← Raah-e-Amal Maazi,Haal aur Mustaqbil ka JayezaRaah-e-Amal Maazi,Haal aur Mustaqbil ka Jayeza
Roos ki misaal
Urdu · 7 min
روس کی مثال: تاریخ میں اس نوعیت کی دوسری مثالیں بھی موجود ہیں، جبکہ امن کی طاقت جنگ کی طاقت سے زیادہ مؤثر ثابت ہوئی۔ پرامن ذرائع نے وہ کام انجام دے دیا جو جنگی ذرائع سے بھی انجام نہیں پا سکتا تھا۔ پوری تاریخ میں اس تدبیر کی سب سے زیادہ شاندار مثال وہ ہے جو رسول اور اصحاب رسول کے ذریعے 7ویں صدی عیسوی میں پیش آئی۔ اس کی تفصیل کتاب "دین کامل" میں دیکھی جا سکتی ہے۔
یہاں ہم 20ویں صدی کی ایک اور مثال درج کرتے ہیں: 18ویں صدی میں وہ شہنشاہیت وجود میں آئی جس کو عام طور پر "برطانیہ عظمیٰ" یعنی Great Britain کہا جاتا ہے۔ روس ایک عظیم سرحدی ملک کی حیثیت سے ہمیشہ برطانیہ کی توجہ کا مرکز بنا رہا ہے۔ پہلے اس ملک میں زار کی سلطنت قائم تھی، 191 میں کمیونسٹ انقلاب آیا، اور روس نے سوویت روس کی شکل اختیار کر لی۔ پہلی عالمی جنگ 1914-18 کے دوران کمیونسٹ پارٹی کو موقع ملا کہ وہ حالات کی ابتری کو استعمال کر کے روس میں اپنا نفوذ حاصل کر سکے۔
کمیونسٹ نظریات تیزی سے روسی باشندوں میں پھیلنے لگے۔ وہ زار کے ظالمانہ نظام کے مقابلے میں اشتراکی نظام کو اپنے لیے زیادہ بہتر سمجھنے لگے۔ یہ صورتحال برطانیہ کے لیے اس کی سلطنت کے مشرقی حصے میں ایک خطرے کے ہم معنی تھی۔ چنانچہ نومبر 1918 میں انگریز فوجی افسروں کا ایک وفد سمرقند بھیجا گیا تاکہ وہ تازہ صورتحال کا جائزہ لے کر اس کے بارے میں رپورٹ پیش کرے۔
یہ ایک خفیہ وفد تھا، چنانچہ ظاہری طور پر یہ اعلان کیا گیا کہ ایک تجارتی وفد ہے اور وسط ایشیا کی کپاس کا سودا کرنے جا رہا ہے۔ وفد کے ممبران یہ تھے: کرنل بیلی، یعنی ایف ایم بیلی؛ کرنل ایتھٹن، یعنی پی ٹی ایتھٹن؛ میجر بلیکر، یعنی ایل وی ایس بلیکر۔ اس وفد نے روسی علاقے میں پہنچ کر اس مقصد کے تحت وہاں کا جائزہ لیا جس کے لیے وہ بھیجا گیا تھا۔ واپسی کے بعد کرنل ایتھٹن نے ایک کتاب لکھی جس کا نام تھا "وسط ایشیا کے قلب میں: ان دا ہارٹ آف سینٹرل ایشیا"۔
مصنف نے اپنی کتاب میں جو باتیں لکھیں، ان میں سے ایک بات یہ تھی کہ بولشویکو یعنی کمیونسٹوں کے لیے مصنف نے اپنی کتاب میں جو باتیں لکھیں، ان میں سے ایک بات یہ تھی کہ بولشویکو یعنی کمیونسٹوں کے نئے نظریات، جن کو لے کر وہ بڑھ رہے ہیں، وہ بالقوہ طور پر مشرق میں انگریزی غلبے کے لیے اس سے زیادہ بڑا خطرہ ہیں جتنا کہ ماضی میں شہنشاہ زار کی تمام فوجیں ہو سکتی تھیں۔ The new set of ideas of the Bolsheviks was potentially much more of a menace to English domination in the Orient than all the Tsars amazed in the past. Page 92 to 93. 20ویں صدی کے آغاز میں شہنشاہ زار کے پاس ہر قسم کی فوجی طاقت تھی۔
اس کے مقابلے میں کمیونسٹوں کے پاس صرف ایک غیر فوجی طاقت تھی، اور وہ ان کا نظریہ تھا۔ روس میں دونوں طاقتوں، یعنی فوج اور نظریے کے درمیان مقابلہ پیش آیا۔ اس مقابلے میں فوجی طاقت کے حاملین کو شکست ہوئی، اور جو لوگ نظریے کی طاقت لے کر آگے بڑھے تھے، وہ کامیاب ہو گئے۔ یہ واقعہ روس میں اکتوبر 1917 میں پیش آیا۔
مذکورہ واقعہ اسلامی تاریخ کار کی صداقت کی ایک عصری تصدیق ہے۔ اسلام کا اعتماد سب سے زیادہ اپنی نظریاتی طاقت پر ہے۔ اسلامی تحریک اپنی نظریاتی طاقت کے زور پر آگے بڑھتی ہے۔ اسلام اپنے نظریے کے ذریعے ہر دوسری چیز پر غلبہ حاصل کرتا ہے۔
اسلام کی تاریخ اس کی نمایاں مثال ہے۔ مذکورہ حوالہ اسی اسلامی صداقت کی گویا ایک عصری تائید و توثیق ہے۔ کتاب "راہِ عمل" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 63۔