← Raah-e-Amal Maazi,Haal aur Mustaqbil ka JayezaRaah-e-Amal Maazi,Haal aur Mustaqbil ka Jayeza
Raah-e-Amal
Urdu · 5 min
راہِ عمل: اسلام میں زندگی کا جو تصور دیا گیا ہے، وہ یہ ہے کہ اس دنیا کے بنانے والے نے اس کو اس طرح بنایا ہے کہ یہاں ہمیشہ عسر کے ساتھ یُسر موجود رہتا ہے۔ ایک اعتبار سے اگر مشکل ہو تو دوسرے اعتبار سے آسانی بھی ضرور یہاں پائی جائے گی۔ یہاں وہ حقیقت ہے جو خران میں ان لفظوں میں بیان کی گئی ہے: فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا، إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا. سورہ نمبر 94، آیت 5 تا 6: پس مشکل کے ساتھ آسانی ہے، بے شک مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔
اس بات کو دوسرے لفظوں میں اس طرح کہا جا سکتا ہے کہ اس دنیا میں اگر مسائل پائے جاتے ہیں تو عین اسی کے ساتھ یہاں ہمیشہ مواقع بھی موجود رہتے ہیں۔ بصیرت سے خالی آدمی ہمیشہ مسائل میں الجھا رہتا ہے، مگر جس آدمی کو خدا نے بصیرت کی روشنی دی ہو، وہ مسائل سے گزر کر مواقع کو دیکھ لیتا ہے۔ وہ مسائل کو نظر انداز کر کے اپنی ساری توجہ مواقع کو استعمال کرنے پر لگا دیتا ہے۔ اسی کا نام اسلامی حکمت ہے۔
اسلامی حکمت عسر میں یُسر کو دیکھتی ہے۔ اسلامی طریقہ کار کے اصول کو ایک لفظ میں اس طرح بیان کیا جا سکتا ہے کہ مسائل کو بھوکا رکھو اور مواقع کو کھلاؤ۔ Starve the problems, feed the opportunities. یہی وہ خاص تدبیرِ کار ہے جس کو خران میں اعراس کہا گیا ہے۔
اعراس کے معنی اجتناب کے ہیں، یعنی avoid کرنا۔ براہِ راست ٹکراؤ کے مقام سے ہٹ کر اپنے لیے کوششوں کا میدان پا لینا۔ اس اعراس کا تعلق ایک شخص کی ذاتی زندگی سے بھی ہے اور پوری ملت کی اجتماعی زندگی سے بھی۔ آپ اپنے راستے پر چلے جا رہے ہیں، درمیان میں ایک شخص آپ کو مشتعل کرنے والی حرکت کرتا ہے، آپ اس سے مشتعل نہیں ہوتے اور اس کو نظر انداز کر کے آگے بڑھ جاتے ہیں۔
یہ ذاتی زندگی کا اعراس ہے۔ اعراس کے اس اصول پر جو شخص عمل نہ کرے، وہ ہمیشہ نادانوں کی نادانی کا شکار ہوتا رہے گا، وہ کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا۔ اسی طرح ملت کی زندگی میں ایسے مواقع آتے ہیں جبکہ کوئی خارجی مسئلہ ایک اشتعال بن کر اس کے سامنے آتا ہے۔ مثال کے طور پر حکمرانوں کا سیاسی بگاڑ۔
ایسے مواقع پر تمام رہنما یہ کرتے ہیں کہ وہ اصلاحِ سیاست کے نام پر حکمرانوں سے لڑ جاتے ہیں، مگر یہ اسلام کا طریقہ نہیں۔ یہاں بھی اسلامی طریقہ یہی ہے کہ اعراس سے کام لیا جائے اور سیاسی ٹکراؤ سے اجتناب کرتے ہوئے دوسرے میدانوں میں اپنی کوششوں کو وقف کر دیا جائے۔ سیاسی ٹکراؤ سے سماج میں تخریبی سرگرمیاں جنم لیتی ہیں۔ اس کے برعکس اگر اعراس کا طریقہ اختیار کیا جائے تو سماج کے اندر تعمیری سرگرمیاں فروغ پاتی ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ اسلام نے سیاسی ٹکراؤ کو چھوڑ کر تعمیری میدان میں سرگرم ہونے کا حکم دیا ہے۔ کتاب راہِ عمل مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 21۔