اجماعِ امت: اسلام کے اصولوں میں سے ایک مستقل اصول یہ ہے کہ اہلُ الامر، یعنی اربابِ حکومت، سے نزاع نہ کی جائے، حتیٰ کہ اس وقت بھی نہیں جبکہ بظاہر وہ غلط نظر آتے ہیں۔ اس حکم کا مقصد اصلاح کا جذبہ رکھنے والوں کی توجہ کو سیاست سے موڑ کر غیر سیاسی میدانوں میں تعمیر کی طرف لگانا ہے۔ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس پر سلف سے خلف تک امت کا اجماع ہے۔ ڈاکٹر عبداللہ بن عبدالمحسن التركی، مدیر جامعۃ الامام محمد ابن سعود الاسلامیہ، ریاض، نے 18-22 اپریل 1987 کو جامعۃ الازہر، قاہرہ کی کانفرنس میں ایک مقالہ پیش کیا تھا۔
اس کا عنوان تھا "منہج الدعوة إلى الله"۔ اس مقالے میں انہوں نے سلف صالحین کے عقیدے کو تفصیل کے ساتھ بیان کیا تھا۔ اس مقالے کا ایک حصہ یہ ہے: "ولا نرى الخروج على أئمتنا وولاة أمورنا وإن جاروا وظلموا ولا ندعو عليهم ولا ننزع يدًا من طاعتهم ونرى طاعتهم من طاعة الله عز وجل فريضة"۔ "الاستحضار الدائم لمنهج أهل السنة في هذه النقطة وهي أن لا ينازع الدعاة الأمر أهله"۔
سوط الأمة، بنارس، رجب 1408 ہجری، صفحہ 15 تا 30۔ یعنی: "اور ہم اپنے سربراہوں اور حاکموں کے خلاف بغاوت کو صحیح نہیں سمجھتے، خواہ وہ ظلم اور زیادتی کریں، اور ہم ان کے خلاف بد دعا نہیں کرتے، اور ہم ان کی اطاعت سے دستکش نہیں ہوتے، اور ہم ان کی اطاعت کو اللہ کی اطاعت کے ساتھ فرض سمجھتے ہیں"۔ اہل سنت کے طریقے کے اس پہلو کا مستقل استحضار رہنا چاہیے کہ داعی کبھی بھی اہلِ امر سے نزاع نہ کرے۔ ڈاکٹر عبداللہ بن عبدالمحسن التركی نے اوپر کی سطروں میں جو بات کہی ہے، وہ اہل سنت کے طریقے کی نہایت صحیح ترجمانی ہے۔
ایک ہزار سال سے بھی زیادہ عرصے سے اہل سنت کا یہی اجماعی مسلک ہے کہ داعی اور مصلح غیر سیاسی دائرے میں دعوت اور اصلاح کا کام کرے، وہ اربابِ حکومت کو تخت سے بے دخل کرنے کو ہرگز اپنی جدوجہد کا نشانہ نہ بنائے۔ دوسرے لفظوں میں، یہ کہ داعی اور مصلح کے لیے ہر دور میں صحیح رول ماڈل امام حسن کا ہے، نہ کہ امام حسین کا۔ کتاب "راہِ عمل"، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 48۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.