کا موقع نہیں دے رہے۔ صوفیاء کا دین محبت تھا۔

ان کی کوشش یہ ہوتی تھی کہ مختلف فرقوں کے درمیان اچھے تعلقات قائم کریں۔ اس طرح وہ انسان کو موقع دیتے تھے کہ وہ اپنے فطری راستے پر بے روک ٹوک آگے بڑھ سکے۔ اب چونکہ اسلام اور انسانی فطرت دونوں ایک ہیں، اس لیے فطرت کا سفر ہمیشہ اسلام کی منزل پر ختم ہوتا تھا۔ لوگ اپنے آپ اسلام کی طرف راغب ہوتے، اور پھر صوفیاء کے ہاتھ پر اسلام قبول کر لیتے۔

اس طرح کسی براہِ راست تبلیغ کے بغیر اسلام فطرت کے زور پر اپنے آپ پھیلتا جا رہا تھا۔ موجودہ مسلم لیڈروں کا معاملہ اس کے بالکل برعکس ہے۔ وہ نفرت اور رقابت کے دین پر کھڑے ہوئے ہیں۔ انہوں نے حکومت یا ہندو کے خلاف کچھ نزاعی ایشو اٹھا رکھے ہیں، اور ان کے نام پر منفی دھوم مچاتے رہتے ہیں۔

ان کی یہ سرگرمیاں دونوں فرقوں میں نفرت اور تعصب کی آگ بھڑکا کر دونوں کو ایک دوسرے سے دور کر رہی ہیں۔ یہی نفرت اور تعصب کا ماحول ہے جس نے موجودہ زمانے میں فطرت کو اپنا عمل کرنے سے روک دیا ہے۔ اسلام کا سیلاب، جو صوفیاء کے زمانے میں روانی کے ساتھ جاری تھا، وہ موجودہ ہندوستان میں ہر طرف رکا ہوا نظر آتا ہے۔ کتاب "راہِ عمل" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 101۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.