Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Qususi Shumara-Tareeq ka Mutalaah(Al-Risala September 2020)
Qususi Shumara-Tareeq ka Mutalaah(Al-Risala September 2020)

Rasulullah ka Tareeq-e-Kaar.

Urdu · 4 min

رسول اللہ کا طریقِ کار: پرامن منصوبہ بندی کی ایک مثال یہ ہے کہ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے 610 عیسوی میں قدیم مکے میں اپنا مشن شروع کیا۔ آپ کا مشن اللہ کی توحید کا مشن تھا۔ مکے کی عملی صورتحال یہ تھی کہ پیغمبرِ ابراہیم کے بنائے ہوئے مقدس کعبے کو بعد کے لوگوں نے بت پرستی کا مرکز بنا دیا تھا۔ خود کعبے کی عمارت میں تقریباً 360 بت رکھے ہوئے تھے۔

پیغمبرِ اسلام اپنے ابتدائی دور میں 13 سال مکے میں رہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ ان 13 سالوں میں آپ نے کبھی عملی طور پر اس پر احتجاج نہیں کیا کہ تم لوگوں نے پیغمبر ابراہیم کے کعبے کو بتوں کا مرکز کیوں بنا دیا؟ اس کو یہاں سے ہٹاؤ اور دوبارہ اس کو کعبے کے بانی کی بنیاد پر قائم کرو۔ پیغمبرِ اسلام کا یہ عمل ایک غیر معمولی عمل تھا، یعنی کعبے میں بتوں کی موجودگی کو نظرانداز کرتے ہوئے اپنا توحید کا مشن جاری کرنا۔

مگر حدیث کے پورے ذخیرے میں ایسا کوئی حوالہ موجود نہیں کہ اس کا سبب کیا تھا۔ گویا کہ یہ واقعہ ابھی تک بلا توجیہ، یعنی unexplained، پڑا ہوا ہے۔ یقیناً اس واقعے کا کوئی معقول سبب موجود ہوگا۔ جب وہ کتابوں میں لکھا ہوا موجود نہیں ہے تو ہمیں چاہیے کہ ہم اس کو دریافت کریں۔

اس دریافت کے ذریعے جو سبب معلوم ہو، اس کو مبنی بر استنباط سنت کا درجہ دیا جائے گا۔ غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ ڈی لنکنگ پالیسی کی سنت تھی۔ یعنی پیغمبرِ اسلام نے دیکھا کہ کعبے میں بتوں کی موجودگی بلاشبہ ایک غیر مطلوب فعل ہے۔ لیکن ان بتوں کا معاملہ یہ تھا کہ وہ عرب میں پھیلے ہوئے تمام قبائل کے بت تھے۔

ان بتوں کی وجہ سے عرب کے تمام قبائل کے لوگ روزانہ مکہ آتے اور اپنے بتوں کی زیارت کرتے۔ اس بنا پر کعبہ سارے عرب کے لوگوں کا اجتماع گاہ بن گیا تھا۔ یہ اجتماع عملاً پیغمبرِ اسلام کے لیے audience کی حیثیت رکھتا تھا۔ گویا کہ ان بتوں کا ایک پہلو یہ تھا کہ وہ مشرکانہ کلچر کی علامت تھے۔

دوسرا پہلو یہ تھا کہ ان کی وجہ سے پیغمبرِ اسلام کو یہ موقع مل رہا تھا کہ آپ سارے عرب کا سفر کیے بغیر خود مکے میں عرب کے تمام قبائل کو اپنا موحدانہ پیغام پہنچا سکیں۔ چنانچہ آپ نے اس معاملے میں ڈی لنکنگ پالیسی اختیار کی۔ یعنی کعبے میں بتوں کی موجودگی کو نظرانداز کر کے آپ نے زائرین کو لیا اور ان کو خدا کا پیغام براہِ راست طور پر پہنچانا شروع کر دیا۔ اس اصول کو پیغمبرِ اسلام کی اہلیہ عائشہ نے اپنے الفاظ میں اس طرح بیان کیا ہے: ما خُيِّر النبي صلى الله عليه وسلم بين أمرين إلا اختار أيسرهما.

صحیح البخاری، حدیث نمبر 6786۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جب بھی دو طریقوں میں سے ایک طریقے کو اختیار کرنا ہوتا، آپ ہمیشہ ان میں سے آسان طریقے کا انتخاب کرتے تھے۔ اس اصول کی بنیاد پر اگر فارمولا بنایا جائے تو وہ یہ ہوگا: مسئلے کو نظرانداز کرو اور مواقع کو استعمال کرو۔ Ignore the problem, avail the opportunity.

الرسالہ، ستمبر 2020، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 38۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.