ایک جائزہ: پچھلے صفحات میں بتایا جا چکا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہایت شدت کے ساتھ بار بار یہ ہدایت دی تھی کہ اگر تم حکمرانوں میں سیاسی بگاڑ دیکھو تو ہرگز ان سے ٹکراؤ نہ کرو، بلکہ اپنے ممکن مواقع کے دائرے میں اپنی جدوجہد جاری رکھو۔ اپنے ممکن دائرے میں جدوجہد کرنا عمل ہے، اور حکمرانوں سے ٹکرانا ردِعمل۔ اور اسلام اپنے تعمیری اور دعوتی مزاج کی بنا پر عمل کا طریقہ پسند کرتا ہے؛ اس کو ردِعمل سے قطعاً کوئی دلچسپی نہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس تعلیم کا اثر نہ صرف علما اور عوام پر گہرا تھا، بلکہ اس نے خود حکمرانوں کو بھی کافی متاثر کیا۔
اسی کا یہ نتیجہ تھا کہ تقریباً 1000 سال تک اسلام کی ترقی بلا انقطاع جاری رہی۔ ترقی اور اشاعت کا یہ غیر معمولی سلسلہ صرف موجودہ زمانے میں اس وقت رکا ہے جبکہ پرجوش اسلام پسندوں نے اس حکم نبوی کی خلاف ورزی شروع کر دی۔ کتاب "راہِ عمل" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 44۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.