اصل کمی؟ موجودہ زمانے کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ اسلام کے پاس آئیڈیالوجی ہے، مگر اسلام کے پاس آج مردانِ کار نہیں۔ اس صدی کے آخر تک ساری دنیا میں مسلمانوں کی تعداد 1 ارب ہو جائے گی، مگر یہ تخلیدی مسلمانوں کی بھیڑ ہے، وہ شعوری مسلمانوں کی جماعت نہیں۔ موجودہ زمانے میں کوئی بھی قابلِ ذکر تحریک نہیں اٹھی جو ان مسلمانوں کو تخلیدِ قومی کی سطح سے اٹھا کر شعورِ ربانی کی سطح پر پہنچانے کی کوشش کرے۔
یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں کی بھیڑ کے باوجود وہ مسلم ٹیم موجود نہیں جو اسلام کے احیا کی راہ میں کوئی حقیقی اور مؤثر جدوجہد کر سکے۔ یہی آج کا پہلا اور اصلی کام ہے۔ آج سب سے پہلی ضرورت یہ ہے کہ مسلمانوں کو شعوری معنوں میں مسلمان بنایا جائے، اسلام ان کے لیے فکری انقلاب کے ہم معنی بن جائے۔ جس دن ایسا ہوگا، اسی دن وہ نئی تاریخ بھی بننا شروع ہو جائے گی جس کا صدیوں سے زمین و آسمان کو انتظار ہے۔
کتاب "راہِ عمل"، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 78۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.