Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Qususi Shumara-Tareeq ka Mutalaah(Al-Risala September 2020)
Qususi Shumara-Tareeq ka Mutalaah(Al-Risala September 2020)

Daur-e-Amn ki taraf.

Urdu · 4 min

دورِ امن کی طرف: قرآن میں اصحابِ رسول کو ایک حکم ان الفاظ میں دیا گیا تھا: وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّىٰ لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينُ لِلَّهِ فَإِنِ انْتَهَوْا فَلَا عُدْوَانَ إِلَّا عَلَى الضَّالِمِينَ سورہ نمبر 2 آیت 193۔ یعنی: "اور ان سے جنگ کرو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین سب اللہ کا ہو جائے"۔ پھر اگر وہ باز آ جائیں تو اس کے بعد جارحیت نہیں ہے، مگر ظالموں پر۔ قرآن کی اس آیت کے دو حصے ہیں؛ پہلے حصے میں کہا گیا ہے کہ جنگ کرو یہاں تک کہ فتنے کا خاتمہ ہو جائے، دوسرے حصے کے الفاظ یہ ہیں کہ دین اللہ کا ہو جائے۔

اس سے معلوم ہوا کہ پہلے مطلوب کے لیے لڑنا ہوگا، اور دوسرا مطلوب اپنے آپ حاصل ہو جائے گا۔ غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ابتدائی تخلیق کے مطابق انسانی دنیا میں فطری حالت قائم تھی، اور فطری حالت امن کی حالت ہے، لیکن بعد کو ایسا ہوا کہ دنیا میں despotic king کا زمانہ آیا۔ انہوں نے یہ کیا کہ حالتِ فطری کو ختم کر کے اس کی جگہ غیر فطری حالت قائم کر دی، یعنی جبر و تشدد کی حالت۔ یہ حالت اللہ کو منظور نہ تھی، کیونکہ یہ حالت اللہ کے منصوبۂ تخلیق کے خلاف تھی۔

چنانچہ اللہ نے اپنے رسول اور اصحابِ رسول کو یہ حکم دیا کہ جن لوگوں نے انسانی دنیا میں خود ساختہ طور پر تشدد کی حالت قائم کر رکھی ہے، اس کو بزورِ طاقت ختم کر دو، تاکہ دوبارہ دنیا میں حالتِ فطری قائم ہو جائے۔ قدیم زمانے میں مذہبی تشدد، یعنی religious persecution، اسی بنا پر قائم تھا۔ چنانچہ اصحابِ رسول کو اپنے زمانے کے اربابِ اقتدار سے جنگ کرنا پڑا۔ یہی وہ تاریخِ انقلاب ہے جس کی طرف بائبل میں ان الفاظ میں اشارہ کیا گیا ہے: "اس نے نگاہ کی اور قومیں پراگندہ ہو گئیں، ازلی پہاڑ پارہ پارہ ہو گئے، قدیم ٹیلے جھک گئے"۔

حبقوق باب 3 آیت 6۔ یہ واقعہ رسول اور اصحابِ رسول کے ذریعے وقوع پذیر ہوا۔ اصحابِ رسول نے اس وقت کے جبری نظام کا خاتمہ کر دیا۔ اس کے بعد دنیا میں ایک نئے دور کا پروسیس شروع ہو گیا، یعنی جنگ کے دور کا خاتمہ اور امن کے دور کا آغاز۔

تاریخ میں کوئی بڑا واقعہ اچانک نہیں ہوتا، بلکہ وہ تاریخی عمل، یعنی historical process کی صورت میں ابتدائی حالت سے شروع ہو کر تکمیل کی حالت تک پہنچتا ہے۔ تاریخ میں اس دورِ امن کا آغاز اہلِ اسلام نے کیا تھا۔ بعد کے زمانے میں آزادی اور جمہوریت، یعنی freedom and democracy کا جو دور آیا، وہ اسی آغاز کا منتہی، یعنی culmination ہے۔ اکیسویں صدی میں اب ہم اسی دورِ امن میں جی رہے ہیں۔

اب قرآن کے الفاظ میں دین سب کا سب اللہ کے لیے ہو چکا ہے۔ یعنی یہ ممکن ہو گیا ہے کہ پرامن طریقہ کار کو استعمال کرتے ہوئے اپنے مقصد کو نارمل کورس میں حاصل کر لیا جائے۔ الرسالہ ستمبر 2020، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 44۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.