← Raah-e-Amal Maazi,Haal aur Mustaqbil ka JayezaRaah-e-Amal Maazi,Haal aur Mustaqbil ka Jayeza
Hindustani musalmano ki jadid tarikh
Urdu · 12 min
ہندوستانی مسلمانوں کی جدید تاریخ اسی سے ملتی جلتی صورتحال ہندوستان میں 1857 کے بعد پیش آئی، جبکہ انگریزوں نے اس ملک پر قبضہ کر لیا۔ انہوں نے باقاعدہ منصوبے کے تحت یہ کوشش کی کہ اس ملک کے باشندوں کو سیاسی ٹکراؤ کے راستے سے ہٹا کر تعلیم اور تبلیغ کے میدان میں مصروفِ عمل کر دیا جائے۔ اس کے لیے انہوں نے ہر قسم کا تعاون پیش کیا۔ ہندو قوم نے انگریز کے اس منصوبے کو فوراً قبول کر لیا۔
وہ بہت بڑے پیمانے پر انگریزی تعلیم کے میدان میں سرگرم ہو گئے۔ انہوں نے انگریزوں کے تعاون سے بے شمار تعداد میں اسکول اور کالج بنائے، اور تقریباً اپنی پوری نسل کو اس راہ میں ڈال دیا۔ اس کا نتیجہ آج سامنے ہے: ہندو بحیثیتِ قوم مسلمانوں کے مقابلے میں کم از کم 100 سال تعلیم میں آگے ہیں۔ اس ملک میں ہندوؤں کی کامیابی کا سب سے بڑا سبب ان کا تعلیمی تقدم ہے، اور مسلمانوں کی بربادی کا سب سے بڑا سبب ان کی تعلیمی پسماندگی ہے۔
جہاں تک مسلمانوں کا تعلق ہے، وہ اس معاملے میں ناقابلِ فہم حد تک نادان ثابت ہوئے۔ ان کی جھوٹی برتری کا احساس ان کے لیے مذکورہ جاپانی طریقے کو اختیار کرنے میں معنی بن گیا۔ انہوں نے کامل بے سروسامانی اور اسی کے ساتھ کامل بے خبری کے باوجود انگریزوں سے ایک ایسی بے معنی جنگ شروع کر دی، جس کا سارا فائدہ انگریزوں کے حق میں جانے والا تھا، اور جس کا سارا نقصان خود مسلمانوں کے حق میں۔ انگریزوں نے اپنے دورِ اقتدار میں مسلمانوں کے ساتھ عین وہی تدبیر اختیار کرنا چاہا جو دوسری عالمی جنگ کے بعد میکاتھر نے جاپانیوں کے ساتھ اختیار کیا تھا، یعنی مسلمانوں کی توجہ سیاسی ٹکراؤ سے ہٹا کر تعلیم اور تبلیغ کی طرف موڑ دینا۔
مگر مسلمان بحیثیتِ قوم اس ہوشمندی کا ثبوت نہ دے سکے، جس کا ثبوت خود اس ملک میں ہندوؤں نے اور جاپان میں زیادہ بڑے پیمانے پر جاپانیوں نے دیا تھا۔ اس بات کی وضاحت کے لیے یہاں میں صرف دو مثالیں دینا چاہتا ہوں: قدیم ایم اے او کالج، یعنی موجودہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، میں ایک انگریز پروفیسر ٹی ڈبلیو آرنلڈ تھے۔ انہوں نے 500 صفحات پر مشتمل ایک انگریزی کتاب لکھی جس کا نام "دعوتِ اسلام" یعنی "The Preaching of Islam" تھا۔ یہ کتاب پہلی بار 1896 میں چھپی۔
اس کتاب میں دکھایا گیا تھا کہ اسلام کی اصل طاقت دعوت ہے۔ اسلام اپنی پوری تاریخ میں دعوت و تبلیغ کے ذریعے سے پھیلا ہے۔ اپنی دعوتی طاقت سے وہ ہر ظالم کے مقابلے میں کامیاب رہا ہے، اور ہر فاتح کے مقابلے میں دوبارہ اس نے غلبہ حاصل کیا ہے۔ ذاتی طور پر میں اس کتاب کو ایک بے حد قیمتی کتاب سمجھتا ہوں۔
تاہم، انیسویں صدی کے آخر میں جب یہ کتاب چھپی تو عام طور پر مسلم رہنماؤں نے اس کے بارے میں کہا کہ یہ کتاب انگریزی سازش کے تحت لکھی گئی ہے، اور اس کا مقصد یہ ہے کہ مسلمانوں کو سیاسی جہاد کے میدان سے ہٹا دیا جائے۔ مولانا حمید الدین فراہی، 1863 تا 1930، پروفیسر آرنلڈ کے زمانے میں علی گڑھ کالج میں موجود تھے۔ ان کے شاگردِ خاص مولانا امین حسن اصلاحی مولانا موصوف کے بارے میں لکھتے ہیں کہ مولانا حمید الدین فراہی جس زمانے میں علی گڑھ میں بی اے کے طالب علم تھے، اس زمانے میں علی گڑھ میں فلسفے کے پروفیسر مشہور انگریز مستشرق ڈاکٹر آرنلڈ تھے۔ مولانا نے ان سے فلسفے کا درس لیا، مگر وہ ان سے خوش نہیں تھے۔
وہ آرنلڈ صاحب کو بھی اسی بساطِ سیاست کا ایک مہرہ سمجھتے تھے، جو انگریزوں نے علی گڑھ میں بچھا رکھی تھی۔ علی گڑھ کا حلقہ ڈاکٹر آرنلڈ کی کتاب "Preaching of Islam" کا بڑا مداح تھا۔ لیکن مولانا حمید الدین فراہی اس کتاب کے سخت مخالف تھے۔ وہ فرماتے تھے کہ یہ کتاب مسلمانوں کے اندر سے روحِ جہاد ختم کرنے کے لیے لکھی گئی ہے۔
تفاسیر فراہی آرنلڈ کی کتاب یعنی "Preaching of Islam" کے بارے میں اس قسم کے تاثرات پہلے بھی ظاہر کیے گئے تھے، اور آج بھی ظاہر کیے جا رہے ہیں۔ مزید حوالے کے لیے ملاحظہ ہو مجلہ "تحقیقاتِ اسلامی" علی گڑھ، جولائی تا ستمبر 1985، صفحہ 24۔ نمبر 2: شیخ عبدالحق پراچہ، 1920 تا 1979، نے اپنے ایک مطبوعہ مضمون میں بتایا ہے کہ "جمعیت علمائے ہند کے اجلاس امروہہ، 1930 سے کچھ روز قبل، انگریز وائسرائے کو انگریز وائسرائے کی کونسل کے ذمہ دار ممبر سر میاں فضل حسین مرحوم، 1881 تا 1942" نے مولانا احمد سعید دہلوی متوفی 9591 کو بلا کر پیشکش کی کہ آپ اجلاسِ امروہہ میں کانگریس کے ساتھ علماء کے اشتراکِ عمل کی تجویز پاس نہ ہونے دیں۔ میں حکومتِ برطانیہ سے مخبرہ صفدر جنگ اور اس سے ملحقہ جائیداد بمع اراضی جمعیت علمائے ہند کے علمی اور تبلیغی کاموں کے لیے دلوا دوں گا۔
مولانا احمد سعید صاحب، سابق ناظمِ جمعیت علمائے ہند، نے اپنے مخصوص مزاحیہ انداز میں فرمایا: "میاں صاحب، تمام علمائے کرام کیا مجھے بیوقوف نہیں بنائیں گے کہ ہم تو پورے ملک کو حاصل کرنے کی تجویز پاس کر رہے ہیں، اور تم صرف ایک مخبرہ، وہ بھی مسلمانوں کی وقف ملکیت، پر فیصلہ کر رہے ہو؟ " مولانا کے جواب سے میاں صاحب موصوف کو بہت مایوسی ہوئی۔ یہ واقعہ مولانا احمد سعید دہلوی نے راقیم سے خود بیان کیا تھا، "الجمعیہ ویکلی، 2 جنوری 1970، صفحہ 8"۔ شیخ عبدالحق پراچہ دہلوی، سابق ناظمِ اعلیٰ جمعیت علماء دہلی، دوسری جگہ لکھتے ہیں: "یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ حکومتِ برطانیہ نے اپنے ہتھکنڈوں سے جمعیت علماء کو ختم کرنے کی پوری جدوجہد جاری رکھی۔
" جیسا کہ اوپر مذکور ہے، میاں سر فضل حسین مرحوم کے ذریعے مخبرہ صفدر جنگ اور اس سے متعلقہ جائیداد اور اراضی کی پیشکش کرائی تھی، جس کو مولانا احمد سعید صاحب نے ٹھکرا دیا تھا۔ الجمعیہ ویکلی، 30 جنوری 1970، صفحہ 18۔ اس پیشکش پر اب 60 سال گزر چکے۔ اگر 60 سالہ تاریخ کی روشنی میں غور کیجیے تو نہایت عبرت ناک سبق سامنے آتا ہے: ہندوستانی علماء کی سیاسی قربانیوں سے یہاں کے مسلمانوں کو کوئی بھی قابلِ لحاظ چیز حاصل نہ ہو سکی۔
جو لوگ پورے ملک پر قبضے کا خواب دیکھ رہے تھے، وہ ملک کے ایک جزئی حصے پر بھی قبضہ حاصل کرنے میں ناکام رہے۔ حتیٰ کہ آج مخبرہ جیسے مقامات بھی ہمارے علماء کی دسترس سے باہر ہیں۔ اب تصور کیجیے کہ مسلم رہنما اگر ڈاکٹر آرنلڈ کی کتاب "Preaching of Islam" کی اہمیت کو صحیح طور پر محسوس کرتے، اور پھر دعوتی جذبے کے تحت اگر 1930 میں انگریز کی پیشکش کو قبول کرتے ہوئے صفدر جنگ کی جائیداد کو لے لیا گیا ہوتا، جس کا مجموعی رقبہ کئی کلومیٹر کے دائرے میں پھیلا ہوا ہے، تو کیا ہوتا؟ یہاں ہمارے علماء ایک عظیم الشان تبلیغی ادارہ قائم کر سکتے تھے، جس کے سلسلے میں انہیں انگریزوں کی مکمل مدد حاصل ہوتی۔
یہاں تبلیغ و دعوت کی ضرورت کے تمام ادارے وسیع ترین پیمانے پر قائم کیے جا سکتے تھے، اگر وہ ایسا کرتے تو جہاں آج صفدر جنگ ایئرپورٹ قائم ہے، وہاں ایک عظیم الشان قسم کی انٹرنیشنل تبلیغی یونیورسٹی موجود ہوتی۔ ہمارے علماء یہاں سے اولاً ملکی سطح پر اور اس کے بعد عالمی سطح پر تبلیغ و دعوت کی مہم جاری کر سکتے تھے۔ اگر وہ ایسا کرتے تو 60 سال کے بعد آج ہندوستان کی تاریخ مختلف ہوتی، اور اس کے بعد شاید ساری دنیا کی تاریخ بھی۔ کتاب "راہِ عمل" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 65۔