Maulana Wahiduddin Khan
6 min left
0:00

← Raah-e-Amal Maazi,Haal aur Mustaqbil ka Jayeza
Raah-e-Amal Maazi,Haal aur Mustaqbil ka Jayeza

Imani hausla

Urdu · 6 min

ایمانی حوصلہ: خدائی صراطِ مستقیم جو پیغمبر کے ذریعے کھولی گئی ہے، اس کا پہلا اور بنیادی جز ایمان باللہ ہے۔ اللہ پر ایمان کسی قسم کے تلفظِ کلمے کا نام نہیں؛ یہ ایک عظیم ترین حقیقت پر گہرے یقین کا نام ہے جو آدمی کے اندر زبردست ذہنی انقلاب پیدا کر دیتا ہے۔ خدا اس کائنات کی سب سے بڑی حقیقت ہے، وہ لامحدود علم اور لامحدود طاقت والا ہے۔ وہ ہر قسم کے صفاتِ کمال کا ابدی خزانہ ہے۔

ایسے خدا پر ایمان لانا، گویا طاقتور ترین ہستی کو اپنی حمایت پر کھڑا کر لینا ہے۔ یہ احساس آدمی کو ایسا برتر حوصلہ دیتا ہے جو کبھی مایوسی کا شکار نہ ہو، جو کبھی زیر ہونے پر راضی نہ ہو سکے، جو نازک ترین لمحات میں بھی ہمت اور عزم کو نہ کھوئے۔ ایمان آدمی کو کیسا عطا حوصلہ دیتا ہے، اس کا ایک اعلیٰ نمونہ پیغمبر اسلام کا وہ واقعہ ہے جو غار ثور میں پیش آیا۔ مکہ والے اسلام کے دشمن ہو گئے، حتیٰ کہ انہوں نے آپ کے قتل کا منصوبہ بنایا۔

اس وقت آپ خاموشی کے ساتھ مکے سے نکل کر مدینے کے لیے روانہ ہو گئے۔ اہلِ مکہ کو جب معلوم ہوا تو وہ راستوں کی طرف دوڑے، یہاں تک کہ کچھ لوگ غار ثور کے منہ تک پہنچ گئے۔ اس وقت آپ کے ساتھی حضرت ابوبکر کی زبان سے نکلا کہ "وہ تو یہاں بھی آ گئے"۔ آپ نے نہایت پرسکون لہجے میں فرمایا: "يا أبا بكر، ما ظنك بإثنين الله ثالثهما؟

" صحیح مسلم، حدیث نمبر 2381۔ یعنی: "اے ابوبکر! ان دو کے بارے میں تمہارا کیا گمان ہے جن کا تیسرا اللہ ہو؟ " رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ کلمہ بلاشبہ انسانی حوصلے کی اعلیٰ ترین مثال ہے، اور یہ اعلیٰ مثال تاریخِ انسانی میں جس چیز نے قائم کی، وہ ایمان باللہ تھا۔

یہ واقعہ بتاتا ہے کہ ایمان باللہ میں کس طرح یہ عظیم طاقت ہے کہ وہ نازک ترین لمحات میں بھی انسان کو بے حوصلہ ہونے سے بچائے۔ وہ آخری حد تک اس کو عزم و ہمت کے بلند معیار پر قائم رکھے۔ قدیم عرب کی تاریخ کا ایک سال وہ ہے جو عام الفیل 571 عیسوی کے نام سے مشہور ہے۔ یہ وہ سال ہے جب کہ یمن کا عیسائی حکمران ابرہا 60,000 آدمیوں کا لشکر اور ایک درجن ہاتھی لے کر مکے کی طرف بڑھا، تاکہ کعبے کو ڈھا کر اسے ہمیشہ کے لیے ختم کر دے۔

اہلِ عرب کے لیے اس وقت ہاتھیوں کا تصور بڑا بھیانک تھا۔ چنانچہ ہاتھیوں کی فوج کی خبر سن کر مکے کی اکثریت شہر چھوڑ کر پہاڑوں اور وادیوں میں جا کر چھپ گئی۔ ان کو یہ بات ناقابلِ تصور معلوم ہوئی کہ وہ ایک ایسی فوج کا مقابلہ کریں جس میں متحرک چٹانیں انسانوں کو کچلنے کے لیے آگے آگے چل رہی ہوں۔ اس واقعہ، یعنی 571 عیسوی کے 70 سال بعد، 642 عیسوی میں انہی عربوں کا مقابلہ ایرانیوں کے ساتھ پیش آیا۔

دریائے فرات کے کنارے ایرانیوں کا لشکر اس طرف صف آرا ہوا کہ ان کے آگے سو سے بھی زیادہ جنگی ہاتھی، کالے دیو کی طرح کھڑے ہوئے تھے۔ ان ہاتھیوں کو دیکھ کر عربوں کے گھوڑے بدکنے لگے۔ اس وقت بہت سے عرب فوجی اپنے گھوڑوں کی پیٹھوں سے کود پڑے۔ انہوں نے اپنی تلوار کے ذریعے ہاتھیوں پر حملہ کر دیا اور ان کی سونڈیں کاٹ ڈالیں۔

اس کے بعد ہاتھیوں کی صفیں ٹوٹ گئیں۔ وہ چیختے ہوئے پیچھے کی طرف بھاگے اور خود ایرانی فوجیوں کو اپنے بھاری قدموں کے نیچے روند ڈالا۔ 571 عیسوی کے عرب اور 642 عیسوی کے عرب کے درمیان یہ فرق کیسے پیدا ہوا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ عظیم فرق ایمان باللہ کی طاقت نے پیدا کیا۔

571 عیسوی کے عرب مشرکانہ عقیدے میں جی رہے تھے، 642 عیسوی کے عربوں کو پیغمبر اسلام نے توحید کے عقیدے پر کھڑا کر دیا تھا۔ یہی وہ چیز تھی جس نے پہلے انسان اور بعد کے انسان میں اتنا بڑا فرق پیدا کر دیا۔ کتاب "راہِ عمل" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 99۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.