← Raah-e-Amal Maazi,Haal aur Mustaqbil ka JayezaRaah-e-Amal Maazi,Haal aur Mustaqbil ka Jayeza
Imaam Hasan ka namoona
Urdu · 7 min
امام حسن کا نمونہ: حضرت امام حسن، 350 ہجری، حضرت علی کی شہادت کے بعد خلیفہ بنائے گئے۔ اس وقت صورتحال یہ تھی کہ امیر معاویہ شام اور دوسرے ملحق علاقوں کے حاکم تھے۔ وہ امام حسن کی بیعت پر راضی نہیں ہوئے، جس طرح انہوں نے اس سے پہلے چوتھے خلیفہ حضرت علی کے ہاتھ پر بیعت نہیں کی تھی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ امام حسن اور امیر معاویہ میں سخت کشیدگی ہوئی، اور جنگ کے حالات پیدا ہو گئے۔
اس وقت امام حسن کے ساتھ 40,000 آدمیوں کا لشکر تھا، دوسری طرف امیر معاویہ کے ساتھ بھی 40,000 یا اس سے کچھ زیادہ آدمیوں کا لشکر موجود تھا۔ امام حسن 6 مہینے تک خلافت کے عہدے پر رہے، مگر ان کی کوششوں کے باوجود امیر معاویہ ان کے ہاتھ پر بیعت کے لیے راضی نہ ہو سکے۔ امام حسن نے محسوس کیا کہ اگر میں امیر معاویہ سے بیعت پر مزید اصرار کرتا ہوں تو اس کا لازمی نتیجہ جنگ ہوگا، جس میں دونوں طرف کے ہزاروں مسلمان مارے جائیں گے۔ انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ ایک طرفہ طور پر امیر معاویہ کے حق میں خلافت سے دستبردار ہو جائیں۔
امام حسن کے ساتھیوں نے سخت اختلاف کیا اور انہیں معاویہ کے خلاف لڑنے پر ابھارا، مگر وہ کسی قیمت پر لڑنے کے لیے تیار نہیں ہوئے اور 41 ہجری میں خلافت کو امیر معاویہ کے حوالے کر کے خانہ نشین ہو گئے۔ خلافت سے دستبرداری کے بعد امام حسن نے مسلمانوں کے سامنے ایک تقریر کی، جس میں انہوں نے کہا: "اے مسلمانو! میں فتنے کو بہت برا سمجھتا ہوں۔ میں نے مسلمانوں کی جان و مال کو بچانے کے لیے معاویہ ابن ابی سفیان سے صلح کر لی ہے اور ان کو امیر اور خلیفہ تسلیم کیا ہے۔
سنو، امارت اور خلافت اگر ان کا حق تھا تو وہ ان کو پہنچ گیا، اور اگر وہ میرا حق تھا تو میں نے اس کو انہیں بخش دیا۔ " دیکھیے: الاستیعاب لی ابن عبدالبر، جلد 1، صفحہ نمبر 389۔ یہ صلح حضرت علی کی شہادت کے 6 ماہ بعد، 41 ہجری میں کوفہ میں ہوئی۔ اسی لیے اسلام کی تاریخ میں 41 ہجری کو عام الجماعت کہا جاتا ہے، کیونکہ اس صلح نے مسلمانوں کے باہمی اختلاف کو باہمی اتحاد میں تبدیل کر دیا۔
اگرچہ اس وقت کے پرجوش لوگوں نے امام حسن کی سخت مخالفت کی، حتیٰ کہ ان پر قاتلانہ حملہ کرنے کی کوشش کی، اور ان کو "عار المسلمین" کا خطاب دیا، مگر حقیقت یہ ہے کہ امام حسن کا کارنامہ ایک عظیم الشان کارنامہ ہے۔ اس کے بارے میں بہترین تبصرہ وہ ہے جو امیر معاویہ سے منقول ہے: انہوں نے امام حسن کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ "ابو محمد! تم نے آج ایسی بہادری اور جواں مردی دکھائی ہے جیسی بہادری اور جواں مردی اب تک کوئی بھی نہ دکھا سکا تھا۔ " امام حسن کی خلافت صرف 6 مہینے تک رہی، نیز یہ کہ وہ ازخود خلافت سے دستبردار ہو گئے۔
اس بنا پر مؤرخین عام طور پر ان کو خلافت راشدہ کی فہرست میں شامل نہیں کرتے، مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ اسلامی خلافت کی ایک شاندار سنہری کڑی ہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ اسلامی خلافت کی ایک شاندار سنہری کڑی ہیں۔ امام حسن نے 10 سال کی بھیانک خانہ جنگی کو ایک لمحے میں ختم کر دیا۔ حضرت عثمان کے آخری دور اور ان کی شہادت، یعنی 35 ہجری سے لے کر حسن اور معاویہ کے درمیان صلح، یعنی 41 ہجری تک، مسلم دنیا میں جو انتشار رہا، اس نے اسلام دشمنوں کو ریشہ دوانی کا زبردست موقع دے دیا تھا۔
یہ تمام سازشیں صلح کے بعد اچانک درہم برہم ہو گئیں۔ حضرت عثمان کی خلافت کے نصف حصے کے بعد اسلامی فتوحات کا سلسلہ رک گیا تھا، اب وہ دوبارہ جاری ہو گیا۔ چنانچہ اس کے بعد مسلمانوں نے بحر روم کے جزیروں پر قبضہ کیا۔ ترابلس الغرب، مراکش، اسپین، سندھ، افغانستان، ترکستان وغیرہ فتح ہوئے۔
مسلمان پیش قدمی کر کے قسطنطنیہ کی دیواروں تک پہنچ گئے۔ امام حسن کی صلح کا یہ بے حد اہم فائدہ ہوا کہ مسلمانوں کی تلواریں، جو آپس میں ایک دوسرے کا خون بہا رہی تھیں، ان کا رخ باہر کی طرف ہو گیا۔ پوری مسلم دنیا اچانک ایک ناقابلِ تسخیر متحدہ طاقت بن گئی۔ اسلام کا سیلاب، جس کو آپس کی لڑائیوں نے روک دیا تھا، وہ دوبارہ پوری طاقت کے ساتھ عالمی سطح پر روانہ ہو گیا۔
وہ دوبارہ پوری طاقت کے ساتھ عالمی سطح پر رواں ہو گیا۔ کتاب "راہ عمل"، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 29۔