Maulana Wahiduddin Khan
9 min left
0:00

← Raah-e-Amal Maazi,Haal aur Mustaqbil ka Jayeza
Raah-e-Amal Maazi,Haal aur Mustaqbil ka Jayeza

Paighambar-e-Islam ki hidaayat

Urdu · 9 min

پیغمبرِ اسلام کی ہدایت حدیث کی کتابوں میں کثرت سے ایسی روایتیں آئی ہیں جن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اصحابِ حکومت سے نزاع کرنے کو منع فرمایا۔ حضرت عبادہ بن السامت انصاری کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے بیعت لی تو اس میں ہم سے جن چیزوں کا عہد لیا، اس میں ایک یہ بھی تھا کہ ہم اصحابِ امر سے جھگڑا نہیں کریں گے۔ وَعَلَىٰ أَنْ لَا نُنَازِعَ الْأَمْرَ أَهْلَهُ صحیح البخاری، حدیث نمبر 7055۔ سَمِعْتُ عَوْفَ بْنَ مَالِكٍ أَلَشْجَعِيِّ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ: "شِرَارُ أَئِمَّتِكُمُ الَّذِينَ تُبْغِزُونَهُمْ وَيُبْغِزُونَكُمْ وَتَلْعَنُونَهُمْ وَتَلْعَنُونَهُمْ وَيَلْعَنُونَكُمْ"۔

قَالُوا: قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفَلَا نُنَابِذُهُمْ عِنْدَ ذَلِكَ؟ قَالَ: لَا، مَا أَقَامُوا فِيكُمُ الصَّلَاةَ، لَا، مَا أَقَامُوا فِيكُمُ الصَّلَاةَ۔ صحیح مسلم، حدیث نمبر 1855۔ یعنی عوف بن مالک الاشجعی کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ لوگ بہت برے امیر ہیں جو تم سے نفرت کریں اور تم ان سے نفرت کرو۔

صحابہ نے کہا کہ اے خدا کے رسول، جب ایسا ہو تو کیا ہم ان سے جنگ نہ کریں؟ آپ نے فرمایا کہ نہیں، جب تک وہ تمہارے درمیان نماز کو قائم رکھیں۔ نہیں، جب تک وہ تمہارے درمیان نماز کو قائم رکھیں۔ عبداللہ ابن مسعود کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے بعد تم بہت سی برائیاں اور حکومت میں بگاڑ دیکھو گے۔

صحابہ نے کہا کہ اے خدا کے رسول، آپ اس وقت کے لیے ہم کو کیا حکم دیتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: ان کا حق انہیں ادا کرو اور اپنا حق اللہ سے مانگو۔ أَدُّوا إِلَيْهِمْ حَقَّهُمْ وَسَلُوا اللَّهَ حَقَّكُمْ صحیح البخاری، حدیث نمبر 7052۔ وائل ابن حجر کہتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ اگر ہمارے اوپر ایسے حکمران قائم ہو جائیں جو اپنا حق ہم سے مانگیں اور ہمارا حق ہم کو نہ دیں، تو ایسے وقت میں آپ ہمیں کیا کرنے کا حکم دیتے ہیں؟

آپ نے فرمایا کہ سنو اور اطاعت کرو، کیونکہ ان کے اوپر ان کی ذمہ داری ہے اور تمہارے اوپر تمہاری ذمہ داری۔ إِسْمَعُوا وَأَطِعُوا فَإِنَّمَا عَلَيْهِمْ مَا حُمِّلُوا وَعَلَيْكُمْ مَا حُمِّلْتُمْ سنن الترمذی، حدیث نمبر 2199۔ عبداللہ ابن عباس کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے جو شخص اپنے امیر کی طرف سے ایسی بات دیکھے جو اس کو ناپسند ہو، تو اس کو چاہیے کہ وہ اس پر صبر کرے۔ مَنْ رَأَىٰ مِنْ أَمِيرِهِ شَيْئًا يَكْرَهُهُ فَلْيَصْبِرْ عَلَيْهِ صحیح البخاری، حدیث نمبر 6646۔

إِذَا عَدَلَ السُّلْطَانُ فَعَلَى الرَّعِيَّةِ الشُّكْرُ وَلِلسُّلْطَانِ الأَجْرُ وَإِذَا جَارَ فَعَلَى الرَّعِيَّةِ الصَّبْرُ وَعَلَى السُّلْطَانِ الْوِزْرُ شرح السیر الکبیر، للسرخسی، صفحہ 158۔ یعنی عبداللہ ابن عمر سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سلطان اگر عدل کرے تو اس کی رعایہ کو چاہیے کہ وہ شکر کرے، اور اگر وہ ظلم کرے تو رعایہ کو چاہیے کہ وہ صبر کرے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس ہدایت کا مطلب بے عملی نہیں، وہ عین عمل ہے۔ وہ انفعالیت نہیں بلکہ فعالیت کا سبق دیتی ہے۔

وہ حکمتِ عمل ہے، نہ کہ ترکِ عمل۔ وہ پسپائی نہیں بلکہ اقدام کی اعلیٰ ترین قسم ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ حکومت سماج کے تابع ہوتی ہے، نہ کہ سماج حکومت کے تابع۔ اس لیے اگر کوئی شخص حکومت میں خرابی دیکھے تو اس کو سماج کی سطح پر اپنا اصلاحی عمل جاری کر دینا چاہیے۔

یہی اصلاح کا صحیح اور اسلامی طریقہ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سیاسی نزاع سے روکنے کا مطلب دراصل کوششوں کا رخ پھیرنا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ سیاست کے میدان میں سر نہ ٹکراؤ، بلکہ تعمیر کے میدان میں اپنا کام شروع کر دو۔ اس طرح تم زیادہ بہتر طور پر اپنی منزل تک پہنچ سکتے ہو۔

درخت کی پتیاں مرجھائیں تو کوئی بھی شخص ایسا نہیں کرتا کہ وہ پتیوں پر پانی بہائے۔ اس کے برعکس وہ درخت کی جڑوں میں پانی ڈالتا ہے۔ کسی کے بلب میں کرنٹ نہ آ رہا ہو تو وہ بلب پر محنت نہیں کرتا، بلکہ پاور ہاؤس سے ربط قائم کرتا ہے۔ کیونکہ جڑ میں پانی ہونے سے درخت کی پتیاں سرسبز ہوتی ہیں۔

اسی طرح بلب اس وقت روشن ہوتا ہے جبکہ پاور ہاؤس سے اس کو کرنٹ بھیجا جا رہا ہو۔ یہی معاملہ انسانی سماج کا بھی ہے۔ انسانی سماج کے دو حصے ہوتے ہیں: ایک حکمران افراد اور دوسرے عوام۔ عوام کی حیثیت جڑ کی ہے اور حکمران افراد کی حیثیت پتیوں کی۔

یا عوام بمنزلہ پاور ہاؤس ہیں اور حکمران افراد بمنزلہ بلب۔ ایسی حالت میں یہاں بھی بگاڑ کی اصلاح کا صحیح طریقہ وہی ہے جو درخت اور پاور ہاؤس کی مثال میں پایا جاتا ہے۔ اگر حکمران افراد کے اندر بگاڑ نظر آئے تو حکمران افراد سے نہ لڑیے، بلکہ عوام کی اصلاح شروع کر دیجئے۔ پتیوں کے مسئلے کو جڑ کی سطح پر حل کیجئے۔

حکمران افراد کے اندر بگاڑ دیکھ کر حکمران افراد سے لڑنا صرف سماجی تخریب میں اضافہ کرتا ہے۔ اس کے برعکس اگر ایسا کیا جائے کہ حکمران افراد میں بگاڑ ظاہر ہونے کے مواقع پر عوامی اصلاح کے محاذ پر جدوجہد کی جائے، تو اس سے سماج کی تعمیر ہوتی ہے، اور اس کے بعد نتیجتاً حکمران طبقے کی اصلاح۔ یہی وہ اہم سماجی مصلحت ہے جس کو حدیث میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے کہ تم جیسے ہو گے اسی طرح کے حکمران تمہارے اوپر مقرر کیے جائیں گے۔ كَمَا تَكُونُونَ كَذَٰلِكَ يُؤَمَّرُ عَلَيْكُمْ مسند الشہاب القضائی، حدیث نمبر 577۔

مٹی سے برتن بنتا ہے، برتن سے مٹی نہیں بنتی۔ اسی طرح عوام سے حکومت بنتی ہے، حکومت سے عوام کی تشکیل نہیں ہوتی۔ اس لیے جو شخص حقیقی معنوں میں نتیجہ دیکھنا چاہتا ہو، اس کو چاہیے کہ وہ سماج کو اپنی اصلاحی جدوجہد کا نشانہ بنائے۔ افرادِ حکومت سے ٹکراؤ کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔

کتاب "راہِ عمل" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 22۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.