← Raah-e-Amal Maazi,Haal aur Mustaqbil ka JayezaRaah-e-Amal Maazi,Haal aur Mustaqbil ka Jayeza
Aazaadaana tahqeeq ka natija
Urdu · 5 min
آزادانہ تحقیق کا نتیجہ: قدیم زمانے میں مذہب کو صرف تقدس کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ لوگوں کے ذہنوں پر یہ تصور چھایا ہوا تھا کہ مذہبی عقائد اس سے بلند ہیں کہ ان کو کسی جانچ اور بحث کا موضوع بنایا جائے۔ مگر موجودہ زمانے میں سائنس کے زیرِ اثر جو فکری انقلاب آیا ہے، اس نے تحقیق یعنی انکوائری کو سب سے زیادہ اونچا درجہ دے دیا ہے۔ آج کا انسان یہ سمجھتا ہے کہ ہر چیز کی آزادانہ تحقیق، یعنی فری انکوائری، ہونی چاہیے۔
کسی بات کو صرف اس وقت ماننا چاہیے جبکہ آزادانہ تحقیق کی کسوٹی پر وہ ثابت شدہ بن گئی ہو۔ جدید انسان نے اس فکر کا استعمال جس طرح جامد مادّے کی دنیا میں کیا، اسی طرح اس نے اس کا استعمال مذہب پر بھی کیا۔ مذہبی کتابوں اور ان کی تعلیمات کی جانچ کی جانے لگی۔ اس جانچ نے پہلی بار خالص علمی سطح پر یہ ثابت کیا کہ اسلام کے سوا دوسرے تمام مذاہب غیر معتبر ہیں۔
علمی اور تاریخی اعتبار سے وہ قابلِ اعتماد نہیں۔ اس معاملے کو سمجھنے کے لیے ایک مثال لیجیے: مسیحیت کی بنیاد تثلیث یعنی ٹرینیٹی کے عقیدے پر قائم ہے۔ آپ کسی مسیحی عالم سے عقیدۂ خدا پر گفتگو کریں تو وہ کہے گا کہ خدا کی فطرت تثلیث ہے۔ The nature of God is Trinity.
تثلیث کا مطلب اربابِ چرچ کی تشریح کے مطابق تین میں ایک، ایک میں تین۔ یعنی تھری اِن ون، ون اِن تھری ہے۔ اب آج کا انسان جو ہر معاملے کو عقل سے سمجھنا چاہتا ہے، وہ عیسائی عالم سے سوال کرتا ہے کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک اور ایک اور ایک مل کر ایک ہوں۔ How can one plus one plus one is equal to one?
مسیحی عالم پہلے ناقابلِ فہم اصطلاحوں میں اس کو سمجھانا چاہے گا، اور جب وہ دیکھے گا کہ جدید ذہن اس کے جواب سے مطمئن نہیں ہو رہا ہے، تو آخر کار وہ یہ کہہ دے گا کہ وہ چیزیں ہیں جن کو ہم سمجھ نہیں سکتے۔ These are things that we cannot understand. مگر اس قسم کا کوئی جواب جدید انسان کے لیے ناقابلِ فہم اور ناقابلِ قبول ہے۔ وہ دیکھتا ہے کہ جب وہ کائنات کا مطالعہ کرتا ہے تو کائنات پوری طرح معلوم ریاضیاتی ڈھانچہ، یعنی میتھمیٹیکل فریم میں ڈھل جاتی ہے۔
چنانچہ ایک سائنسدان کو اسے دیکھ کر یہ کہنا پڑا کہ کائنات کا خالق ایک اعلیٰ درجے کا ریاضیاتی ذہن، یعنی میتھمیٹیکل مائنڈ ہے۔ مگر خود خالق کے عقیدے کو مسیحیت جس انداز سے پیش کرتی ہے، وہ سراسر غیر ریاضیاتی اور غیر عقلی ہے۔ اس صورتحال نے جدید انسان کو ایک نازک مقام پر کھڑا کر دیا ہے۔ اپنی فطرت کے زور پر وہ چاہتا ہے کہ وہ اپنے خدا کو پائے۔
وہ خالقِ کائنات پر ایمان لا کر اس کا پرستار بن جائے۔ مگر مروجہ مذاہب اس کے سامنے خدا کا جو تصور پیش کر رہے ہیں، وہ اس کی فطرت کے تقاضوں کے بھی خلاف ہے اور اس کے علمی اور عقلی ڈھانچے کے بھی خلاف۔ اس طرح جدید فکری انقلاب نے آج کے انسان کو عین اسلام کے کنارے پہنچا دیا ہے۔ اب آخری طور پر وہ وقت آ گیا ہے کہ انسان کے سامنے توحید کا سچا تصور پیش کیا جائے، جو فطرت اور علم دونوں کے عین مطابق ہے۔
یہاں دونوں باتوں میں وہ ٹکراؤ نہیں جو موجودہ محرف مذاہب میں پایا جا رہا ہے۔ کتاب: راہِ عمل، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 84۔