Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Raah-e-Amal Maazi,Haal aur Mustaqbil ka Jayeza
Raah-e-Amal Maazi,Haal aur Mustaqbil ka Jayeza

Tareekh-e-ummat

Urdu · 4 min

تاریخِ امت: اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کے ذریعے امت مسلمہ کو ایک طرف واضح طور پر یہ بتا دیا کہ پیغمبر کے بعد اسلامی دنیا میں سیاسی بگاڑ آئے گا، حکمران افراد ظلم کے راستے پر چلنے لگیں گے، مگر اس وقت کرنے کا کام یہ نہ ہوگا کہ امت کے علماء اور مصلحین حکمرانوں سے سیاسی ٹکراؤ شروع کر دیں۔ اس کے برعکس، انہیں یہ کرنا چاہیے کہ وہ براہِ راست سیاسی ٹکراؤ سے الگ رہ کر دوسرے دینی اور تعمیری میدانوں میں اپنی کوششوں کو لگا دیں۔ اس سلسلے میں حدیث کی کتابوں میں کثرت سے روایتیں موجود ہیں۔ اس ہدایت کا مطلب فرار نہیں، بلکہ حکمت ہے۔

اس سے مراد نتیجہ خیز، یعنی ریزلٹ اورینٹڈ عمل پر زور دینا ہے۔ یعنی ایسے میدان میں اپنی کوشش صرف کی جائے جہاں کوشش کا مثبت نتیجہ برآمد ہوتا ہو۔ ایسے میدان میں کوشش نہ کی جائے جہاں ساری کوشش صرف کرنے کے بعد بھی کوئی مثبت نتیجہ برآمد نہ ہو سکے۔ اسی کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے دوسرا انتظام یہ فرمایا کہ پیغمبر کے نواسوں، پیغمبر کے دو نواسوں کے ذریعے دونوں قسم کے عمل کی واضح مثالیں قائم کر دیں۔

نظری ہدایت کے ساتھ عملی طور پر بھی دکھا دیا کہ اگر تم سیاسی ٹکراؤ کرو گے تو اس کا نتیجہ کس شکل میں برآمد ہوگا۔ اوپر امام حسن اور امام حسین کی جو متقابل مثالیں نقل کی گئیں، ان سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے امت کے لیے دو تاریخی نمونے قائم کر دیے ہیں۔ امام حسن کا نمونہ یہ بتاتا ہے کہ حکمرانوں سے ٹکراؤ نہ کرنے کی صورت میں اسلام اور مسلمانوں کو عظیم الشان فائدے حاصل ہوتے ہیں۔ اس کے برعکس نمونہ امام حسین کا ہے، جو بتا رہا ہے کہ حکمرانوں سے ٹکراؤ کی سیاست سراسر ایک بے فائدہ عمل ہے۔

اس کا کوئی نتیجہ نہ اسلام کے حصے میں آنے والا ہے اور نہ مسلمانوں کے حصے میں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد جو امت، جو امت مسلمہ بنی، اس میں کچھ افراد وہ تھے جن کے اندر سیاسی حوصلہ تھا۔ وہ ملک گیری اور حکمرانوں سے ٹکراؤ کے راستے پر چل پڑے۔ مگر ایسے لوگوں سے ہمیں کوئی بحث نہیں، کیونکہ وہ امت محمدی کے نمائندہ افراد نہیں ہیں۔

اس وقت ہماری بحث کا تعلق امت کے صرف ان افراد سے ہے جن کو امت کے اندر نمائندہ حیثیت حاصل ہے، جو قیامت تک آنے والی نسلوں کے لیے نمونہ ہیں، جنہوں نے اسلام کی حقیقی تاریخ بنائی ہے۔ کتاب "راہِ عمل" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 35۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.