Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Raah-e-Amal Maazi,Haal aur Mustaqbil ka Jayeza
Raah-e-Amal Maazi,Haal aur Mustaqbil ka Jayeza

A,alaa kamiyabi ka raaz

Urdu · 4 min

اعلیٰ کامیابی کا راز: مذکورہ امریکی کتاب "دی ہنڈرڈ" کا مسلمانوں میں بہت چرچا ہے، جس میں پیغمبر اسلام کو "سب سے زیادہ کامیاب انسان" یعنی supremely successful قرار دیا گیا ہے۔ اس مقبولیت کی وجہ یہ ہے کہ اس سے ان کے جذبۂ فخر کو تسکین ملتی ہے، مگر قرآن کے نقطۂ نظر سے اصل اہمیت کی چیز آپ کا اسوہ ہے۔ اس اعتبار سے دیکھیے تو ہمیں "supremely successful" سے زیادہ یہ دیکھنا چاہیے کہ آپ کی supreme success کا راز کیا تھا۔ موجودہ زمانے کے مسلمانوں کی اصل کمی یہ ہے کہ انہوں نے پیغمبر اسلام کو فخر کے طور پر جانا، مگر انہوں نے آپ کو اسوے کے طور پر نہیں جانا۔

وہ supremely successful پیغمبر کو جانتے ہیں، مگر وہ اس پیغمبر سے واقف نہیں جس نے اپنی کامل زندگی کے ذریعے supreme success کا راز بتایا ہے۔ یہ فرق اتنا زیادہ واضح ہے کہ وہ موجودہ زمانے کے کسی بھی مسلمان کی تقریر کو سن کر یا اس کی تحریر کو پڑھ کر معلوم کیا جا سکتا ہے۔ پاکستان کے سابق صدر جنرل محمد ضیاء الحق نے 1 اکتوبر 1980 کو اقوام متحدہ یعنی نیویارک کی جنرل اسمبلی میں ایک تقریر کی تھی۔ اس تقریر کو انہوں نے دنیا بھر کے 90 کروڑ مسلمانوں کے دل کی آواز بتایا تھا۔

یہ تقریر مسلم حلقوں میں عام طور پر "پسندیدگی" کی نظر سے دیکھی گئی۔ اس تقریر میں انہوں نے کہا تھا کہ اسلامی قوموں نے موجودہ زمانے میں اپنے مذہب اور کلچر میں اپنے فخر کو دوبارہ دریافت کیا ہے۔ The Islamic peoples have discovered their pride in their religion and their great culture. موجودہ زمانے کی مسلم بیداری کے لیے یہ صحیح ترین لفظ ہے۔

انہوں نے اسلام کو بطور فخر دریافت کیا ہے، نہ کہ بطور ہدایت۔ موجودہ زمانے میں مسلمانوں نے تقریروں، تحریروں، اور دوسری صورتوں میں جو اسلامی سرگرمیاں دکھائی ہیں، وہ تقریباً سب کی سب فخر یعنی pride کے جذبے کے تحت ابھری تھیں، ابھری ہیں۔ وہ اتباع کے جذبے کے تحت نہیں ابھریں۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام کے نام پر ان کی تمام سرگرمیاں محض نمائشی دھوم بن کر رہ گئیں۔

وہ ان کے حال کو بدلنے کے معاملے میں مؤثر ثابت نہ ہو سکیں، کیونکہ اسلام کی برکتیں اسلام پر عمل کرنے سے ظاہر ہوں گی، نہ کہ اسلام پر فخر الناس کرنے سے۔ کتاب "راہِ عمل" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 97۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.