Maulana Wahiduddin Khan
7 min left
0:00

← Raah-e-Amal Maazi,Haal aur Mustaqbil ka Jayeza
Raah-e-Amal Maazi,Haal aur Mustaqbil ka Jayeza

Ek aham sabaq

Urdu · 7 min

ایک اہم سبق: صوفیا کی مذکورہ تاریخ نے بالواسطہ انداز میں ایک عظیم الشان کام انجام دیا ہے۔ اس نے اسلام کی دعوتی طاقت کا عملی مظاہرہ کیا ہے۔ اس تاریخ سے یہ ثابت ہوا ہے کہ داعی اور مدعو کے درمیان اگر نفرت اور کشیدگی کی فضا کو ختم کر دیا جائے تو اسلام اپنے آپ پھیلنے لگتا ہے۔ تمام مذاہب میں اسلام کی یہ امتیازی خصوصیت ہے کہ وہ ایک مسلمہ مذہب ہے۔

وہ تاریخی طور پر ثابت شدہ دین بن چکا ہے۔ اور جب ایک مذہب اس طرح ایک مسلمہ حقیقت بن جائے تو اس کے اندر اپنے آپ پھیلنے کی طاقت پیدا ہو جاتی ہے۔ انسانی فطرت سے موافقت کا زور ہی اس بات کے لیے کافی ہو جاتا ہے کہ وہ لوگوں کے دلوں میں اپنے لیے جگہ بنانے لگے۔ اب اس کی راہ کی رکاوٹ صرف یہ ہوتی ہے کہ مدعو اقوام کے درمیان اسلام سے بیزاری اور نفرت کی فضا پیدا ہو گئی ہو۔

اگر ایسی فضا نہ ہو تو لوگ خود اپنی اندرونی آواز کے زیر اثر اس کی طرف مائل ہوں گے اور اپنے آپ اسے قبول کر لیں گے۔ اس کا کوئی ثبوت نہیں کہ صوفیا اس حقیقت کا شعوری ادراک رکھتے ہوں۔ تاہم ان کے عمل کا یہ فائدہ یقیناً اسلام کو حاصل ہوا۔ صوفیا کا خاص کارنامہ یہ ہے کہ وہ محبت اور امن کا پیغام لے کر اٹھے۔

چشتیہ سلسلے کی کتاب "نافع السالکین" میں بتایا گیا ہے کہ ہمارے طریقے میں یہ ہے کہ مسلمان اور ہندو دونوں سے صلح رکھنی چاہیے۔ «در تاریخ ما هست که با مسلمان و ہندو صلح باید داشت». اسی طرح شاہ کلیم اللہ جہاں آبادی اپنی مکتوب میں لکھتے ہیں کہ: "نواں یہ کہ ہندو اور مسلمان دونوں کے ساتھ صلح رکھی جائے"۔ «تاسعاً آں کہ صلح با ہندو و مسلماں سازن».

اپنے اسی مسلک کی بنا پر صوفی حضرات دوسروں پر تنقید نہیں کرتے تھے۔ وہ دوسرے راستوں کے خلاف تنقید کو سخت ناپسند کرتے تھے۔ صوفیا نے اسی انداز پر کام کیا۔ انہوں نے اپنے مسلسل عمل سے مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان کشیدگی کی فضا ختم کر دی۔

اس کا دعوتی فائدہ براہ راست اسلام کے حصے میں آیا۔ صوفیا کا طریقہ یہ تھا کہ وہ مذہب و ملت کی تمیز کیے بغیر ہر ایک کو امن اور محبت کا پیغام دیتے تھے۔ وہ اپنے تمام معاملات میں ہمیشہ رواداری کا طریقہ برتتے تھے۔ حتیٰ کہ ان کی درگاہ میں جو لنگر تیار کیا جاتا تھا وہ بھی ویجیٹیرین ہوتا تھا تاکہ ہندو اور مسلمان دونوں یکساں طور پر اس کے کھانے میں شریک ہو سکیں۔

ہندوستان کے اسلامی سیاستدانوں کے نظریے کو اگر مختصر طور پر بیان کرنا ہو تو اس کو علامہ اقبال کے اس شعر میں بیان کیا جا سکتا ہے: «مصلحت در دین عیسیٰ غار و کوه، مصلحت در دین ماں جنگ و شکوه». صوفیا حضرات کا نظریہ اس کے بالکل برعکس تھا۔ وہ جنگ کے بجائے صلح کا تھا۔ ایک فارسی شاعر نے صوفیا کے نظریہ حیات کو چند لفظوں میں اس طرح بیان کیا ہے: «ما قصہ سکندر و داران خاندایم از ما بجز حکایت مهر و وفا مپرس».

صوفیا کے نظریہ حیات کو تفصیل کے ساتھ سمجھنے کے لیے ان کے ملفوظات اور ان کے حالات کا مطالعہ کرنا چاہیے۔ یہاں ہم مختصر طور پر دو حصے نقل کریں گے جس سے صوفیا کے طریقہ کار کا اندازہ ہوتا ہے۔ خواجہ فرید الدین گنج شکر مشہور بزرگ ہیں۔ وہ بارہویں صدی عیسوی یعنی چھٹی صدی ہجری سے تعلق رکھتے ہیں۔

کہا جاتا ہے کہ ان کا ایک مرید ان کے پاس قینچی لے کر آیا۔ اس کے شہر میں قینچیاں بنتی تھیں اس لیے اس نے شیخ کے تحفے کے لیے قینچی کا انتخاب کیا۔ وہ سمجھتا تھا کہ جب میں شیخ کے سامنے اپنے شہر کا یہ خصوصی تحفہ پیش کروں گا تو وہ خوش ہوں گے اور مجھے دعائیں دیں گے۔ مگر جب اس نے شیخ کے سامنے قینچی پیش کی تو انہوں نے اس کو دیکھ کر کہا کہ یہ تو ہمارے کام کی چیز نہیں۔

ہمارا کام کاٹنا نہیں ہمارا کام تو جوڑنا ہے۔ اور یہ کام قینچی کے ذریعے نہیں ہوتا۔ تم کو اگر تحفہ لانا تھا تو ہمارے لیے سوئی لے کر آتے۔ سوئی لے آتے۔

کیونکہ سوئی سینے اور جوڑنے کی چیز ہے اور قینچی کاٹنے اور پھاڑنے کی چیز۔ خواجہ فرید الدین کے ہم عصر اور خلیفہ حضرت نظام الدین اولیاء تھے۔ انہوں نے اپنی مجلس میں فرمایا کہ عام لوگوں کا طریقہ یہ ہے کہ سیدھے کے ساتھ سیدھا اور ٹیڑھے کے ساتھ ٹیڑھا لیکن ہمارے بزرگ کا یہ کہنا ہے کہ سیدھوں کے ساتھ سیدھا اور ٹیڑھوں کے ساتھ بھی سیدھا۔ اگر کوئی شخص ہمارے سامنے کانٹا ڈالے اور ہم بھی کانٹا ڈالیں تو کانٹے ہی کانٹے ہو جائیں گے۔

اگر کسی نے کانٹا ڈالا ہے تو تم اس کے سامنے پھول ڈالو۔ پھر پھول ہی پھول ہو جائیں گے۔ کتاب "راہ عمل" مولانا وحید الدین خان صفحہ نمبر 39۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.