سیاسی بدعت؟ امام حسین کے واحد استثنا کو چھوڑ کر پوری اسلامی تاریخ امام حسن کے نمونۂ عمل، یعنی رول ماڈل، پر چلتی رہی۔ صحابہ، تابعین، تبع تابعین، محدثین، فقہاء، علماء، صوفیاء وغیرہ جو امت کے نمائندہ گروہ کی حیثیت رکھتے ہیں، وہ سب کے سب 1000 سال سے زیادہ مدت تک اسی روش پر چلتے رہے۔ موجودہ زمانے میں بھی امت کا نمائندہ طبقہ بڑی حد تک اسی روش پر قائم ہے۔
یہ وہ لوگ ہیں جو مسجد اور مدرسے کو بنیاد بنا کر دینی خدمت انجام دے رہے ہیں، یا علمی اداروں اور دینی تنظیموں کی صورت میں انہوں نے غیر سیاسی دائرے میں اپنے لیے دینی کام تلاش کر لیے ہیں۔ اور ان میں وہ یکسوئی کے ساتھ لگے ہوئے ہیں؛ حدیث کے الفاظ میں "ہر ایک اپنے اونٹ اور پانی بکری سے وابستہ ہو کر خدمتِ دین میں مصروف ہے"۔ یہ لوگ امت کو کچھ دے رہے ہیں، جبکہ اسلامی سیاست دان صرف یہ کر رہے ہیں کہ جو کچھ امت کو حاصل ہے، اس سے اسے محروم کر دیں۔ 20ویں صدی کے وسط سے امت مسلمہ کے اندر ایک نیا مظہر پیدا ہوتا ہے۔
دوسری عالمی جنگ کے بعد ایسے حالات پیدا ہوئے کہ تمام مسلم ممالک مغرب کے سیاسی قبضے سے آزاد ہو گئے۔ اس وقت چھوٹے بڑے تقریباً 50 مسلم ملک دنیا میں پائے جاتے ہیں۔ ان میں سے کئی ملکوں میں ایسی تحریک ابھری ہے جو اس سے پہلے کبھی مسلم دنیا میں نہیں پائی گئی تھی۔ یہ وہی ہے جس کو اسلامی سیاست کی تحریک کہا جاتا ہے۔
ان تحریکوں سے وابستہ افراد اپنے ملک کے حکمرانوں سے اس عنوان پر لڑ رہے ہیں کہ انہوں نے ملک میں اسلامی خانون نافذ نہیں کیا۔ وہ موجودہ حکمرانوں کو اقتدار سے ہٹا کر دوسرے افراد لانا چاہتے ہیں، جو ان کے خیال کے مطابق اسلامی خانون کا نظام قائم کر سکیں گے۔ یہ گویا ایک اعتبار سے امام حسین کے رول ماڈل کو زندہ کرنے کے ہم معنی ہیں۔ تاہم امام حسین میں اور موجودہ اسلامی لیڈروں میں ایک بہت بڑا فرق ہے۔
امام حسین صرف لڑے تھے، جبکہ موجودہ اسلامی لیڈر اپنی لڑائی کو ایک مستقل فلسفہ یا قرآن و حدیث کی ایک نئی سیاسی تعبیر بنا کر پیش کر رہے ہیں۔ اس طرح موجودہ اسلامی لیڈروں کا معاملہ بہت زیادہ سنگین معاملہ بن جاتا ہے، کیونکہ وہ نہ صرف یہ کہ ایک ممنوعہ لڑائی لڑ رہے ہیں، اسی کے ساتھ انہوں نے اپنی ممنوعہ لڑائی کو درست ثابت کرنے کے لیے قرآن کی ایک خود ساختہ تعبیر بھی کر ڈالی ہے، جو اپنی حقیقت کے اعتبار سے معنوی تحریف کے ہم معنی ہے۔ تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: "تعبیر کی غلطی"۔ کتاب "راہِ عمل" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 47۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.