Maulana Wahiduddin Khan
20 min left
0:00

← Raah-e-Amal Maazi,Haal aur Mustaqbil ka Jayeza
Raah-e-Amal Maazi,Haal aur Mustaqbil ka Jayeza

Islaah ki taraf

Urdu · 20 min

اصلاح کی طرف: صلیبی لڑائیاں، یعنی Crusades، ان جنگی مہموں کو کہا جاتا ہے جو مغربی یورپ کی مسیحی حکومتوں نے مسلم حکومتوں کے خلاف جاری کیں۔ اس سلسلے کی پہلی مہم 1095 میں شروع ہوئی اور 1271 قبل مسیح تک وقفے وقفے سے جاری رہی۔ ان جنگی مہموں کا مقصد مقدس یروشلم کو بد دینوں، یعنی مسلمانوں کے قبضے سے نکالنا تھا، مگر مسیحی طاقتوں کو اپنی اس مہم میں مکمل ناکامی ہوئی۔ ایچ جی ویلز نے اپنی کتاب "The Outline of History" میں لکھا ہے کہ پہلی صلیبی مہم کے وقت یورپ کے مسیحیوں میں بڑا جوش و خروش تھا، مگر 13ویں صدی کے آخر میں جب انہیں مکمل شکست ہوئی تو اس کے بعد کسی نئی صلیبی جنگ چھیڑنے کے لیے مسیحی قوموں کے حوصلے بالکل ختم ہو گئے۔

اس کے بعد یہ حال ہوا کہ اگر کوئی شخص نئی صلیبی مہم کا نام لیتا تو ایک عام شہری تعجب سے کہہ اٹھتا: "کیا ایک اور صلیبی جنگ؟ " "What? Another Crusade? " پیج 673۔

13ویں صدی کے آخر میں یورپ کی مسیحی قوموں پر مسلمانوں کا ایسا رعب چھا گیا تھا کہ وہ مزید کوئی صلیبی مہم شروع کرنے کو تعجب خیز حد تک ناقابلِ عمل سمجھتے تھے۔ مگر 650 سال بعد پہلی عالمی جنگ میں صورتحال بالکل بدل چکی تھی۔ برٹش کمانڈر ایل این بی، یعنی ای ایچ ایچ ایل این بی، فتح کرتا ہوا 9 دسمبر 1917 کو یروشلم میں داخل ہو گیا۔ اس نے بیت المقدس کے اندر کھڑے ہو کر کہا کہ آج صلیبی جنگیں ختم ہو گئیں۔

دوسری طرف فرنچ جنرل ہنری گوراؤ نے شام کو فتح کر لیا۔ 1920 میں وہ فاتحانہ طور پر دمشق میں داخل ہو گیا۔ اس نے صلاح الدین ایوبی کی قبر پر پاؤں رکھ کر کہا کہ "صلاح الدین، دیکھو آخر کار ہم واپس آ گئے! " "Saladin, we have returned.

" یہ صورتحال تا دم تحریر بدستور باقی ہے۔ اس دوران بے شمار ہنگامہ خیز کوششیں ہوئی ہیں۔ ان کوششوں میں بے شمار جانی و مالی نقصان ہوا ہے، مگر اصل صورتحال میں اب تک کوئی تبدیلی نہ ہو سکی۔ صلیبی مقابلہ، جو 13ویں صدی میں مسلمانوں کے حق میں ختم ہوا تھا، وہ 20ویں صدی میں بظاہر مسیحیوں کے حق میں ختم ہو چکا ہے۔

پچھلے 70 سال کے دوران بار بار یہ سوال اٹھایا گیا ہے کہ کیا وجہ ہے کہ 13ویں صدی عیسوی میں مسلمان اس قدر غالب تھے، اور 20ویں صدی میں وہ اتنے زیادہ مغلوب ہو گئے۔ اس کے جواب میں تقریروں اور مضامین اور کتابوں کا ایک ناقابلِ شمار انبار جمع ہو چکا ہے، مگر ان سب کا خلاصہ صرف ایک ہے: ہر لکھنے اور بولنے والا صرف یہ انکشاف کر رہا ہے کہ موجودہ زمانے میں مسلمانوں کے خلاف سازشوں کا جال بچھا ہوا ہے، اور انہی سازشوں نے مسلمانوں کو ناکام بنا رکھا ہے۔ یہ توجیہ لغویت کی حد تک غلط ہے۔ اس کی سادہ سی وجہ یہ ہے کہ 13ویں صدی میں وہ تمام سازشیں مزید شدت کے ساتھ جاری تھیں جن کا حوالہ آج مسلمانوں کے لکھنے اور بولنے والے دے رہے ہیں۔

اس کے باوجود ماضی کے مسلمانوں کو بے مثال کامیابی حاصل ہوئی۔ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ دنیا مقابلے کی دنیا ہے۔ یہاں ہمیشہ ایک کو دوسرے کی طرف سے چیلنج پیش آتا ہے۔ یہاں ہمیشہ ایک قوم کے خلاف دوسری قوم سازشیں کرتی ہے۔

یہ صورتحال ابتدائے انسانیت کے ہابیل و قابیل سے جاری ہے، اور آخر انسانیت کے مسیح اور دجال تک جاری رہے گی۔ وہ کبھی ختم ہونے والی نہیں۔ اس دنیا میں مخالفتوں اور سازشوں کے باوجود کامیابی حاصل کرنی پڑتی ہے۔ جو لوگ اس باوجود کے چیلنج کا سامنا کر سکیں، وہی اس دنیا میں کامیاب ہوتے ہیں۔

اور جن لوگوں میں اس باوجود کے چیلنج کا سامنا کرنے کی طاقت نہ ہو، ان کے لیے اس دنیا میں جو چیز مقدر ہے وہ صرف یہ کہ وہ لفظی شکایت اور احتجاج کا جھوٹا طوفان اٹھائیں، اور بالآخر صفحہ ہستی سے مٹ کر رہ جائیں۔ کیا وجہ ہے کہ مسلمان 13ویں صدی میں غالب تھے اور 20ویں صدی میں وہ مغلوب ہیں؟ یہ جملہ جو پچھلے 70 سال سے بار بار دہرایا جا رہا ہے، وہ خود بنیادی طور پر غلط ہے، کیونکہ وہ ایک غلط مفروضے پر قائم ہے۔ اس جملے میں یہ فرض کر لیا گیا ہے کہ 13ویں صدی میں جو مسلمان تھے، وہی مسلمان آج بھی ہیں۔

حالانکہ اصل حقیقت یہ ہے کہ موجودہ مسلمان پچھلے مسلمانوں کی بعد کی اولادیں ہیں۔ وہ اسلاف تھے اور یہ اخلاف ہیں۔ موجودہ مسلمان زیادہ صحیح طور پر قرآن کی ان آیتوں کا مصداق ہیں۔ پھر ان کے بعد ناخلف لوگ آئے جو کتاب الہی کے وارث بنے۔

وہ اسی دنیا کی متاع لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم یقیناً بخش دیے جائیں گے۔ اور اگر ایسی ہی متاع ان کے سامنے پھر آئے تو وہ اس کو لے لیں گے۔ کیا ان سے کتاب میں اس کا عہد نہیں لیا گیا ہے کہ اللہ کے نام پر حق کے سوا کوئی اور بات نہ کہیں؟ اور انہوں نے پڑھا ہے جو کچھ اس میں لکھا ہے۔

اور آخرت کا گھر بہتر ہے ڈرنے والوں کے لیے۔ کیا تم سمجھتے نہیں؟ اور جو لوگ خدا کی کتاب کو مضبوطی سے پکڑتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں، بے شک ہم مصلحین کا اجر ضائع نہیں کریں گے۔ سورہ نمبر 7 آیت 169 تا 170۔

پھر ان کے بعد ایسے ناخلف آئے جنہوں نے نماز کو ضائع کر دیا اور خواہشوں کا اتباع کیا۔ پس عنقریب وہ اپنی خرابی کو دیکھیں گے۔ البتہ جس نے توبہ کی اور ایمان لے آیا اور نیک کام کیا تو یہی لوگ جنت میں داخل ہوں گے، اور ان کی ذرا بھی حق تلفی نہیں کی جائے گی۔ سورہ نمبر 19 آیت 59 تا 60۔

کیا ایمان والوں کے لیے وہ وقت نہیں آیا کہ ان کے دل اللہ کی نصیحت کے آگے جھک جائیں اور اس حق کے آگے جو نازل ہوا ہے؟ اور وہ ان لوگوں کی طرح نہ ہو جائیں جن کو پہلے کتاب دی گئی تھی، پھر ان پر لمبی مدت گزر گئی تو ان کے دل سخت ہو گئے اور ان میں سے اکثر نافرمان ہیں۔ جان لو کہ اللہ زمین کو زندگی دیتا ہے اس کی موت کے بعد۔ ہم نے تمہارے لیے نشانیاں بیان کر دی ہیں تاکہ تم سمجھو۔

سورہ نمبر 57 آیت 16 تا 17۔ ان آیتوں کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ قوموں پر جب لمبی مدت گزر جاتی ہے تو ان کے افراد میں قساوت یعنی بے حسی آ جاتی ہے۔ وہ دین کی حقیقت کھو دیتے ہیں۔ ان کے اسلاف اگر حقائق پر جینے والے تھے تو ان کی بعد کی نسلیں خوش فہمیوں کی بنیاد پر زندہ ہوتی ہیں۔

یہ بعد کے لوگ شکل دین کے اعتبار سے زندہ نظر آتے ہیں، مگر وہ روح دین کے اعتبار سے مردہ ہو چکے ہوتے ہیں۔ اس مرحلے پر پہنچنے کے بعد مصلحین امت کو کیا کرنا چاہیے، اس کو ایک تمثیل کے ذریعے بتایا گیا ہے۔ یہ زمین کی تمثیل ہے۔ زمین اگر مردہ اور بنجر ہو گئی ہو تو کسان کیا کرتا ہے؟

کسان یہ نہیں کرتا کہ جس حالت میں بھی وہ زمین ہے، اسی حالت میں لا کر وہاں دانہ بکھیر دے۔ کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اس طرح دانہ بکھیر دینے سے یہاں فصل نہیں اگے گی۔ کسان ایسی زمین کے لیے پانی کا انتظام کرتا ہے۔ وہ اس کو جوتتا ہے۔

اس کے جھاڑ جھنکار صاف کرتا ہے۔ اس میں کھاد ڈالتا ہے۔ اس طرح جب زمین تیار ہو جاتی ہے تو وہ اس میں بیج ڈالتا ہے۔ اس کے بعد نتیجہ سامنے آتا ہے۔

اور جہاں پہلے سوکھی زمین تھی، وہاں لہلہاتی ہوئی فصل نظر آنے لگتی ہے۔ یہی معاملہ اس قوم کا ہے جو طول امد کے نتیجے میں مردہ ہو گئی ہو۔ ایسی قوم میں اصلاح کا کام صرف بیج ڈال کر نہیں ہو سکتا، بلکہ زمین تیار کرنے سے وہاں اصلاحی کام کا آغاز کرنا ہوگا۔ کسی مردہ قوم کا حال اگر بظاہر مایوس کن ہو تو اس سے مایوس ہونے کی ضرورت نہیں۔

خدا کی دنیا میں زمین جس طرح مردہ ہے، خدا کی دنیا میں زمین جس طرح مردے سے زندہ ہو جاتی ہے، اسی طرح یہاں یہ بھی ممکن ہے کہ بے جان قوم دوبارہ ایک جاندار قوم بن جائے، بشرطیکہ اس کے اوپر وہ کام کیا جائے جو ایک بے جان قوم کو جاندار بنانے کے لیے کرنا ضروری ہے۔ موجودہ زمانے کے مسلمانوں کا اصل معاملہ یہ تھا کہ وہ طول امد کے نتیجے میں ایک بے جان قوم بن چکے تھے۔ ان کی حیثیت اب ایک مردہ زمین کی ہو چکی تھی۔ اس صورتحال کا تقاضا تھا کہ مسلمانوں کے درمیان کام کا آغاز اصلاح سے کیا جائے۔

مگر موجودہ زمانے میں اٹھنے والے تمام رہنماؤں نے اس کے بجائے یہ کیا کہ کام کا آغاز اقدام سے کیا۔ یہ ایسا ہی تھا جیسے بنجر زمین میں زراعت کا آغاز پودا لگانے سے کیا جائے۔ چنانچہ مسلم رہنماؤں کی تمام ہنگامہ خیز تحریکیں مکمل طور پر ناکامی و بربادی پر ختم ہو کر رہ گئیں۔ موجودہ زمانے میں اصلاح امت کے لیے جو کام مطلوب ہے، وہ بیک وقت گہری دانائی بھی چاہتا ہے اور اسی کے ساتھ مستقل عمل بھی۔

اس کام کو مختصر طور پر اس طرح بیان کیا جا سکتا ہے: نمبر ایک، پہلا کام تجدید ایمان ہے۔ تجدید ایمان سے مراد ادائیگی کلمے کی تصحیح نہیں ہے، بلکہ کلمے کی بنیاد پر ایک مکمل شعوری انقلاب ہے۔ موجودہ مسلمان جو صرف کلمہ گو مسلمان ہیں، انہیں اس سے اٹھا کر کلمہ فہم مسلمان بنانا ہے۔ ان کا ایمان جو الفاظ کی سطح پر ٹھہر گیا ہے، اس کو معنی کی سطح پر پہنچانا ہے۔

نمبر دو، یہ کام لازماً تنقید کے اسلوب میں کام کرنا ہوگا۔ مثلاً جو لوگ اکابر کی سطح پر اٹکے ہوئے ہیں، انہیں خدا کی سطح پر پہنچانا ہوگا۔ جو لوگ اسلام اور غیر اسلام دونوں کو اپنے ذہن میں جمع کیے ہوئے ہیں، انہیں اسلام کے لیے یکسو کرنا ہوگا۔ جو لوگ صحیح اور غلط کی تمیز سے محروم ہیں، ان کے اندر صحیح اور غلط کی تمیز پیدا کرنا ہوگی۔

جن لوگوں کا اسلام برف کی طرح جامد ہو چکا ہے، اس کو توڑ کر اس کو رواں سیلاب بنانا ہوگا۔ یہ تمام کام تنقید کے طالب ہیں۔ ان میں سے کوئی کام بھی تنقید کے بغیر نہیں کیا جا سکتا۔ حقیقت یہ ہے کہ جب تک تنقید نہ کی جائے، ذہنوں میں ہلچل پیدا نہیں ہوتی۔

ایک کو چھوڑنے اور دوسرے کو اختیار کرنے کا مرحلہ نہیں آتا۔ اسلام وہی ہے جو آدمی کو ذاتی دریافت کے طور پر ملے۔ اور ذاتی دریافت والا اسلام تنقیدی انداز دعوت کے بغیر کسی کو ملنا ممکن نہیں۔ نمبر تین، اسی کے ساتھ ضروری ہے کہ مسلمانوں کو ان نام نہاد سرگرمیوں سے ہٹایا جائے جو الٹی ذہنیت، جو الٹی ذہنی تربیت کرنے والی ہیں، جو آدمی کو جذباتی بناتی ہیں، جو آدمی کو حقیقت پسندی سے دور کر دیتی ہیں، جو قدیم ذہن کو بدستور پختہ کرتی چلی جاتی ہیں، جو آدمی کو خوش عقیدگی کے خول سے باہر نکلنے نہیں دیتی۔

یہ کام بھی بہرحال کرنا ہوگا، خواہ ابتدا اس تحریک کے گرد عوام کی بھیڑ جمع نہ ہو سکے۔ نمبر چار، مسلمانوں کے ایمان کو اگر شعوری انقلاب کے مرحلے تک پہنچانا ہے تو ان کو ان سرگرمیوں سے روکنا ہوگا جن کو وہ محض بے شعوری کے تحت جاری کیے ہوئے ہیں۔ مثلاً دوسری قوموں سے قومی سیاسی اور مادی لڑائی، جلسہ جلوس کی دھوم، اسلام کے نام پر جشن کے ہنگامے برپا کرنا۔ اپنے مسائل کو اپنی کوتاہی کے خانے میں ڈالنے کے بجائے دوسروں کی سازش اور ظلم کے خانے میں ڈالنا۔

مسلمانوں کو جب تک ان غیر حقیقی سرگرمیوں سے روکا نہ جائے، ان کے اندر کوئی حقیقی مزاج پیدا ہونا ممکن نہیں۔ نمبر پانچ، وہ چیز جس کو عملی پروگرام یا عملی اقدام کہا جاتا ہے، وہ اپنے وقت پر ضروری اور مفید ہے۔ مگر وقت سے پہلے، جبکہ ابھی تحریک ابتدائی فکری مرحلے میں ہو، ایسا کوئی اقدام صرف نقصان اور ہلاکت پر ختم ہوتا ہے۔ مثلاً آج کل ہر سطحی لیڈر ایک جذباتی ایشو پر مسلمانوں کو جمع کرتا ہے اور ان کا جلوس نکالتا ہے۔

اگر اس کو اس فعل عبث سے منع کیا جائے تو وہ کہے گا کہ یہ جمہوریت کا زمانہ ہے اور جمہوریت کے نظام میں کسی مقصد کو حاصل کرنے کا طریقہ یہی ہے۔ مگر یہ جواب احمقانہ حد تک لو ہے۔ اس کی غلطی اس وقت واضح ہو جاتی ہے جبکہ مسلمانوں کا جلوس کچھ دور چلنے کے بعد عوام سے یا پولیس سے لڑ جاتا ہے اور تشدد پر اتر آتا ہے۔ یہ تجربہ بتاتا ہے کہ موجودہ حالت میں مسلمانوں کا جلوس نکالنا غلط تھا۔

کیونکہ جمہوریت کے نظام میں پرامن مظاہرہ عوام کا حق ہے۔ مگر متشدد، یعنی پرتشدد مظاہرہ ایک قانونی جرم کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہاں سطحی لیڈر دوبارہ کہہ دے گا کہ مسلمانوں کا تشدد بطور رد عمل تھا، مگر یہ جواب دوبارہ صرف لیڈر کی جہالت کا ثبوت ہے۔ اس دنیا میں ہمیشہ اشتعال کے اسباب پیش آتے ہیں۔

اس قسم کے اسباب سے کوئی ملک یا کوئی سماج کبھی خالی نہیں ہو سکتا۔ اس لیے اس دنیا میں مظاہرہ صرف ان لوگوں کے کرنے کا کام ہے جو اشتعال انگیزی کے باوجود مشتعل نہ ہوں۔ جو تشدد کے اسباب پیش آنے کے باوجود پرامن بنے رہیں۔ چونکہ موجودہ مسلمان ابھی اس شعوری سطح پر نہیں ہیں، اس لیے ان کو مظاہرے کی سیاست میں استعمال کرنے کا وقت بھی ابھی نہیں آیا۔

کتاب راہ عمل مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 72۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.