← Raah-e-Amal Maazi,Haal aur Mustaqbil ka JayezaRaah-e-Amal Maazi,Haal aur Mustaqbil ka Jayeza
Japan ki misaal
Urdu · 6 min
جاپان کی مثال: جاپان کا موجودہ شاہی خاندان پچھلے 1500 سال سے جاپان پر حکومت کرتا رہا ہے۔ جاپانی لوگ اپنے بادشاہ کو "خدا" یعنی "کامی" کہتے تھے، وہ اس کو خدائی اوصاف کا مالک سمجھتے تھے۔ مگر دوسری عالمی جنگ کے بعد وہ اپنے بادشاہ کو صرف ایک انسان یعنی "اِیٹو" سمجھنے لگے۔ یہ تبدیلی جاپانیوں کے لیے ایک زبردست فکری بھونچال کے ہم معنی ہے۔
پچھلے ڈیڑھ ہزار برس سے جاپانی اپنے بادشاہ کو خدا سمجھتے آ رہے تھے، وہ سمجھتے تھے کہ ان کے بادشاہ کے اندر خدائی صفات ہیں، اور وہ ہر طاقت کے مقابلے میں ان کی حفاظت کر سکتا ہے۔ دوسری عالمی جنگ میں امریکہ نے ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹم بم گرائے، تو اچانک جاپان کی فوجی طاقت ختم ہو گئی۔ 1500 سال میں پہلی بار ایسا ہوا کہ جاپان کسی خارجی طاقت کے مقابلے میں مکمل شکست کھا گیا۔ جاپانی شہنشاہ ہیرو ہٹو نے 15 اگست 1945 کو ریڈیو پر تقریر کرتے ہوئے کہا کہ "ہم جنگ ہار چکے ہیں، اور ہم امریکہ کے مقابلے میں ہتھیار ڈال رہے ہیں"۔
جاپانیوں کے لیے اپنے خدائی بادشاہ کا یہ کلام انتہائی غیر متوقع تھا۔ وہ سمجھتے تھے کہ ہمارا بادشاہ خدا ہے، اس لیے کوئی قوم اس کو شکست نہیں دے سکتی۔ مگر جب بادشاہ نے خود اپنی شکست کا اقرار کر لیا، تو انہیں یقین ہو گیا کہ ان کا بادشاہ صرف ایک انسان ہے، وہ کوئی برتر خدا نہیں۔ یہ واقعہ جاپانیوں کے لیے ایٹم بم سے بھی زیادہ تباہ کن ثابت ہوا ہے۔
ایٹم بم نے وقتی طور پر ان کے دو شہروں کو تباہ کیا تھا، مگر عقیدے کی اس محرومی نے جاپانیوں کی اندرونی شخصیت کو مستقل طور پر برباد کر دیا ہے۔ جاپان کی نئی نسل سخت مایوسی یعنی فرسٹریشن کا شکار ہے۔ انہوں نے روحانی اعتبار سے اپنا سرچشمہ اعتماد یعنی سورس آف کانفیڈنس کھو دیا ہے۔ جاپانی قوم آج ایک نئے خدا کی تلاش میں ہے، اور یہی اس وقت جاپان کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔
جاپانی قوم آج ایک نئے خدا کی تلاش میں ہے، اور یہی اس وقت جاپان کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ یہ صورتحال جو جاپان کے ساتھ پیش آئی، یہی ایک یا دوسری صورت میں موجودہ زمانے کی تمام قوموں کا حال ہے۔ ہر ایک نے اس خدا کو کھو دیا ہے۔ ہر ایک نے اس خدا کو کھو دیا ہے جس پر وہ روایتی طور پر قائم تھا۔
اسی کے ساتھ ہر ایک، شعوری یا غیر شعوری طور پر، ایک نئے خدا کی تلاش میں ہے، جس کو وہ اپنے کھوئے ہوئے خدا کا بدل بنا سکے۔ یہ معاملہ محض اتفاقی نہیں، بلکہ حقیقی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ خدا اور مذہب کوئی اوپری یا خارجی معاملہ نہیں، یہ انسان کی سب سے بڑی اندرونی طلب ہے۔ یہ اس کی فطرت میں اس طرح پیوست ہے کہ اس کو کسی طرح انسان سے جدا نہیں کیا جا سکتا۔
نفسیات اور اینتھروپولوجی کی ریسرچ نے اس کو آخری طور پر ثابت کر دیا ہے کہ انسان خدا اور مذہب کے بغیر نہیں رہ سکتا۔ انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا جلد 15 صفحہ 628 اس بات کو ایڈمنڈ برک 1729-1797 نے مختصر طور پر ان لفظوں میں بیان کیا ہے کہ "انسان اپنی تشکیل کے اعتبار سے ایک مذہبی حیوان ہے"۔ "Man is by his constitution a religious animal. " Reflections on the Revolution in France لندن پیج 135 یہی وجہ ہے کہ آج کا انسان خود اپنی اندرونی فطرت کے زور پر ایک سچے اور حقیقی خدا کی تلاش میں ہے، جو اس کی ہستی کے پورے تقاضے کا جواب بن سکے۔
کتاب "راہِ عمل" مولانا وحید الدین خان صفحہ نمبر 80.