صراطِ مستقیم قرآن کی سورہ نمبر 48، معاہدہ حدیبیہ کے فوراً بعد اتری۔ اس سورہ کا نام "الفتح" ہے، اور اس کی ابتدائی تین آیتیں یہ ہیں: إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِينًا، لِيَغْفِرَ لَكَ اللَّهُ مَا تَقَدَّمَ مِن ذَنبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ، وَيُتِمَّ نِعْمَتَهُ عَلَيْكَ، وَيَهْدِيَكَ صِرَاطًا مُسْتَقِيمًا. سورہ نمبر 48، آیت 1 تا 2۔ یعنی: "بے شک ہم نے تم کو کھلی فتح دے دی، تاکہ اللہ تمہاری اگلی اور پچھلی خطائیں معاف کر دے، اور تمہارے اوپر اپنی نعمت کی تکمیل کرے، اور تم کو سیدھا راستہ دکھائے، اور تم کو زبردست مدد عطا کرے۔
" قرآن کی ان آیتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کے ذریعے ہماری رہنمائی ایک ایسی صراطِ مستقیم کی طرف کی ہے جس میں نہ صرف نجات اور مغفرت کی بشارت ہے، بلکہ موجودہ دنیا میں بھی یہ صراطِ مستقیم اس بات کی ضامن ہے کہ اگر اہلِ ایمان اس کو پوری طرح اختیار کر لیں تو وہ خدا کی نصرتِ خاص کے مستحق قرار پائیں، اور دوسروں کے مقابلے میں انہیں یقینی طور پر فتح و غلبہ حاصل ہو۔ کتاب "راہِ عمل" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 98۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.