Maulana Wahiduddin Khan
6 min left
0:00

← Raah-e-Amal Maazi,Haal aur Mustaqbil ka Jayeza
Raah-e-Amal Maazi,Haal aur Mustaqbil ka Jayeza

Namoone ka masala

Urdu · 6 min

نمونے کا مسئلہ: ماہنامہ ترجمان القرآن لاہور میں مولانا ابو الاعلیٰ مودودی کی ایک تقریر نمایاں طور پر شائع کی گئی ہے، جو انہوں نے 10 جون 1962 عیسوی کو لاہور میں کی تھی، اور ان کی زندگی ہی وہ اخبار "ایشیا لاہور" 12 جون 1962 میں چھپی تھی۔ اس مطبوعہ تقریر کا عنوان یہ ہے: "حضرت حسین سے نمونہ لیجیے"۔ اس تقریر کا ایک حصہ یہاں نقل کیا جاتا ہے: "اگر حکومت مسلمانوں کے ہاتھ میں ہو اور غیر اسلامی طریقے سے چلائی جا رہی ہو، تو مسلمانوں کو سخت الجھن پیش آتی ہے؛ قوم مسلمان ہے، حکومت مسلمانوں کے ہاتھ میں ہے، مگر چلائی جا رہی ہے غیر اسلامی طریقے پر، تو اس حالت میں ایک مسلمان کیا کرے؟ " اگر حضرت حسین ان حالات میں نمونہ پیش نہ کرتے تو کوئی صورت رہنمائی کی نہ تھی۔

اگر کسی مسلمان حکومت کا بگاڑ جزئیات میں ہے، تو نظم و نسخ درہم برہم کرنے کی کوشش روانہ ہوگی۔ اگر کسی مسلمان حکومت کا بگاڑ جزئیات میں ہے، تو نظم و نسخ درہم برہم کرنے کی کوشش روا نہ ہوگی۔ مگر جب بادشاہ یا خلیفہ نے اس حکومت کو موروثی بنانے کی کوشش کی، تو اصولی تغیر واقع ہو گیا۔ ایک خاندان نے حکومت کو اپنی جائیداد بنانے کا فیصلہ کر لیا، تو انہوں نے اس کے روکنے کا فیصلہ کر لیا، خواہ اس میں ان کی جان جائے اور ان کا بچہ بچہ کٹ جائے۔

حضرت حسین نے یہ نمونہ پیش کیا کہ اگر حکومت مسلمانوں کے ہاتھ میں ہو اور وہ غلط راہ پر جا رہی ہو، تو اس کے خلاف جدوجہد درست ہے۔ یہ حضرت حسین ہی کا نمونہ تو ہے، جو مسلمان حکومت کے بگاڑ کے وقت مسلمانوں کی رہنمائی کرتا ہے۔ اگر اس نمونے کو بھی چھوڑ دیا جائے تو نمونہ کہاں سے آئے گا؟ معاملہ صرف یہ نہیں کہ جگر گوشہ رسول کو قتل کر دیا گیا اور ہم نوحہ خوانی کے لیے بیٹھے ہیں، بلکہ نمونہ حاصل کرنے کا ہے۔

ترجمان القرآن، ستمبر 1987۔ مولانا ابو الاعلیٰ مودودی نے یہ تقریر اپنی اس سیاست کے جواز میں کی ہے جو انہوں نے پاکستان کے خیام 1947 کے بعد پاکستان میں چلائی، اور جس پر وہ اپنی زندگی کے آخری لمحے تک قائم رہے۔ یعنی پاکستان کے مسلم حکمرانوں کو غیر صالح قرار دے کر ان کو اقتدار سے بے دخل کرنے کی مہم چلانا، اور اس میں ہر وہ طریقہ اختیار کرنا جو موجودہ زمانے کی سیاسی جماعتیں اختیار کرتی ہیں۔ اس تقریر میں مولانا ابو الاعلیٰ مودودی یہ اقرار کر رہے ہیں کہ ان کی نام نہاد اسلامی سیاست کی تبریر، یعنی جسٹیفیکیشن، کے لیے نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول و فعل میں نمونہ ہے، اور نہ ایک لاکھ سے زیادہ صحابہ کرام کی زندگیوں میں۔

ان کے لیے نمونہ نہ تابعین میں ہے، اور نہ تبع تابعین میں، نہ محدثین میں ہے، اور نہ فقہاء میں، نہ علماء میں ہے، اور نہ صوفیاء میں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے معیاری دور سے لے کر 1400 برس تک اٹھنے والے اکابرِ امت میں ان کے لیے نمونہ نہیں۔ ان کے لیے اگر نمونہ ہے تو صرف ایک نوجوان حسین ابن علی میں، جس کے اقدام کو علمائے امت نے متفقہ طور پر اجتہادی خطا قرار دیا ہے۔ صاحبِ تقریر کا یہ یقین اس کے باوجود ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی حدیث میں امام حسین کے اس سیاسی عمل کی تائید موجود نہیں۔

ان کے ہم عصر ہزاروں اصحابِ رسول میں سے کوئی ایک صحابی بھی اس معاملے میں ان سے متفق نہ تھا۔ بعد کی تاریخ میں امت کے کسی بھی نمائندہ طبقے نے ان کے عمل کو اپنے لیے نمونہ نہیں بنایا۔ حتیٰ کہ خالص تاریخی اعتبار سے یہ بھی ثابت نہیں ہوتا کہ خود امام حسین کا اقدام فی الواقع وہی نوعیت رکھتا تھا جو مولانا مودودی جیسے لوگ آج ہم کو بتا رہے ہیں۔ ان تمام غیر موافق پہلوؤں کے باوجود مولانا ابو الاعلیٰ مودودی کو یہ اصرار ہے کہ وہ امام حسین کے نمونے کو اپنے لیے نمونہ بنائیں گے۔

اگر کسی طرزِ عمل کو دینی اور شرعی ثابت کرنے کے لیے مذکورہ بالا دلیل کافی ہو، تو مجھے معلوم نہیں کہ اس دنیا میں کون سا عمل اور کون سی روش ایسی ہے جس کو دینی اور شرعی اعتبار سے جائز اور ضروری ثابت نہ کیا جا سکے۔ کتاب "راہِ عمل" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 53۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.