مذاہب کا تضاد۔ آج کل روزانہ اخبارات و رسائل میں ایسی خبریں آ رہی ہیں جن میں بتایا جاتا ہے کہ کس طرح فلاں شخص اپنے آبائی مذہب سے بدزن ہو کر اسلام میں داخل ہو گیا۔ مثال کے طور پر ہفت روزہ الدعویٰ ریاض نے اپنے شمارہ 17 اگست 1989، صفحہ 14 میں یہ خبر چھاپی ہے کہ "زائر کی راجدھانی" کنشاسا کے ایک قسّیس، یعنی priest، جو مقدس جان یعنی Holy John 23 کہے جاتے تھے، ان کا نام مویاوہ مویا تھا، انہوں نے اسلام قبول کر لیا۔ انہوں نے اسلام قبول کر لیا ہے، ان کا نیا نام عثمان وامویہ ہے۔
ان سے پوچھا گیا کہ آپ نے اسلام کیوں قبول کیا؟ ان سے پوچھا گیا کہ آپ نے اسلام کیوں قبول کیا؟ انہوں نے بتایا کہ موجودہ انجیلوں کے داخلی تناقضات نے انہیں مسیحیت سے بدزن کر دیا۔ مثلاً یہ انجیلیں حضرت مسیح کو کبھی اللہ کا بندہ کہتی ہیں اور کبھی اللہ کا بیٹا۔
إذا تقرؤ أحيانًا أنه عبد الله ثم تزعم أنه ابن الله ایک شخص جب انجیل پڑھتا ہے تو وہ دیکھتا ہے کہ متی کی انجیل میں حضرت مسیح کا جو نسب نامہ ہے، اس میں حضرت مسیح کو مسیح ابن داؤد، Christ the Son of David، کہا گیا، لکھا گیا ہے۔ اس کے بعد جب پڑھنے والا مرقس کی انجیل تک پہنچتا ہے تو وہ دیکھتا ہے کہ وہاں جو اندراج ہے وہ اس سے بالکل مختلف ہے۔ چنانچہ مرقس کی انجیل کی پہلی آیت میں اس کے برعکس مسیح ابن خدا، Christ the Son of God، کا لفظ لکھا ہوا ہے۔ گویا ایک ہی شخصیت کو ایک جگہ خدا کا بیٹا بتایا گیا ہے اور دوسری جگہ انسان کا بیٹا۔
اس قسم کے بے شمار تناقضات ہیں جن سے موجودہ انجیلیں بھری ہوئی ہیں۔ یہ واقعہ آدمی کو یہ ماننے پر مجبور کرتا ہے کہ موجودہ بائبل اگر خدا کی کتاب ہے تو انسانی تحریفات نے اس کی ابتدائی شکل کو بالکل بدل ڈالا ہے۔ اگر وہ اپنی ابتدائی شکل میں ہوتی تو ناممکن تھا کہ اس کے اندر اس قسم کے کھلے کھلے تضادات پائے جائیں۔ اس صورتحال نے جدید انسان کو تمام مذاہب کی کتابوں سے بدزن کر دیا ہے۔
تاہم وہ محسوس کرتا ہے کہ اس کے باوجود اس کو ایک مذہب کی ضرورت ہے، کیونکہ مذہب کی طلب انسان کی فطرت میں پیوست ہے، وہ عملی زندگی میں اس کی ایک ناگزیر ضرورت ہے۔ وہ محرف مذاہب سے بیزار ہے، مگر اسی کے ساتھ وہ غیر محرف مذہب کا شدت سے طلبگار بنا ہوا ہے۔ اسی حالت میں اگر اس کے سامنے اسلام کو پیش کیا جائے تو یہ پیاسے کے سامنے پانی پیش کرنے کے ہم معنی ہوگا۔ وہ اس سے واقف ہوتے ہی فوراً اس کو اپنی چیز سمجھ کر اسے اپنا لے گا۔
کتاب "راہِ عمل" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 86۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.