Maulana Wahiduddin Khan
10 min left
0:00

← Raah-e-Amal Maazi,Haal aur Mustaqbil ka Jayeza
Raah-e-Amal Maazi,Haal aur Mustaqbil ka Jayeza

Siyaasi bigaad

Urdu · 10 min

سیاسی بگاڑ۔ صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں حضرت حذیفہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان کھڑے ہوئے، آپ نے ان تمام باتوں کو بیان کیا جو آپ کے زمانے سے لے کر قیامت برپا ہونے تک پیش آئیں گے۔ آپ نے ان تمام باتوں کو بیان کیا جو آپ کے زمانے سے لے کر قیامت برپا ہونے تک پیش آئیں گی۔ آپ نے ان میں سے کسی بات کو بھی بیان کیے بغیر نہیں چھوڑا۔

قام فينا رسول الله صلى الله عليه وسلم مقامًا ما ترك شيئًا يكون في مقامه ذلك إلى قيام الساعة إلا حدث به. صحیح مسلم، حدیث نمبر 2891۔ حضرت حذیفہ ایک اور روایت میں کہتے ہیں کہ دوسرے لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خیر کے بارے میں پوچھتے تھے، مگر میں آپ سے شر کے بارے میں پوچھتا تھا، اس ڈر سے کہ کہیں وہ مجھ کو پکڑ نہ لے۔ وہ بتاتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ ہم جاہلیت اور شر میں تھے، یہاں تک کہ اللہ اس خیر کو ہمارے درمیان لے آیا۔

پھر کیا اس خیر کے بعد دوبارہ شر ہوگا؟ آپ نے فرمایا کہ ہاں، دوبارہ شر ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اے خدا کے رسول، اس وقت کے لیے آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ حاکم کی بات سنو اور اس کی اطاعت کرو، خواہ تمہاری پیٹھ پر کوڑے مارے جائیں اور تمہارا مال چھینا جائے، تب بھی سنو اور اطاعت کرو۔

تَسْمَعُوا وَتُطِيعُوا الْأَمِيرَ وَإِنْ ضَرَبَ ظَهْرَكَ وَأَخَذَ مَالَكَ فَاسْمَعْ وَأَطِعْ. صحیح مسلم، حدیث نمبر 1847۔ دوسری روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف تین زمانوں کی بابت فرمایا ہے کہ وہ خیر کا زمانہ ہوگا: دورِ رسالت، دورِ صحابہ، دورِ تابعین۔ صحیح مسلم کی ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ ایک شخص نے آپ سے پوچھا کہ لوگوں میں بہتر کون ہے؟

آپ نے فرمایا کہ میرے زمانے کے لوگ، اس کے بعد دوسرا، اور اس کے بعد تیسرا۔ سأل رجلٌ رسولَ الله صلى الله عليه وسلم: أيُّ الناسِ خيرٌ؟ قال: القرنُ الذي أنا فيه، ثم الثاني، ثم الثالث. مسند احمد، حدیث نمبر 25233۔

احادیث سے مزید معلوم ہوتا ہے کہ جب برا زمانہ شروع ہوگا تو وہ برابر جاری رہے گا، یہاں تک کہ قیامت آ جائے۔ صحیح بخاری میں زبیر ابن عدی سے روایت ہے کہ ہم حضرت انس بن مالک کے پاس آئے اور ان سے حجاج ابن یوسف کے ظلم کی شکایت کی۔ انہوں نے کہا کہ صبر کرو، کیونکہ اب تمہارے اوپر جو زمانہ بھی آئے گا وہ اور بھی زیادہ برا ہوگا۔ یہ حالت جاری رہے گی یہاں تک کہ تم اپنے رب سے جا ملو۔

ایسا ہی میں نے تمہارے نبی سے سنا ہے۔ اصبروا فإنه لا يأتي عليكم زمانٌ إلا الذي بعده شرٌ منه حتى تلقوا ربكم سمعته من نبيكم صلى الله عليه وسلم. صحیح البخاری، حدیث نمبر 6657۔ صحیح مسلم میں حضرت ابوبکرہ کی روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بے شک آئندہ فتنے ہوں گے۔

سن لو کہ پھر فتنے ہوں گے۔ سن لو کہ پھر فتنے ہوں گے۔ بیٹھنے والا اس میں چلنے والے سے بہتر ہوگا، اور چلنے والا اس میں دوڑنے والے سے بہتر ہوگا۔ سن لو کہ جب ایسا ہو تو جس کے پاس اونٹ ہو تو وہ اپنے اونٹ سے مل جائے، جس کے پاس بکری ہو وہ اپنی بکری سے مل جائے، جس کے پاس زمین ہو وہ اپنی زمین سے مل جائے۔

ایک شخص نے سوال کیا کہ اے خدا کے رسول، جس آدمی کے پاس نہ اونٹ ہو اور نہ بکری اور نہ زمین، وہ کیا کرے؟ آپ نے فرمایا کہ وہ اپنی تلوار کو لے کر اور اس کی دھار کو پتھر پر مار کر اسے توڑ ڈالے، پھر وہ اپنے آپ کو بچا لے، اگر وہ بچنا چاہے۔ اے اللہ، کیا میں نے پہنچا دیا؟ یہ فقرہ آپ نے تین بار فرمایا۔

سَمِعْتُ أَبَا بَكْرَةَ يُحَدِّثُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم: إِنَّهَا سَتَكُونُ فِتْنًا أَلَا ثُمَّ تَكُونُ فِتْنَةٌ الْقَاعِدَةُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الْمَاشِيِّ فِيهَا وَالْمَاشِيِّ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ السَّاعِيِّ إِلَيْهَا أَلَا فَإِذَا نَزَلَتْ أَوْ وَقَعَتْ فَمَن كَانَ لَهُ إِبِلٌ فَلْيَلْحَقْ بِإِبْلِهِ وَمَن كَانَتْ لَهُ غَنَمٌ فَلْيَلْحَقْ بِغَنَمِهِ وَمَن كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَلْحَقْ بِأَرْضِهِ. قَالَ فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَرَأَيْتَ مَن لَمْ يَكُنْ لَهُ إِبِلٌ وَلَا غَنَمٌ وَلَا أَرْضٌ؟ قَالَ يَعْمِدُ إِلَى سَيْفِهِ فَيَدُقُّ عَلَى حَدِّهِ بِحَجَرٍ ثُمَّ لِيَنْجُوا إِنِ اسْتَطَاعَ النَّجَاءَ. اللہمہ البلّغت، اللہمہ البلّغت، اللہمہ البلّغت۔

صحیح مسلم، حدیث نمبر 2887۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس طرح کی روایتیں کثرت سے منقول ہیں، ان کو حدیث کی کتابوں میں کتاب الفتن اور دوسرے ابواب کے تحت دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ احادیث بتاتی ہیں کہ سیاسی بگاڑ کے زمانے میں عام مسلمانوں کا رویہ کیا ہونا چاہیے۔ اس سے واضح طور پر یہ معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں کو سیاسی ٹکراؤ سے مکمل پرہیز کرنا چاہیے۔

حکمران افراد کے بگاڑ کے باوجود انہیں ایسا نہیں کرنا چاہیے کہ وہ سیاسی اصلاح کے نام پر حکمرانوں سے لڑنا شروع کر دیں۔ حدیث کے مطابق ایسے زمانے میں اہل ایمان کو یہ کرنا چاہیے کہ وہ اپنی بکری، اپنے اونٹ اور اپنی زمین کے ساتھ لگ جائیں اور اس کے اندر اپنا عمل جاری کر دیں۔ یہ دراصل تمثیل کی زبان میں مسلمانوں کو ان کے عمل کا رخ بتایا گیا ہے، یعنی سیاسی ٹکراؤ کے دائرے کو چھوڑ کر اس غیر سیاسی دائرے میں، اس غیر سیاسی دائرے میں اپنی کوششوں کو لگا دینا، جہاں حکمرانوں سے ٹکراؤ کے بغیر اپنا عمل جاری رکھنا ممکن ہوتا ہے۔ تاہم ان ہدایات کا تعلق آغاز سفر سے ہے، منزل سے نہیں ہے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ جب تم حکومت میں بگاڑ دیکھو تو حکومت کے خلاف تحریک چلانے سے اپنے عمل کا آغاز نہ کرو، بلکہ غیر سیاسی میدانوں میں تعمیری جدوجہد سے اپنا عمل شروع کرو، اور پھر حسبِ حالات آگے کی طرف قدم اٹھاؤ۔ اللہ تعالی نے اپنے رسول کے ذریعے ایک طرف بعد کے مسلمانوں کو وہ ہدایات دیں جن کی طرف اوپر اشارہ کیا گیا ہے، اسی کے ساتھ اس کا عملی نمونہ بھی قائم کر دیا گیا۔ یہ نمونہ پیغمبر اسلام کے دونوں، یہ نمونہ پیغمبر اسلام کے دو نواسوں کے ذریعے قائم کیا گیا، ایک حسن ابن علی اور دوسرا حسین ابن علی۔ پہلا نمونہ اس بات کا کہ سیاسی ٹکراؤ کو چھوڑ کر اگر کام کیا جائے تو اس سے اسلام کو کس قسم کے فائدے حاصل ہوتے ہیں، اور دوسرا نمونہ اس بات کا کہ اگر اصلاح سیاست کے نام پر حکمرانوں سے ٹکراؤ کیا جائے تو اس سے کس قسم کے نقصانات امت کے حصے میں آئیں گے۔

کتاب راہ عمل مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 25۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.