دورِ جنگ کا خاتمہ: دنیا میں قدیم زمانے سے قوموں کے درمیان جنگ کا سلسلہ جاری تھا۔ اس نامتناہی سلسلہ جنگ کا سبب یہ تھا کہ قدیم زمانے میں جنگ اور صلح کی کوئی ایسی معلوم حد موجود نہ تھی جو قوموں کے درمیان تسلیم شدہ ہو۔ اسلام نے صلح حدیبیہ کے بعد اس دورِ صلح کا آغاز کیا۔ اس کے بعد دنیا میں بین الاقوامی سطح پر ایک تاریخی عمل، یعنی ہسٹوریکل پراسس، کا آغاز ہوا۔
اس عمل کا نقطہ انتہا 1945 تھا، جبکہ تمام قوموں کے اتفاق رائے سے اقوام متحدہ یعنی یو این کا قیام عمل میں آیا۔ اقوام متحدہ کے قیام سے بین الاقوامی طور پر ایک مشترک پلیٹ فارم وجود میں آیا، جہاں تمام قوموں کے ذمہ دار نمائندے اکٹھا ہوں اور بااختیار انداز میں اجتماعی فیصلے کریں۔ اس اجتماعی پلیٹ فارم کے ذریعے سلسلے میں پہلا اہم کام یہ ہوا کہ قوموں کی جغرافیائی حدیں متعین ہوئیں۔ یہ حد نیشن اسٹیٹ تھی۔
اس سے یہ طے ہوا کہ ہر قوم کی ایک معلوم حد ہے، اور کسی قوم کو یہ حق نہیں کہ وہ اس معلوم حد کی خلاف ورزی کرے۔ اسی طرح قوموں کے اتفاق رائے سے یہ اصول طے ہوا کہ باہمی اختلافات کا تصفیہ اقوام متحدہ کے تحت امن کی میز پر ہوگا، نہ کہ جنگ کے میدان میں۔ اس طرح دنیا میں پہلی بار یہ ہوا کہ تقریباً 100 قوموں کی جغرافیائی حدیں مقرر ہو گئیں، اور اس طرح جنگ کا خاتمہ ممکن ہوا۔ میں سمجھتا ہوں کہ قرآن کی ایک آیت میں یہ جو الفاظ آئے ہیں، حَتَّى تَضْعَ الْحَرْبُ أَوْذَارَهَا سورہ نمبر 47 آیت 4، یعنی "یہاں تک کہ جنگ اپنے ہتھیار رکھ دے"، اس میں اسی "حَتَّى" یعنی حد کی پیشنگوئی تھی جو 20ویں صدی کے نصفِ آخر میں پوری ہوئی۔
قرآن کی یہ آیت کسی وقتی معاملے کے لیے نہیں ہے، بلکہ وہ ایک مستقل تصفیے کے لیے ہے جو اقوام متحدہ کے ذریعے بین الاقوامی اسٹیج پر طے ہوا۔ اس آیت میں ایک بین الاقوامی پراسس کی تکمیل کا اعلان ہے، نہ کہ ایک وقتی اور محدود معاملے کا۔ یہ آیت ایک تاریخی تکمیل کو بتاتی ہے جس کے بعد پرامن دعوت کے مواقع آخری طور پر کھل گئے۔ اسلام کے ذریعے ایک عالمی عمل جاری ہوا جس کی تکمیل جدید تہذیب کی صورت میں ہوئی، اور رسول اللہ کی پیشنگوئی پوری ہوئی کہ اللہ اس دین کی تائید سیکولر قوموں کے ذریعے کرے گا۔
الرسالہ، ستمبر 2020، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 43۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.