Maulana Wahiduddin Khan
7 min left
0:00

← Raah-e-Amal Maazi,Haal aur Mustaqbil ka Jayeza
Raah-e-Amal Maazi,Haal aur Mustaqbil ka Jayeza

Hukmrano parasar

Urdu · 7 min

حکمرانوں پر اثر: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت پر عمل کرنے کا یہ نتیجہ تھا کہ بعد کے دور میں، اگرچہ خلیفہ کی جگہ سلطان ہونے لگے، مگر جو کچھ بگاڑ آیا وہ محدود معنوں میں صرف سیاسی تھا اور شاہی محلوں کے دائرے تک محدود رہا۔ عمومی سطح پر مسلم معاشرے میں بدستور اسلامی زندگی کا تسلسل جاری رہا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد 1000 سال تک مسلم معاشرہ کسی بڑی خرابی سے پاک رہا۔ مزید یہ کہ اس عمومی اصلاح کا یہ نتیجہ تھا کہ خود سلاطین اور حکمران کا بگاڑ بھی ایک حد کے اندر باقی رہا، وہ حد سے آگے نہ بڑھ سکا۔

اسی کا یہ نتیجہ تھا کہ خلافتِ راشدہ کے بعد پورے ہزار سالہ دور میں علماء اور مصلحین بادشاہوں پر کھلم کھلا تنقید کرتے تھے، وہ ان کے بہت سے احکام کو سرے سے نظرانداز کرتے تھے۔ اس کے باوجود کسی بادشاہ یا حکمران کو یہ ہمت نہ ہوتی تھی کہ وہ ان کے خلاف کوئی جابرانہ کارروائی کر سکے۔ حضرت عبداللہ ابن عمر یزید ابن معاویہ کے ہم عصر تھے، انہوں نے آخر وقت تک یزید کے ہاتھ پر بیعت نہیں کی، مگر یزید کو یہ ہمت نہ ہو سکی کہ وہ عبداللہ ابن عمر سے جبری بیعت لے یا ان کو قتل کرا دے۔ ہارون الرشید کے ایک معاصر بزرگ نے خلیفہ سے مصافحہ کیا تو ان کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔

ہارون الرشید نے رونے کا سبب پوچھا تو انہوں نے کہا کہ یہ ہاتھ کتنے نرم ہیں، کاش وہ جہنم کی آگ سے بھی محفوظ رہ سکیں۔ اس سخت کلام کے باوجود خلیفہ نے ان کے خلاف کوئی کارروائی نہ کی۔ اسپین کا سلطان عبدالرحمن الناصر جمعہ کی نماز پڑھنے کے لیے قرطبہ کی جامعہ مسجد میں گیا، وہاں جامعہ مسجد کے خطیب نے جمعہ کا خطبہ دیتے ہوئے عل الاعلان سلطان پر تنقید کی، مگر سلطان کو یہ ہمت نہ ہو سکی کہ وہ انہیں خطیب کے عہدے سے معزول کر دے یا ان کی سزا کا فرمان جاری کرے۔ القول الجلی صفحہ 162 میں بتایا گیا ہے کہ امام ابن تیمیہ قاضان کے دربان میں داخل ہوئے۔

امام ابن تیمیہ قاضان کے دربار میں داخل ہوئے، جو ایک مسلم سلطان تھا، اس نے کھانا پیش کیا۔ دوسرے لوگوں نے اس کو کھایا، مگر ابن تیمیہ نے نہیں کھایا۔ قاضان نے پوچھا کہ آپ نے کھانا کیوں نہیں کھایا؟ ابن تیمیہ نے جواب دیا کہ میں کیسے تمہارا کھانا کھاؤں جبکہ وہ لوگوں کے اموال کو چھین کر تیار کیا گیا ہے اور غصب کیے ہوئے درخت کی لکڑیوں پر اس کو پکایا گیا ہے، وغیرہ۔

ابن تیمیہ کے ساتھی کہتے ہیں کہ جب ابن تیمیہ قاضان کے سامنے اس قسم کی تقریر کر رہے تھے تو ان کی بے باکی کو دیکھ کر ہمیں یقین ہو گیا کہ اب وہ ضرور قتل کر دیے جائیں گے۔ چنانچہ ہم اپنے کپڑے سمیٹنے لگے اس خوف سے کہ وہ قتل کیے جائیں اور ہمارے کپڑے ان کے خون سے آلودہ ہو جائیں۔ ونحن نجمع ثيابنا خوفًا أن يقتل فيترقص بدمه. مسالک الابصار لابن فضل لابن فضل اللہ العمری جلد 5 صفحہ 699۔

اس غیر معمولی بے باکی کے باوجود قاضان کو یہ جرات نہ ہو سکی کہ وہ ابن تیمیہ کے خلاف ہاتھ اٹھائے۔ مغل شہنشاہ جہانگیر کا واقعہ ہے، جس کو مولانا شبلی نعمانی نے نہایت مؤثر انداز میں نظم کیا ہے، اور وہ عدل جہانگیری کے عنوان سے ان کے مجموعہ کلام میں شامل ہے۔ اس واقعے کے مطابق جہانگیری کی محبوب ملکہ نور جہاں نے ایک شخص کو بلا سبب طپنچہ مار کر قتل کر دیا۔ یہ معاملہ شریع مفتی کے سامنے پیش ہوا۔

علامہ شبلی کے الفاظ میں، مفتی شرع نے بے خوف و خطر صاف کہا: "شرع کہتی ہے کہ قاتل کی اڑا دو گردن۔ " مفتی کے اس فتوے کے بعد نور جہاں، جہانگیر اور تمام درباری اپنے کو بے دست و پا محسوس کرنے لگے۔ بظاہر اس کے سوا کوئی صورت نہ تھی کہ مقتول کے خصاص میں نور جہاں کو قتل کر دیا جائے۔ آخر کار مقتول کے ورثہ دیت لینے پر راضی ہو گئے، اور اس طرح نور جہاں کی جان بچ گئی۔

اسلام کی پچھلی ہزار سالہ تاریخ میں اس طرح کے بے شمار واقعات ہیں جو کتابوں میں بکھرے ہوئے ہیں۔ عام طور پر لوگ ان واقعات کو بعض افراد کے خانے میں ڈالے ہوئے ہیں، مگر زیادہ صحیح طور پر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قائم کردہ اس طریقے کے خانے میں جاتا ہے جس کا اوپر ذکر کیا گیا، یعنی حکمرانوں سے ٹکراؤ چھوڑ کر عوامی سطح پر اسلام کی تعلیمات کو زندہ رکھنے کی کوشش کرنا۔ بعد کے دور کے علماء اور اہل دین اگر اپنے ہم عصر بادشاہوں کو تخت سے بے دخل کرنے کے لیے ان سے سیاسی ٹکراؤ کرتے تو مسلم ملکوں کا وہی انجام ہوتا جو موجودہ زمانے میں مثال کے طور پر مصر اور پاکستان میں نظر آتا ہے۔ ان ملکوں میں اینٹی حکمران سیاست کے نتیجے میں بربادی اور تخریب کاری کے سوا کسی اور چیز کی تاریخ نہ بن سکی۔

جبکہ اس سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت پر عمل کرنے کی وجہ سے 1000 سال تک اسلام کی تعمیر اور اس کی اشاعت کا کام نہایت طاقتور انداز میں جاری رہا۔ کتاب راہ عمل مولانا وحید الدین خان صفحہ نمبر 44۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.