Maulana Wahiduddin Khan
10 min left
0:00

← Raah-e-Amal Maazi,Haal aur Mustaqbil ka Jayeza
Raah-e-Amal Maazi,Haal aur Mustaqbil ka Jayeza

Numainda groh

Urdu · 10 min

نمائندہ گروہ واقعات بتاتے ہیں کہ امت کے نمائندہ طبقے نے اللہ اور رسول کے مذکورہ منشاء کو سمجھا اور اس کو پوری طرح پکڑ لیا۔ اس کے بعد امت کی تاریخ اسی رخ پر چل پڑی، اور ہزار برس تک مسلسل اسی رخ پر چلتی رہی۔ موجودہ زمانے کی نام نہاد اسلامی انقلابی تحریکوں سے پہلے اس کی خلاف ورزی کی مثال کہیں نہیں ملتی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد امت کا پہلا نمائندہ طبقہ وہ ہے جس کو صحابہ کرام کہا جاتا ہے۔

اس کے بعد تابعین، تبع تابعین، محدثین، فقہاء، علماء، صوفیاء کا درجہ ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کو امت میں نمائندہ گروہ کی حیثیت حاصل ہے۔ ان میں سے کسی بھی گروہ نے کبھی مذکورہ بالا ہدایت کے خلاف روش اختیار نہیں کی۔ تاریخ بتاتی ہے کہ یہ تمام لوگ حسن کے رول ماڈل پر چلتے رہے، نہ کہ حسین کے رول ماڈل پر۔

بنو امیہ کے زمانے میں جب امت کے سیاسی ادارے میں بگاڑ پیدا ہوا تو ہزاروں کی تعداد میں صحابہ موجود تھے۔ تاریخ سے ثابت ہے کہ انہوں نے سیاسی بگاڑ کے خلاف اس قسم کا کوئی ہنگامہ نہیں کھڑا کیا، جس کا نمونہ موجودہ زمانے کی نام نہاد اسلامی جماعتوں نے پیش کیا ہے۔ اس کے برعکس انہوں نے یہ کیا کہ وہ ایشیا اور افریقہ کے مختلف ملکوں میں پھیل گئے اور اسلام کی تبلیغ و اشاعت کا کام کرنے لگے۔ اسی کا نتیجہ وہ جغرافی واقعہ ہے جس کو عرب دنیا کہا جاتا ہے۔

صحابہ کی انہی غیر سیاسی کوششوں کا یہ نتیجہ تھا کہ اسلام نہ صرف عرب کے چاروں طرف پھیلا بلکہ ایک وسیع خطے میں اسلام کو ابدی طور پر تہذیبی غلبہ حاصل ہو گیا۔ صحابہ کرام اگر سیاسی اصلاح کے نام پر حکمرانوں سے ٹکراتے تو یقینی تھا کہ ان کا انجام وہی ہوتا جو امام حسین کا اور ان کے ساتھیوں کا کربلا کے میدان میں ہوا۔ ایسی حالت میں زمین پر ایک وسیع دنیائے کربلا تو ظہور میں آ سکتی تھی، مگر یہ ناممکن تھا کہ ایک وسیع دنیائے اسلام ظہور میں آئے۔ تابعین اور تبع تابعین کی ایک بڑی تعداد نے بھی ایسا ہی کیا۔

ان کے زمانے میں حکمرانوں کا بگاڑ پوری طرح ظاہر ہو چکا تھا، مگر انہوں نے حکمرانوں سے ٹکراؤ کا طریقہ چھوڑ کر حدیث کی تدوین کا کام شروع کر دیا۔ انہوں نے وہ فن تخلیق کیا جس کو علم حدیث کہا جاتا ہے۔ دوسری طرف انہوں نے رات دن کی محنت سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام حدیثوں کو جمع کیا اور ان کو کتابی شکل میں مرتب کر دیا تاکہ وہ قیامت تک کی نسلوں کے لیے رہنمائی کا کام کرتا رہے۔ محدثین کا گروہ اس کے بجائے اگر یہ کام کرتا کہ وہ اسلامی سیاست کے نام پر حکمرانوں سے لڑائی شروع کر دیتا تو حدیث کی تدوین کا کام انجام نہیں پا سکتا تھا۔

یہ بلاشبہ اتنا بڑا نقصان ہوتا جس کی تلافی قیامت تک نہ ہو سکے۔ انہی تابعین اور تبع تابعین کا ایک گروہ وہ ہے جو فقہ کی تدوین میں لگ گیا۔ انہوں نے کتاب و سنت کے نصوص میں قیاس اور اجتہاد کے ذریعے بے شمار احکام مستنبط کیے۔ انہوں نے نہ صرف علم فقہ کو وجود دیا بلکہ زندگی کے تمام شعبوں کے لیے مکمل قانونی نظام مرتب کر دیا۔

یہ فقہاء اگر اپنے زمانے کے ظالم حکمرانوں سے اصلاح کے نام پر جنگ اور ٹکراؤ شروع کر دیتے تو فقہ کی تدوین کا وہ عظیم الشان کام انجام نہیں پا سکتا تھا جو ان حضرات کے ذریعے انجام پایا۔ اس کے بعد علماء کا وہ طویل سلسلہ ہے جو صدیوں کے درمیان اسلام کی علمی اور تعمیری خدمت کرتا ہوا نظر آتا ہے۔ ان حضرات نے بھی یہی کیا کہ حکمرانوں کے بگاڑ کے خلاف سیاسی تحریک چلانے کا طریقہ چھوڑ کر دوسرے ممکن میدانوں میں سرگرم ہو گئے۔ اسی کا ایک نتیجہ وہ عظیم الشان علمی سرمایہ ہے جس کو اسلامی کتب خانہ کہا جاتا ہے۔

آج ہمارے پاس عربی زبان میں تفسیر حدیث، تفسیر حدیث، سیرت، تاریخ اسلام، علم کلام، فقہ اور دوسرے اسلامی موضوعات پر بے شمار نہایت قیمتی کتابیں موجود ہیں۔ وہ اسلام کے علمی مطالعے کے لیے ابدی طور پر کافی ہیں۔ تاہم یہ ناقابل بیان حد تک قیمتی کام اسی وقت ممکن ہو سکا جبکہ علمائے اسلام نے سیاسی تصادم کو چھوڑ کر پرامن تعمیری میدان کو اپنی کوششوں کا مرکز و محور بنایا۔ یہی معاملہ صوفیاء کا بھی ہے۔

صوفیاء کے زمانے میں بھی ہر طرف ظالم حکمران موجود تھے، مگر صوفیاء نے ان سے براہ راست ٹکراؤ نہیں کیا۔ وہ ان حکمرانوں سے الگ رہ کر خالص غیر سیاسی دائرے میں سرگرم ہو گئے۔ انہوں نے اصلاح سیاست کے بجائے اصلاح افراد کو اپنا نشانہ بنایا۔ صوفیاء اگر حکمرانوں سے ٹکراؤ کا طریقہ اختیار کرتے تو اس کے سوا اور کچھ نہ ہوتا کہ ان میں سے ہر ایک کے نام کے ساتھ لفظ شہید کا اضافہ ہو جائے۔

جیسا کہ موجودہ زمانے کے بہت سے رہنماؤں کی مثال میں نظر آتا ہے۔ مگر جب انہوں نے سیاست گاہ کے بجائے خانقاہ کو اپنا مرکز عمل بنایا تو وہ لاکھوں لوگوں کی اصلاح کا ذریعہ بن گئے، حتیٰ کہ خود حکمرانوں کی اصلاح کا ذریعہ بھی۔ انہی صوفیاء کی کوششوں کا یہ نتیجہ ہے کہ آج برصغیر ہند میں کروڑوں کی تعداد میں مسلمان پائے جاتے ہیں۔ بھارت کے علاوہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے مسلم ملک زیادہ تر صوفیاء ہی کی بدولت وجود میں آئے ہیں۔

حکمرانوں سے ٹکراؤ کرنے والوں کے ذریعے کبھی اس قسم کا مثبت واقعہ ظہور میں نہیں آیا۔ ہندوستان میں جو صوفیاء گزرے ہیں، ان کے حالات اور ان کے ملفوظات کو پڑھیے تو اس کا کوئی ثبوت نہیں ملتا کہ انہوں نے ملک کے غیر مسلموں میں براہ راست تبلیغ کا کام کیا ہو یا اس کا پروگرام بنایا ہو۔ اس کے باوجود یہ بھی ایک واقعہ ہے کہ ہندوستان کے لاکھوں بلکہ کروڑوں غیر مسلم ہیں جنہوں نے انہی صوفیاء کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا ہے۔ حضرت خالد ابن ولید کو تبلیغ کے لیے یمن میں بھیجا گیا۔

وہ وہاں پہنچے تو وہ اونٹ پر بیٹھ کر لوگوں کے درمیان بلند آواز سے کہتے پھرتے تھے کہ "ایہا الناس قولو لا الہ الا اللہ تفلح"۔ لوگوں! لا الہ الا اللہ کہو تم کامیاب ہو گے۔ صوفیاء کے متعلق ثابت نہیں کہ وہ اس طرح لوگوں کے درمیان تبلیغ کی کوشش کرتے ہوں۔

اصل یہ ہے کہ لوگ بطور خود اسلام کی طرف مائل ہوتے تھے اور اسلام کے بارے میں معلومات حاصل کرتے تھے۔ پھر جب وہ اسلام قبول کرنے کا فیصلہ کر لیتے تو وہ اپنے علاقے کے کسی مسلمان بزرگ کے پاس آتے اور ان سے کہتے کہ ہم کو اسلام میں داخل کر لیجئے۔ اس طرح صوفیاء بالواسطہ طور پر اسلام کی اشاعت کا ذریعہ بنے۔ کتاب راہ عمل مولانا وحید الدین خان صفحہ نمبر 36۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.