خدائے واحد کی تلاش، اہلِ اسلام کے سوا دنیا میں جو قومیں آباد ہیں، ان کی بیشتر تعداد کسی نہ کسی اعتبار سے شرک میں مبتلا رہی ہے۔ مجوس دو خدا کو مانتے ہیں، مسیحیت میں تین خدا کا عقیدہ ہے، ہندو دھرم میں خداؤں کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ ان کا شمار نہیں۔ ایک اندازے کے مطابق ہندو دیوتاؤں کی تعداد 33 کروڑ ہے۔ انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا، جلد 14، صفحہ 787۔
یہ مشرکانہ عقیدہ، جو بیشتر لوگوں کو اپنے ماضی سے ملا تھا، اس نے موجودہ زمانے میں انہیں سخت قسم کی تضادِ فکری میں مبتلا کر دیا ہے۔ کیونکہ جدید علم، یعنی سائنس، نے انہیں جس دنیا کا تعارف کرایا ہے، وہ اس سے مطابقت نہیں رکھتا کہ اس کائنات کے کئی خدا ہوں۔ کائنات میں کامل ہم آہنگی، یعنی ہارمونی، پائی جاتی ہے۔ وہ ایک عظیم مشین کی طرح مکمل اتحاد کے ساتھ کام کر رہی ہے۔
ایسی ایک دنیا کے ساتھ ایک خدا کا عقیدہ مطابقت رکھتا ہے، نہ کہ کئی خدا کا عقیدہ۔ اس صورتحال نے لوگوں کے لیے اپنے روایتی مذہب کی صداقت کو سخت مجتبیٰ بنا دیا ہے۔ اس سلسلے میں آخری ضرب، یعنی بلو، وہ تازہ سائنسی دریافت ہے جس کو برٹر ڈور، یعنی سپر اسٹرنگ تھیوری، کہا جاتا ہے۔ سائنسدان روایتی طور پر یہ سمجھتے تھے کہ کائنات میں چار فطری طاقتیں، یعنی فورسز، کام کر رہی ہیں: گریویٹی، الیکٹرومیگنیٹک فورس، ویک نیوکلیئر فورس، اسٹرانگ نیوکلیئر فورس، بیانڈ آئنسٹائن، اے بینٹم بینک، اے بینٹم بک، مارچ 1987۔
تاہم کائنات کے وحدانی نظام کے ساتھ چار طاقتوں کا تصور مناسبت نہیں رکھتا تھا۔ چنانچہ آئنسٹائن سے لے کر اب تک مسلسل یہ کوشش جاری تھی کہ اس تعداد کو ختم کیا جائے۔ اب تازہ خبر یہ ہے کہ امریکہ کے سائنسدانوں کی ایک ٹیم، برسوں کی محنت کے بعد، اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ صرف ایک طاقت ہے جو پوری کائنات کو کنٹرول کرتی ہے۔ اس طاقت کا نام انہوں نے برٹر ڈور، یعنی سپر اسٹرنگ، رکھا ہے۔
ملاحظہ ہو، امریکی جریدہ اسپان، اسپین، جون 1989 میں شائع شدہ مقالہ "دی تھیوری آف ایوری تھنگ" نیز حسبِ ذیل امریکی کتابیں: نمبر 1 "بیانڈ آئنسٹائن: دا کاسمک کویسٹ فار دا تھیوری آف دا یونیورس"، ڈاکٹر میچیو کاکو، اینڈ جینیفر ٹرینر، 1987۔ نمبر 2 "نیوکلیئر پاور بوتھ سائیڈز" بائی جینیفر ٹرینر اینڈ میچیو کاکو، نیویارک، 1982۔ اس علمی دریافت نے انسان کو آج عین عقیدۂ توحید کے کنارے لا کر کھڑا کر دیا ہے۔ اب وہ آخری وقت آ گیا ہے جبکہ انسان کے سامنے ایک خدا کا نظریہ پیش کیا جائے، اور وہ اس کو عین اپنے دل کی آواز سمجھ کر اسے قبول کر لے۔
کتاب "راہِ عمل" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 82۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.