Maulana Wahiduddin Khan
7 min left
0:00

← Raah-e-Amal Maazi,Haal aur Mustaqbil ka Jayeza
Raah-e-Amal Maazi,Haal aur Mustaqbil ka Jayeza

Ek shakhs do misaal

Urdu · 7 min

ایک شخص، دو مثال: 1857 میں انگریزوں کے خلاف جو بغاوت ہوئی، اس کا ایک معرکہ وہ ہے جو شاملی کے میدان میں لڑا گیا۔ یہاں ایک طرف انگریزی فوج تھی اور دوسری طرف علماء کی جماعت؛ علماء کی اس جماعت کے سربراہ مولانا محمد قاسم نانوتوی، 1823 تا 1879 تھے۔ دونوں فریقوں کے درمیان یہ جنگ 1857 میں ہوئی۔ اس جنگ میں انگریزوں کو مکمل کامیابی، اور مولانا قاسم نانوتوی کی جماعت کو مکمل ناکامی ہوئی۔

اس مقابلے میں علماء کی ایک تعداد انگریزی فوج کی گولیوں کا نشانہ بنی، اور ایک تعداد بھاگ کر منتشر ہو گئی۔ اب تاریخ کا دوسرا منظر دیکھیے: مذکورہ جنگ کے 20 سال بعد، 1876 میں، شاہجہاں پور میں ایک مناظرہ ہوا۔ اس کا نام "میلا خدا شناسی" تھا۔ یہ دراصل ایک مذہبی مناظرہ تھا، جس میں ہندو، مسلمان اور عیسائی تینوں مذہبوں کے علماء شریک ہوئے۔

کہا جاتا ہے کہ یہ مناظرہ انگریزوں کی سازش کے تحت کرایا گیا تھا۔ ہندو اور عیسائی مذہب کے نمائندوں نے اپنے مذہب کی برتری ثابت کرنے کے لیے پرجوش تقریریں کیں۔ اسلام کے بارے میں بھی کئی علماء نے تقریریں کیں، مثلاً مولانا محمود حسن دیوبندی، مولانا رحیم اللہ بجنوری، اور مولانا فخر الحسن وغیرہ۔ آخر میں مولانا محمد قاسم نانوتوی کھڑے ہوئے۔

ان کی تقریر کا موضوع "اثبات توحید اور ابطال شرک" تھا۔ مولانا نانوتوی کی تقریر اتنی شاندار تھی کہ موافق و مخالف دونوں ہی اس سے مسحور ہو گئے۔ ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے کسی نے سننے والوں پر جادو کر دیا ہو۔ مذہب اسلام کی صداقت اس طرح آشکارہ ہوئی کہ لوگوں کے سامنے سے پردہ ہٹ گیا۔

مجمع دم بخود تھا، اور سننے والے ایسا محسوس کر رہے تھے کہ بیان کرنے والا کوئی عام انسان نہیں، بلکہ آسمان سے اترنے والا فرشتہ ہے جو ایسی مؤثر تقریر کر رہا ہے۔ حتیٰ کہ خود انگریز پادری سکاٹ نے اس کو سن کر کہا کہ اگر تقریروں پر ایمان لایا جاتا تو یہ تقریر ایسی تھی کہ اس پر ایمان لایا جائے۔ (صبانح قاسمی، جلد 2، صفحہ 441) ان دونوں واقعات کا فرق نہایت سبق آموز ہے۔ وہی مولانا قاسم نانوتوی ہیں جو 1857 میں انگریزوں سے مقابلہ کرتے ہیں؛ اس میں انہیں مکمل شکست ہوتی ہے۔

پھر 1876 میں وہی مولانا قاسم نانوتوی عیسائی مشنریوں سے مقابلہ کرتے ہیں، تو انہیں اس میں مکمل فتح حاصل ہوتی ہے۔ ایک ہی شخص ہے، اور اس کا انجام دو میدانوں میں ایک دوسرے سے مختلف ہوتا ہے: ایک جگہ کامل شکست، اور دوسری جگہ کامل فتح۔ اس فرق کا راز یہ ہے کہ 1857 میں مولانا نانوتوی کا مقابلہ حربی انگریزوں سے ہوا تھا، اور 1876 میں ان کا مقابلہ مبلغ انگریزوں سے ہوا۔ حربی انگریزوں سے لڑنے کے لیے ہتھیار درکار تھا، جو ان کے پاس ضروری مقدار میں موجود نہ تھے۔

اس کے برعکس، مبلغ انگریزوں سے مقابلہ کرنے کے لیے اسلام کا نظریہ کافی تھا، جو ان کے پاس مکمل طور پر موجود تھا۔ یہی وجہ ہے کہ مولانا نانوتوی 1857 میں مکمل طور پر ناکام رہے، اور 1876 میں مکمل طور پر کامیاب۔ یہ واقعہ سو سال سے بھی زیادہ پہلے پیش آ چکا ہے، مگر مسلم رہنماؤں نے اس سے کوئی سبق نہیں لیا۔ وہ بدستور ساری دنیا میں حربی انگریزوں سے ناکام لڑائی لڑنے میں مشغول ہیں۔

وہ مبلغ انگریزوں سے مقابلے کے لیے نہیں اٹھتے۔ جس میدان میں ان کے لیے شکست مقدر ہے، وہاں وہ مسلسل لڑ رہے ہیں۔ اور جس میدان میں ان کے لیے ابدی طور پر فتح لکھی ہوئی ہے، اس کو انہوں نے چھوڑ رکھا ہے۔ نادانی کی یہ قسم اتنی عجیب ہے کہ اس کی کوئی توجیح نہیں کی جا سکتی، خواہ ڈکشنری کے تمام الفاظ اس کی توجیح کے لیے یکجا کر دیے گئے ہوں۔

کتاب "راہِ عمل" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 69۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.