← Raah-e-Amal Maazi,Haal aur Mustaqbil ka JayezaRaah-e-Amal Maazi,Haal aur Mustaqbil ka Jayeza
Sabab ke bajaye marz
Urdu · 9 min
سبب کے بجائے مرض۔ 1985-86 میں ہندوستان کے مسلمانوں نے اپنی حالیہ تاریخ کی غالباً سب سے بڑی تحریک چلائی۔ یہ تحریک آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے تحت چلائی گئی، جس میں مسلمانوں کے تمام اکابر اور ان کی تمام تنظیمیں شریک تھیں۔ اس میں غالباً صرف ایک ہی قابلِ ذکر استثنا تھا، اور وہ تبلیغی جماعت کا تھا۔
تبلیغی جماعت بحیثیت جماعت اس مہم سے الگ رہی۔ یہ مہم محمد احمد شاہ بانو بیگم کے کیس پر سپریم کورٹ آف انڈیا کے فیصلے کے بعد چلائی گئی۔ سپریم کورٹ نے شاہ بانو بیگم کی درخواست پر اس کے سابقہ شوہر کو یہ حکم دیا کہ وہ اپنی متعلقہ بیوی، یعنی شاہ بانو کو 180 روپے ماہوار بطور گزارا ادا کرے۔ اسلامی شریعت میں چونکہ متعلقہ کے لیے صرف وقتی متاع ہے، نہ کہ مستقل گزارا، اس لیے مسلم رہنماؤں کو سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ شریعت میں مداخلت نظر آیا۔
اور انہوں نے اس فیصلے کو کالعدم کرنے کے لیے اس کے خلاف طوفانی مہم شروع کر دی۔ لیکن گہرائی کے ساتھ غور کیجیے تو شاہ بانو بیگم کا واقعہ محض ایک علامت ہے، نہ کہ اصل سبب۔ اس قسم کے واقعات کا اصل سبب یہ ہے کہ موجودہ مسلم معاشرے میں اسلامی قانون کا احترام ختم ہو گیا ہے۔ اس کے نتیجے میں مختلف علامتیں ظاہر ہو رہی ہیں، جن میں سے ایک وہ واقعہ تھا جس کا مظاہرہ شاہ بانو بیگم کے واقعے کی صورت میں ہوا۔
اصل یہ ہے کہ طلاق کے دو طریقے ہیں: ایک طلاقِ سنت اور دوسرا طلاقِ بدعت۔ طلاقِ سنت یہ ہے کہ تین طہر میں الگ الگ طلاق دی جائے، بالفاظِ دیگر طلاق کے عمل کی تکمیل 3 مہینے میں ہو۔ اس کے مقابلے میں طلاقِ بدعت یہ ہے کہ آدمی بیک وقت طلاق، طلاق، طلاق کہہ کر اپنی بیوی کو علیحدہ کر دے۔ تمام فقہاء اس پر متفق ہیں کہ طلاقِ سنت ہی طلاق کا صحیح شرعی طریقہ ہے۔
طلاقِ بدعت طلاق کا غلط طریقہ ہے۔ اس معاملے میں فقہاء کے درمیان کوئی اختلاف نہیں۔ اختلاف اگر ہے تو اس معاملے میں ہے کہ کوئی شخص اگر ایک ہی مجلس میں تین طلاق دے بیٹھے تو یہ طلاق عملاً واقع ہوگی یا نہیں۔ اب موجودہ مسلم معاشرے کو دیکھیے تو معلوم ہوگا کہ موجودہ مسلمانوں میں تقریباً 7% طلاق موجودہ مسلمانوں میں تقریباً 7% طلاقِ بدعت کا طریقہ رائج ہو گیا ہے، اور یہی فساد کی اصل جڑ ہے۔
اگر لوگ طلاق کے مقررہ طریقے، یعنی طلاقِ سنت پر عمل کریں تو یقینی طور پر طلاقوں کی تعداد میں 99% تک کمی ہو جائے گی، کیونکہ بیشتر طلاق وقتی غصے کے تحت دیے جاتے ہیں۔ غصہ اترتے ہی آدمی کو احساس ہونے لگتا ہے کہ اس نے غلط کیا۔ ایسی حالت میں اگر تین طہر میں طلاق دینے کا رواج پڑ جائے تو دوسرے اور تیسرے طہر کی نوبت ہی نہیں آئے گی، اور آدمی طلاق سے رجوع کر کے اپنی بیوی کے ساتھ معمول کی زندگی گزارنے لگے گا۔ اس اعتبار سے دیکھیے تو مسلم رہنماؤں کے لیے کرنے کا اصل کام یہ تھا کہ وہ جڑ کی اصلاح کریں، مگر وہ شاخوں کے مسئلے پر دھوم مچا رہے ہیں۔
اگر وہ واقعتاً اس اعتبار سے مسلم معاشرے کی اصلاح کرنا چاہتے تو ان کو چاہیے کہ وہ مسلم معاشرے کے خلاف مہم چلائیں، نہ کہ سپریم کورٹ کے خلاف۔ انہیں مسلمانوں کی ہر بستی اور ہر محلے میں پہنچ کر مسلمانوں سے کہنا چاہیے کہ تم لوگ اسلامی شریعت کے مطابق ازدواجی زندگی گزارو۔ اور اگر تم میں سے کوئی شخص اپنی بیوی کو طلاق دینے کا ارادہ کرے تو اس کو طلاق کا عمل طلاقِ سنت کے مطابق انجام دینا چاہیے، نہ کہ طلاقِ بدعت کے مطابق، جو اسلام میں واضح طور پر منع ہے۔ ہمارے رہنماؤں نے پچھلے چند سالوں میں سپریم کورٹ اور حکومتِ ہند کے خلاف جتنی دھوم مچائی ہے، اتنی ہی دھوم اگر انہوں نے موجودہ مسلم معاشرے کے خلاف مچائی ہوتی تو یقیناً یہ مسئلہ بڑی حد تک حل ہو چکا ہوتا۔
کیونکہ یہ مرض کے اصل سبب پر عمل کرنا ہوتا۔ مگر جب انہوں نے اس سبب پر عمل نہیں کیا اور علامت کے خلاف ہنگامہ آرائی کرتے رہے، تو ان کی ساری جدوجہد ہبطِ اعمال کا شکار ہو کر رہ گئی۔ وہ 1% بھی مسلم معاشرے کی اصلاح نہ کر سکے۔ اس سلسلے کی ایک عبرت ناک خبر وہ ہے جو دہلی کے ایک مسلم اخبار میں شائع ہوئی ہے۔
اس خبر کے الفاظ یہ ہیں: "ودھائی پور، راجستھان کی ایک خاتون نے ہندوستانی پارلیمنٹ کے ایک مسلم ممبر کو ایک خط لکھا ہے، جس میں یہ کہا گیا ہے کہ چونکہ مسلم پرسنل لا بورڈ کے مطابق طلاق کے بعد شوہر پر نفقہ دینا تاحیات لازم نہیں، اس لیے سینکڑوں عورتیں اس طرف ہندو مذہب اختیار کر رہی ہیں، آپ کوشش کر کے ایسا قانون بنوائیے جس کے ذریعے ہندو عورتوں کی طرح مسلمان عورتوں کو بھی طلاق کے بعد شوہر سے تا زندگی نفقہ مل سکے، تاکہ مسلمان عورتیں بھی معاشرے میں اچھی زندگی گزار سکیں۔ " سحر روزہ دعوت، 13 جولائی 1987۔ مسلم متعلقہ کے حقوق کے تحفظ کا بل، جو ہنگامہ خیز تحریک کے بعد 6 مئی 1986 کو ہندوستانی پارلیمنٹ سے پاس کرایا گیا تھا، عملاً وہ بالکل بے معنی ثابت ہوا۔ اس واقعے کا اعتراف خود آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے نویں اجلاس میں کیا گیا ہے، جو کانپور میں 4 تا 5 مارچ 1989 کو منعقد ہوا تھا۔
مولانا ابوالحسن علی ندوی نے اپنے خطبۂ صدارت میں اعتراف کیا کہ اس بل کے سلسلے میں مسلمانوں کی تاریخی، بلکہ تاریخ ساز جدوجہد لاحاصل اور کوہِ کندن و کاہ براوردن کا مصداق ہوتی ہوئی نظر آتی ہے، اور اندیشہ ہے کہ یہ پاس شدہ بل اوراق کی زینت بن کر رہ جائے گا۔ اس بنا پر مولانا موصوف نے اس ضرورت کا اظہار کیا کہ دوبارہ نیا بل ترمیم شدہ شکل میں پاس کرایا جائے۔ تعمیر حیات، 25 مئی 1989۔ کتاب "راہِ عمل"، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 17۔