Maulana Wahiduddin Khan
8 min left
0:00

← Raah-e-Amal Maazi,Haal aur Mustaqbil ka Jayeza
Raah-e-Amal Maazi,Haal aur Mustaqbil ka Jayeza

Imaam Husain ka namoona

Urdu · 8 min

امام حسین کا نمونہ: امیر معاویہ نے اپنے لڑکے یزید ابن معاویہ کو 6465 ہجری کو اپنی زندگی ہی میں اپنا جان نشی بنا دیا تھا۔ تاہم امام حسین نے یزید کے ہاتھ پر بیعت نہیں کی۔ امام حسین مدینے سے مکہ چلے گئے۔ وہاں ان کے پاس کوفہ والوں کے خط آنے لگے، جن میں درج ہوتا تھا کہ "آپ کوفہ آ جائیں، ہم سب آپ کے ہاتھ پر بیعت کر لیں گے"۔

ہم آپ ہی کو خلافت کا حقدار سمجھتے۔ امام حسن کو کوفہ والوں کے مزاج کا اندازہ تھا۔ انہوں نے اپنے چھوٹے بھائی امام حسین کو پیشگی یہ وصیت کر دی تھی کہ "کوفہ والے تم کو خروج پر ابھاریں گے، مگر تم کوفہ والوں کے فریب میں نہ آنا"۔ مگر امام حسین کوفہ والوں کی باتوں سے متاثر ہو گئے۔

انہوں نے اپنے چچا زاد بھائی مسلم بن عقیل کو اپنا سیاسی نمائندہ بنا کر کوفہ بھیجا اور کہا کہ وہاں جا کر لوگوں سے ملو اور پوشیدہ طور پر میری طرف سے بیعت لو۔ کوفہ میں تقریباً 18,000 آدمیوں نے مسلم بن عقیل کے ہاتھ پر بیعت کر لی۔ یزید کو پتہ چلا تو اس نے عبیداللہ بن زیاد کو ایک بڑی فوج کے ساتھ کوفہ روانہ کیا۔ اس نے کوفہ پہنچ کر مسلم بن عقیل کو بے دردی کے ساتھ قتل کر دیا۔

بیعت کرنے والے دہشت زدہ ہو کر اپنی بیعت سے پھر گئے۔ 3 ذی الحجہ 60 ہجری کو مسلم بن عقیل اور ان کے ساتھی کوفہ میں قتل کیے جا رہے تھے۔ عین اسی دن، 3 ذی الحجہ کو، امام حسین اس احساس کے ساتھ کوفہ کے لیے روانہ ہو رہے تھے کہ وہاں کے تمام مسلمان نیابتاً میرے لیے بیعت کر چکے ہیں۔ تمام صحابہ نے امام حسین کو کوفہ کے سفر سے روکا۔

اس وقت ہزاروں کی تعداد میں صحابہ موجود تھے، مگر کوئی صحابی ان کے قافلے میں شریک نہ ہوا۔ اس کے باوجود وہ اپنی رائے پر مصر رہے اور اپنے اہل خانہ کو لے کر مکے سے کوفہ کی طرف روانہ ہو گئے۔ امام حسین کو مسلم بن عقیل کے قتل کی خبر صرف اس وقت ملی جب وہ کوفہ کے قریب مقام سالبیہ پہنچ گئے۔ امام حسین کا قافلہ، جو تقریباً 70 آدمیوں پر مشتمل تھا، اس میں سخت مایوسی پھیل گئی۔

لوگ کہنے لگے کہ واپس چلو، مگر معلوم ہوا کہ یزید کے آدمیوں نے کوفہ کے چاروں طرف دور دور تک فوجیں مقرر کر دی ہیں کہ امام حسین اگر واپس جانا چاہیں تو واپس نہ جا سکیں۔ چنانچہ امام حسین واپسی کے لیے جس طرف بھی رخ کرتے، انہیں معلوم ہوتا کہ ایک فوج ان کو روکنے کے لیے وہاں موجود ہے۔ اس واقعے کی تفصیل تاریخ کی کتابوں میں دیکھی جا سکتی ہے۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ یزید کی فوجوں نے امام حسین کے لیے لڑنے کے سوا کوئی اور راستہ باقی نہ رہا۔

اس کا خلاصہ یہ ہے کہ یزید کی فوجوں نے امام حسین کے لیے لڑنے کے سوا کوئی اور راستہ باقی نہ رکھا۔ صحیح روایات کے مطابق امام حسین نے آخر وقت میں یزید کے آدمیوں سے کہا کہ "میں تم سے تین میں سے کسی بھی ایک بات پر راضی ہوں: یا تو میں وہیں واپس چلا جاؤں جہاں سے میں آیا ہوں، یا میں اپنا ہاتھ یزید ابن معاویہ کے ہاتھ پر رکھ دوں، یا مجھے مسلم سرحدوں میں سے کسی سرحد کی طرف جانے دو"۔ اِخْتَارُوا مِنِّي خِصَالًا ثَلَثًا: إِمَّا أَنْ أَرْجِعَ إِلَى الْمَكَانِ الَّذِي أَقْبَلْتُ مِنْهُ، وَإِمَّا أَنْ أَضْعَ يَدِي فِي يَدِ يَزِيدَ ابْنِ مُعَاوِيَةَ فَيَرَى فِيمَا بَيْنِي وَبَيْنَهُ رَأْيَهُ، وَإِمَّا أَنْ تَسِيرُوا بِي إِلَى أَيِّ ثَغْرٍ مِنْ ثُغُرِ الْمُسْلِمِينَ شِتُّمُ"۔ تاریخ الطبری، جلد 5، صفحہ 413۔

مگر یزید کے فوجی تینوں میں سے کسی شرط پر راضی نہیں ہوئے۔ انہوں نے حملے میں پہل کر کے امام حسین کو لڑنے پر مجبور کر دیا۔ چنانچہ دونوں گروہوں کے درمیان جنگ ہوئی۔ اس مقابلے میں اولاً امام حسین کے تمام آدمی کام آئے، اور آخر میں خود امام حسین بھی۔

امام حسین بے حد طاقتور اور بہادر آدمی تھے۔ وہ نہایت بے جگری کے ساتھ لڑتے رہے۔ روایت کے مطابق ان کے جسم پر 33 نیزے کے زخم اور 43 تلوار کے زخم تھے۔ اس کے باوجود وہ شیر کی طرح مقابلہ کرتے رہے۔

آخر میں چند آدمیوں نے بیک وقت آپ پر حملہ کر کے آپ کا خاتمہ کر دیا۔ اس کے بعد آپ کا سر کاٹ کر جدا کیا گیا، اور 12 سوار متعین کیے گئے جو اپنے گھوڑوں کی ٹاپوں سے دیر تک آپ کے جسم کو کچلتے رہے۔ پھر آپ کا سر یزید کے پاس دمشق روانہ کر دیا گیا۔ یزید نے جب آپ کا کٹا ہوا سر دیکھا تو وہ رو پڑا۔

اس نے اپنے آدمیوں کو سخت سرزنش کی اور کہا کہ "میں نے کب یہ حکم دیا تھا کہ تم حسین ابن علی کو قتل کر دو"۔ آخر میں اس نے کہا: "حسین کی ماں میری ماں سے بہتر تھی، اور ان کے نانا تمام انسانوں سے بہتر تھے، مگر میرے اور حسین کے درمیان خلافت کے مسئلے پر نزاع ہوا۔ آخر اللہ نے اس کا فیصلہ ہمارے حق میں کر دیا"۔ امام حسین کے خروج کو اگر یہ حیثیت دی جائے کہ اس کا مقصد اصلاح سیاست تھا، یا یہ کہ وہ خاندانی خلافت کو ختم کر کے شورائی خلافت کا نظام قائم کرنا چاہتے تھے، تو بلاشبہ عملی اعتبار سے ان کا اقدام مکمل طور پر ناکام رہا۔

کیونکہ اس خروج سے نہ تو یزید کا خاتمہ ہوا اور نہ یزیدیت، یعنی خاندانی خلافت کا۔ البتہ کچھ نہایت قیمتی زندگیاں بے فائدہ طور پر ضائع ہو گئیں، حالانکہ کسی اور میدان میں سرگرم ہو کر وہ بڑے بڑے اسلامی کارنامے انجام دے سکتی تھیں۔ کتاب "راہِ عمل" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 31۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.