اسلام 21ویں صدی میں، انسان آج ایک نئے نظریے کی تلاش میں ہے۔ جو لوگ جدید انسان کو یہ نظریہ فراہم کر دیں، وہی 21ویں صدی کی دنیا کے قائد ہوں گے۔ یہ نیا نظریہ بریڈلے، یعنی ایف ایچ بریڈلے کے الفاظ میں، ایک نیا مذہب یعنی New Religion ہے۔ گہرائی کے ساتھ دیکھیے تو بریڈلے کا نیا مذہب حقیقتاً وہی چیز ہے جس کو غیر محرف مذہب کہا جاتا ہے۔
بریڈلے اگر محرف اور غیر محرف کے فرق کو جانتا تو یقیناً وہ اپنے مطلوب مذہب کو بتانے کے لیے "غیر محرف مذہب" کا لفظ استعمال کرتا، مگر اس فرق سے ناآشنا ہونے کی بنا پر اس نے نیا مذہب کا لفظ استعمال کیا۔ حقیقت یہ ہے کہ آج جدید انسان جس چیز کی تلاش میں ہے وہ صرف اسلام ہے، جو فطرت کا دین ہے، اور تحریف سے پاک ہونے کی وجہ سے کامل سچائی کا حامل ہے۔ اگرچہ اس سے ناآشنا ہونے کی بنا پر انسان اپنے مدعا کو بتانے کے لیے دوسرے دوسرے الفاظ بولتا ہے، مثلاً "نیا نظریہ"، "نیا مذہب"، "نیا نظام"، "نیا انقلاب" وغیرہ۔ 20ویں صدی کے آخر میں پہنچ کر انسان ایک فطری خلا سے دوچار ہوا ہے۔
اس نے اپنی سابقہ فکری بنیاد مکمل طور پر کھو دی ہے۔ اب اس کو نئی فکری بنیاد کی تلاش ہے، جس کے اوپر وہ اپنے آپ کو کھڑا کر سکے۔ اس معاملے کی وضاحت کے لیے یہاں میں جاپان کا تجربہ نقل کروں گا۔ کتاب "راہِ عمل" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 80۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.