Maulana Wahiduddin Khan
10 min left
0:00

← Raah-e-Amal Maazi,Haal aur Mustaqbil ka Jayeza
Raah-e-Amal Maazi,Haal aur Mustaqbil ka Jayeza

Nakhis istedlaal

Urdu · 10 min

ناقص استدلال: موجودہ زمانے میں جن لوگوں نے دین کی سیاسی تعبیر کی ہے، ان میں سے ایک مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی ہیں۔ ان کی تنظیم جماعت اسلامی اور مصر کی الاخوان المسلمون، دونوں اپنے اپنے علاقے میں اپنے حکمرانوں کے خلاف سیاسی جہاد میں مشغول ہیں۔ یہ عین وہی عمل ہے جس کو قدیم اصطلاح میں "خروج" کہا جاتا تھا، یعنی سیاسی بگاڑ کو درست کرنے کے نام پر حکمرانوں کو اقتدار سے بے دخل کرنے کی مہم چلانا۔ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی اس فکر کے ممتاز وکیل سمجھے جاتے ہیں؛ وہ کس طرح اس سیاسی انحراف کی توجیح کرتے ہیں؟

اس سلسلے میں یہاں ان کی تحریروں کے دو اقتباس نقل کیے جاتے ہیں: تفہیم القرآن میں سورہ الحجرات آیت 9 کے تحت انہوں نے یہ بحث چھیڑی ہے کہ ان لوگوں کی شرعی حیثیت کیا ہے جو ایک ایسی حکومت کے خلاف خروج کریں جو ان کی نظر میں ظالم حکومت ہو، جس کی عمارت ان کے خیال کے مطابق جبراً قائم ہوئی ہو، اور جس کے امراء فاسق ہوں، اور خروج کرنے والے اپنے اعلان کے مطابق عدل اور حدود اللہ کی اقامت کے لیے اٹھے ہوں، اور ان کا ظاہر حال یہ بتا رہا ہو کہ وہ صالح لوگ ہیں۔ اس صورت میں ان کو باغی یعنی زیادتی کرنے والا گروہ قرار دینے اور اس کے خلاف جنگ کو واجب قرار دینے میں فقہاء کے درمیان سخت اختلاف واقع ہو گیا ہے۔ اس کے بعد لکھتے ہیں کہ جمہور فقہاء اور اہل الحدیث کی رائے یہ ہے کہ جس امیر کی عمارت ایک دفعہ قائم ہو چکی ہو اور مملکت کا امن و امان اور نظم و نسخ اس کے انتظام میں چل رہا ہو، وہ خواہ عادل ہو یا ظالم، اور اس کی عمارت خواہ کسی طور پر قائم ہوئی ہو، اس کے خلاف خروج کرنا حرام ہے، الا یہ کہ وہ کفرِ صریح کا ارتکاب کرے۔ امام سرخسی لکھتے ہیں کہ جب مسلمان ایک فرمان روا پر مجتمع ہوں اور اس کی بدولت ان کو امن حاصل ہو اور راستے محفوظ ہوں، ایسی حالت میں اگر مسلمانوں کا کوئی گروہ اس کے خلاف خروج کرے تو جو شخص بھی جنگ کی طاقت رکھتا ہو، اس پر واجب ہے کہ مسلمانوں کے اس فرمان روا کے ساتھ مل کر خروج کرنے والوں کے خلاف جنگ کرے۔

امام نووی شرح مسلم میں لکھتے ہیں کہ ائمہ یعنی مسلمان فرمان رواؤں کے خلاف خروج اور قتال حرام ہے، خواہ وہ فاسق اور ظالم ہی کیوں نہ ہوں۔ اس پر امام نووی اجتماع کا وعدہ کرتے ہیں، اس پر امام نووی اجماع کا دعویٰ کرتے ہیں۔ تفہیم القرآن حصہ پنجم، صفحہ 79 تا 80: مذکورہ اقتباس اپنی تردید آپ ہے۔ اس میں صاحب مضمون ایک طرف یہ اقرار کر رہے ہیں کہ جمہور فقہاء اور اہل الحدیث کی رائے یہ ہے کہ قائم شدہ مسلم حکومت کے خلاف خروج کرنا حرام ہے، دوسری طرف اسی عبارت میں وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ اس بارے میں فقہاء کے درمیان سخت اختلاف واقع ہو گیا ہے۔

یہ دونوں باتیں ایک دوسرے کی ضد ہیں، کیونکہ جس فعل کو جمہور فقہاء حرام قرار دے رہے ہوں، اسی کے بارے میں فقہاء کے درمیان سخت اختلاف کیسے واقع ہو جائے گا؟ ایک ہی عبارت میں اس قسم کا متضاد بیان ظاہر کرتا ہے کہ مصنف اس معاملے میں اپنے آپ کو بے دلیل محسوس کر رہے ہیں، اس لیے بوکھلاہٹ میں وہ ایسی باتیں کہہ رہے ہیں جو ایک دوسرے کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتیں، جو خود ہی ایک دوسرے کی تردید ہیں۔ مولانا ابوالاعلیٰ مودودی نے مذکورہ عبارت کے بعد بعض فقہاء اور علماء کی رائے پیش کر کے یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی ہے کہ ان کے نزدیک بگڑے ہوئے مسلم حکمرانوں کے خلاف خروج کرنا جائز بلکہ ضروری ہے۔ مگر تقریباً چار صفحے کی یہ پوری بحث سراسر ناقص اور غیر علمی ہے۔

مثلاً اس میں سیاسی تنقید کے جواز کو سیاسی بغاوت کے جواز کے ہم معنی سمجھ لیا گیا ہے، حالانکہ دونوں کی نوعیت بالکل جداگانہ ہے۔ لفظی تنقید حسن نیت کی شرط کے ساتھ کسی بھی شخص کے بارے میں کی جا سکتی ہے، مگر کسی کے خلاف عملی اقدام کی اس طرح آزادانہ اجازت نہیں۔ امام ابو حنیفہ کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ ظالم امراء کے خلاف قتال کو نہ صرف جائز سمجھتے تھے بلکہ اس قسم کے قتال کو اہل کفر کے خلاف جہاد سے بھی زیادہ افضل قرار دیتے تھے۔ یہ بلاشبہ ایک لغو بات ہے۔

خود مولانا مودودی کے بیان کے مطابق امام ابو حنیفہ کے زمانے میں مسلم سلاطین میں ظلم و جبر آ چکا تھا، مگر امام ابو حنیفہ نے ان کے خلاف کبھی قتال نہیں کیا۔ ان کے ممتاز شاگرد امام ابو یوسف نے انہیں حکمرانوں کے تحت قضا کا سرکاری عہدہ قبول کر لیا۔ پھر کیا امام ابو حنیفہ اور امام ابو یوسف بزدل اور مصلحت پرست تھے؟ کیا ان کا قول کچھ تھا اور ان کا عمل کچھ؟

اسی طرح اس بحث میں غیر متعلق باتوں کو اپنے نظریے کی دلیل بنا کر پیش کیا گیا ہے۔ مثلاً کہا گیا ہے کہ حضرت علی نے جنگ جمل میں فتح یاب ہونے کے بعد اعلان کیا کہ بھاگنے والے کا تعاقب نہ کرو، زخمی پر حملہ نہ کرو، گرفتار ہو جانے والوں کو قتل نہ کرو۔ جو ہتھیار ڈال دے اس کو امان دو، لوگوں کے گھروں میں نہ گھسو، اور عورتوں پر دست درازی نہ کرو، خواہ وہ تمہیں گالیاں ہی کیوں نہ دے رہی ہوں۔ آپ کی فوج کے بعض لوگوں نے مطالبہ کیا کہ مخالفین کو ان کے بال بچوں کو غلام بنا کر تقسیم کر دیا جائے۔

اس پر غضب ناک ہو کر آپ نے فرمایا: "تم میں سے کون ام المومنین عائشہ کو اپنے حصے میں لینا چاہتا ہے؟ " صفحہ 81 تا 82: اس طرح کے اقوال اور احکام کو مولانا مودودی نے بظاہر مسلکِ بغاوت کا جواز ثابت کرنے کے لیے نقل کیا ہے، حالانکہ ان اقوال اور احکام کا اس قسم کے مسلک سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ تمام حوالے حکمراں کیا کر کیا کرے؟ یہ تمام حوالے حکمراں کیا کرے کہ مسئلے سے تعلق رکھتے ہیں، نہ کہ باغی کیا کریں کہ مسئلے سے۔

یہ اقوال و احکام حکمران کے خلاف مسلمانوں کی بغاوت کو جائز قرار نہیں دیتے، وہ صرف یہ بتاتے ہیں کہ جب کچھ مسلمان اپنی نادانی یا سرکشی سے مسلم حکمران کے خلاف بغاوت کا اقدام کر بیٹھیں تو حکمران کو چاہیے کہ وہ ان کے ساتھ اسلامی شرافت والا معاملہ کرے، وہ ان کے ساتھ عام دشمنوں جیسا سلوک نہ کرے، جیسا کہ ام المومنین عائشہ کے بارے میں حضرت علی کے قول سے واضح ہو رہا ہے۔ کتاب "راہ عمل" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 49۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.